ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 28

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۸﴾
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟ En
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
En
پھرتم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) {فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ:} زمین پر موجود ہر شخص کے فنا میں اللہ تعالیٰ کی قدرت تو ظاہر ہی ہے، اس میں اس کی نعمت بھی ہے،کیونکہ مرنے کے بغیر کوئی شخص اس کی جنت کا وارث نہیں بن سکتااور نہ اس کا دیدار حاصل کر سکتا ہے۔ ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
بے فنائے خود میسر نیست دیدار شما
مے فروشد خویش را اوّل خریدار شما
اپنے فنا کے بغیر تمھارا دیدار میسر نہیں ہوتا، تمھیں خریدنے والے کو پہلے اپنا آپ بیچنا پڑتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی قدرتوں کو جھٹلاؤ گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔