(آیت 3) {خَلَقَالْاِنْسَانَ:} یہ بھی لفظ {”اَلرَّحْمٰنُ“} کی خبر ہے اور اسے فعل کی صورت میں لانے سے تخصیص کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ چنانچہ اس آیت میں بھی دو باتیں بیان ہوئی ہیں، ایک یہ کہ رحمان ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے، سو عبادت بھی اس اکیلے کی ہے۔ دوسری انسان کو پیدا کرنے کی نعمت کا بیان ہے۔ زمین و آسمان میں موجود دوسری تمام نعمتوں کا ذکر اس کے بعد فرمایا ہے، کیونکہ وہ سب انسان کی پیدائش کے بعد ہیں، اگر وہ موجود ہی نہ ہو تو کسی نعمت کا اسے کیا فائدہ۔ البتہ تعلیم قرآن کی نعمت کا ذکر اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلانے کے لیے اس سے بھی پہلے فرما دیا۔ ”رحمن ہی نے انسان کو پیدا فرمایا“ یہ ایسی بات نہیں جسے مشرکین نہ مانتے ہوں، مگر اسے صریح لفظوں میں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین فی الحقیقت یہ بات نہیں مانتے، کیونکہ اگر مانتے ہوتے تو کسی غیر کی پرستش کیوں کرتے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 2 یعنی یہ بندر وغیرہ جانوروں سے ترقی کرتے کرتے انسان نہیں بن گئے۔ جیسا کہ ڈارون کا فلسفہ ارتقا ہے۔ بلکہ انسان کو اسی شکل و صورت میں اللہ نے پیدا فرمایا ہے جو جانوروں سے الگ ایک مستقل مخلوق ہے۔ انسان کا لفظ بطور جنس کے ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ انسان کو پیدا [2] کیا
[2] ہر مالک کا اپنے مملوک کو بتانا ضروری ہے کہ وہ اس سے کتنا کام لینا چاہتا ہے لہٰذا قرآن اتارا گیا :۔
اللہ ہی نے انسان کو پیدا کیا تو انسان کی ہدایت بھی اللہ کے ذمہ تھی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن نازل فرما کر اس ذمہ داری کو پورا کر دیا۔ قرآن کا اتارنا اس کی رحمت کا بھی تقاضا تھا اور اس کی خا لقیت کا بھی۔ پھر وہ خالق ہونے کے ساتھ ساتھ مالک بھی ہے اور ہر چیز بشمول انسان اس کی مملوک ہے۔ اور ہر مالک کا اپنے مملوک کو یہ بتانا ضروری ہوتا ہے کہ اس سے وہ کیا کام لینا چاہتا ہے اور کس مقصد کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کو بھی انسانوں کو یہ بتانا ضروری تھا کہ ان کا مقصد حیات کیا ہے؟ اور یہ ضرورت قرآن اتار کر پوری کر دی گئی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔