ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 29

یَسۡـَٔلُہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ﴿ۚ۲۹﴾
اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔ En
آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے
En
سب آسمان وزمین والے اسی سے مانگتے ہیں۔ ہر روز وه ایک شان میں ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ {يَسْـَٔلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یہ ہر چیز کے فانی ہونے اور اللہ تعالیٰ کے باقی ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ باقی ہے، کیونکہ وہ غنی ہے، اپنے وجود یا بقا یا کسی بھی چیز میں کسی دوسرے کا محتاج نہیں، مگر اس کے سوا جو بھی ہے خواہ آسمان ہوں یا زمین یا جو ان دونوں میں ہے، سب اپنے وجود، اپنی بقا اور اپنی ہر ضرورت کے لیے ہر لمحے اس کے محتاج ہیں۔ اپنی ہر ضرورت اسی سے مانگ رہے ہیں، کوئی زبانِ قال سے مانگ رہا ہے، کوئی زبانِ حال سے اور کوئی دونوں سے۔ جس کی زندگی کا ہر لمحہ مانگنے پر موقوف ہے وہ کیا خاک باقی رہے گا۔
➋ { كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ: كُلَّ يَوْمٍ } سے مراد ہر وقت ہے۔ { شَاْنٍ } میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، یعنی وہ ہر لمحے ایک نئی سے نئی شان میں ہے، کسی کو پیدا کر رہا ہے اور کسی کو مار رہا ہے، کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے اور کسی کو شفا بخش رہا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَدُ اللّٰهِ مَلَاٰی لاَ تَغِيْضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَ قَالَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِيْ يَدِهِ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْمِيْزَانُ يَخْفِضُ وَ يَرْفَعُ] [بخاري، التفسیر، سورۃ ہود، باب قولہ: «‏‏‏‏وکان عرشہ علی الماء» : ۴۶۸۴] اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، کسی قسم کا خرچ کرنا اس میں کمی نہیں لاتا، رات دن بے حساب برسنے والا ہے۔ تم نے دیکھا اس نے جب سے آسمان و زمین پیدا کیے، کیا کچھ خرچ کیا، تو اس (خرچ کرنے)نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں ترازو ہے۔ نیچے کرتا ہے اور اونچا کرتا ہے۔ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے { كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ } کی تفسیر کے بیان میں روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مِنْ شَأْنِهٖ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا وَ يُفَرِّجَ كَرْبًا وَ يَرْفَعَ قَوْمًا وَ يَخْفِضَ آخَرِيْنَ] [ابن ماجہ، المقدمۃ، باب فیما أنکرت الجھمیۃ: ۲۰۲، و قال الألباني حسن] اس کی شان سے ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی گناہ بخش رہا ہے، کوئی نہ کوئی مصیبت دور کر رہا ہے اور کسی قوم کو اونچا کر رہا ہے اور کسی کو نیچا کر رہا ہے۔
➌ اس میں یہود کا بھی ردّ ہے جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان پیدا فرمائے اور ہفتہ کے دن آرام کیا۔ فرمایا وہ ہر دن ہی نئی شان میں ہے، اسے نہ تھکاوٹ ہوتی ہے نہ آرام کی ضرورت ہے۔
➍ یونان کے فلسفی آسمانی ہدایت سے محروم تھے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کا وجود ماننے کے باوجود اپنے دیوتاؤں کی گنجائش نکالنے کے لیے ایک قاعدہ وضع کیا، جو یہ تھا کہ ہر محل حوادث حادث ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ قدیم ہے، ہمیشہ سے ہے، اس لیے اس پر حوادث نہیں آ سکتے۔ افسوس! بعض مسلمان متکلمین نے بھی ان کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کر دیا۔ بعض نے تاویل کی اور ایسی تاویل کی جو درحقیقت بدترین تحریف ہے۔ مثلاً اللہ کی صفت کلام ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۶۴] اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔ اور فرمایا: «وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۶] اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَااَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [یٰسٓ: ۸۲] اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ یہ ساری کائنات اس کے کلمۂ کن سے وجود میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کلام کا ہر لفظ حادث ہے، پہلے موجود نہیں ہوتا، پھر وجود میں آتا ہے، اس لیے متکلمین نے اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے، سنتا ہے، اترتا ہے، بلند ہوتا ہے، خوش ہوتا ہے، ناراض ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ صفات اور اس جیسی دوسری صفات اللہ تعالیٰ میں ہمیشہ سے ہیں، ان کی انواع قدیم ہیں مگر افراد حادث ہیں، ان کا اظہار مختلف اوقات میں ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کلام کرتا ہے، نیچے اترتا ہے، بلند ہوتا ہے، پیدا کرتا ہے، مارتا ہے، ہر ایک کو ہر لمحے روزی بخشتا ہے، ہر لمحے ہر ایک کو دیکھتا ہے، اس کی سنتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، مگر یونانی فلسفیوں کی تقلید میں متکلمین نے اللہ تعالیٰ کو سننے، دیکھنے، بولنے، خوش ہونے، ناراض ہونے، غرض اس طرح کی تمام صفات سے عاری قرار دیا۔ اس مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کے سوال کو سنتا ہے اور ہر لمحے نئی سے نئی شان میں ہے؟ اب ہم یونان کے کافر فلاسفر اور ان کے مقلد بعض متکلمین کی بات مانیں کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی نئی شان وارد نہیں ہو سکتی یا اللہ تعالیٰ کی بات پر ایمان رکھیں کہ وہ ہر لمحے ایک نئی سے نئی شان میں ہے؟ ظاہر ہے جس کے دل میں ایمان ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی بات مانے گا، خواہ کوئی فلسفی اسے مانے یا نہ مانے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔ 29۔ 2 ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفایاب، کسی کو تونگر کسی کو فقیر، کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کر رہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کر رہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امرو مشیت سے ہو رہے ہیں اور شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق بھی موجود ہے سب اسی سے [19] (اپنی حاجات) مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز ایک نئی شان میں ہے
[19] اللہ تعالیٰ کے نت نئے کام :۔
بے نیاز فقط اللہ کی ذات ہے باقی تمام مخلوق اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اللہ کی محتاج ہے۔ کوئی اس سے کھانے کو مانگ رہا ہے کوئی پینے کو، کوئی تندرستی کے لیے دعا کرتا ہے اور کوئی اولاد کے لیے۔ کوئی گناہوں سے مغفرت اور ترقی درجات کے لیے اور وہ سب مخلوق کی فریاد سنتا اور ان کی فریاد رسی کر رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر آن یہ کام کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں ہر وقت نئی سے نئی مخلوق کو وجود میں لا رہا ہے جس طرح انسانوں کی پیدائش بڑھ رہی ہے اسی طرح ہر ذی حیات کی نسل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر وہ کائنات میں نئے سے نئے سیارے اور کہکشائیں بھی وجود میں لا رہا ہے۔ غرض ہر روز اس کی ایک نئی آن اور نئی شان ہوتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اللہ تعالیٰ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ وہ بے پایاں جود و کرم کا مالک ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ اس سے اپنی تمام حوائج کے متعلق اپنے حال وقال کے ذریعے سے سوال کرتے ہیں۔ وہ لمحہ بھر بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لیے اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ﴿ كُ٘لَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍ ہر روز (ہر وقت) ایک (نئی) شان میں ہوتا ہے۔ یعنی وہ محتاج کو غنی کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، کسی قوم کو عطا کرتا ہے، کسی کو محروم کرتا ہے، وہ موت دیتا اور زندگی عطا کرتا ہے، وہی کسی کو جھکاتا اور کسی کو بلند کرتا ہے۔ کوئی کام اسے کسی دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا، مسائل اسے کسی غلطی میں مبتلا نہیں کر سکتے، مانگنے والوں کا اصرار کے ساتھ مانگنا اور سوال کرنے والوں کا لمبا چوڑا سوال اسے زچ نہیں کر سکتا۔
پاک ہے وہ ذات جو فضل و کرم کی مالک اور بے حد و حساب عطا کرنے والی ہے جس کی نوازشیں زمین اور آسمان والوں، سب کے لیے عام ہیں۔ اس کا لطف و کرم ہر آن اور ہر لحظہ تمام مخلوق پر سایہ فگن ہے۔ نہایت بلند ہے وہ ہستی جس کو گناہ گاروں کا گناہ اور اس سے اور اس کے کرم سے ناواقف فقراء کا استغنا عطا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ یہ تمام معاملات جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ہر روز کام میں ہوتا ہے، وہ تقادیر اور تدابیر ہیں جن کو اس نے ازل میں مقدر کر دیا تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کوان اوقات میں جن کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے، نافذ کرتا رہتا ہے، یہ اس کے احکام دینی ہیں جو اوامر و نواہی پر مشتمل ہیں اور یہ اس کے احکام کونی و قدری ہیں جن کو وہ اپنے بندوں پر اس وقت تک جاری کرتا رہے گا جب تک کہ ان کا قیام اس دنیا میں ہے۔
جب یہ مخلوقات تمام ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ سب کو فنا کر دے گا اور وہ چاہے گا کہ ان پر اپنے احکام جزائی نافذ کرے، انھیں اپنے عدل و فضل اور بے پایاں احسانات کا مشاہدہ کرائے جن کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں، اس کی توحید بیان کرتے ہیں، وہ مکلفین کو امتحان و ابتلا کے گھر سے ہمیشہ کی زندگی والے گھر میں منتقل کرے گا، تب وہ ان احکام کو نافذ کرنے کے لیے فارغ ہو گا جن کی تنفیذ کا وقت آ پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا درج ذیل ارشاد اسی بات پر دلالت کرتا ہے:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: هو الغنيُّ بذاته عن جميع مخلوقاته، وهو واسعُ الجود والكرم، فكلُّ الخلق مفتقرون إليه، يسألونه جميع حوائجهم بحالهم ومقالهم، ولا يستغنون عنه طرفةَ عينٍ ولا أقلَّ من ذلك، وهو تعالى {كلَّ يوم هو في شأنٍ}: يغني فقيراً ويجبرُ كسيراً ويعطي قوماً، ويمنع آخرينَ، ويميتُ، ويُحيي، ويخفض، ويرفع ، لا يشغلُه شأنٌ عن شأنٍ، ولا تغلِّطُه المسائل، ولا يبرِمُه إلحاح الملحين، ولا طول مسألةِ السائلين. فسبحان الكريم الوهَّاب، الذي عمَّت مواهبه أهل الأرض والسماواتِ، وعمَّ لطفه جميع الخلق في كلِّ الآنات واللحظات، وتعالى الذي لا يمنعه من الإعطاء معصيةُ العاصين ولا استغناءُ الفقراء الجاهلين به وبكرمِهِ.

وهذه الشؤون التي أخبر أنَّه [تعالى] {كلَّ يوم هو في شأنٍ}: هي تقاديره وتدابيره التي قدَّرها في الأزل وقضاها، لا يزال تعالى يمضيها وينفذها في أوقاتها التي اقتضتها حكمته، وهي أحكامُه الدينيَّة التي هي الأمر والنهي، والقدريَّة التي يُجريها على عباده مدَّة مقامهم في هذه الدار، حتى إذا تمَّتْ هذه الخليقة، وأفناهم الله تعالى، وأراد أن ينفِّذَ فيهم أحكام الجزاء ويريهم من عدله وفضله وكثرة إحسانه ما به يعرِفونه ويوحِّدونه؛ نقل المكلَّفين من دار الابتلاء والامتحان إلى دار الحيوان، وفرغ حينئذٍ لتنفيذ هذه الأحكام التي جاء وقتُها، وهو المراد بقولِهِ: