(آیت 17) {رَبُّالْمَشْرِقَيْنِوَرَبُّالْمَغْرِبَيْنِ:} سورج ہمیشہ مشرقی سمت کے درمیان سے طلوع نہیں ہوتا، بلکہ گرمیوں میں اس کا مشرق شمال کی طرف سرکتا جاتا ہے اور سردیوں میں جنوب کی طرف اور ہر روز سورج کے طلوع ہونے کی جگہ الگ ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے سال بھر میں سورج کے ۳۶۵ مشرق ہوتے ہیں، یہی حال اس کے مغربوں کا ہے۔ اس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سورۂ صافات (۵) میں اپنی صفت {”رَبُّالْمَشَارِقِ“} اور سورۂ معارج (۴۰) میں {”بِرَبِّالْمَشٰرِقِوَالْمَغٰرِبِ“} بیان فرمائی ہے۔ یہاں سردی اور گرمی کے آخری دو مقامات کے اعتبار سے {”رَبُّالْمَشْرِقَيْنِوَرَبُّالْمَغْرِبَيْنِ“} فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ صافات (۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 ایک گرمی کا مشرق اور ایک سردی کا مشرق اسی طرح مغرب ہے۔ اس لئے دونوں کو دوگنا ذکر کیا ہے، موسموں کے اعتبار سے مشرق و مغرب کا مختلف ہونا اس میں بھی انس و جن کی بہت سی مصلحتیں ہیں، اس لئے اسے بھی نعمت قرار دیا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ وہ دونوں مشرقوں کا بھی مالک ہے اور دونوں مغربوں [14] کا بھی۔
[14] یہاں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ذکر فرمایا اس لیے کہ اس سورۃ میں مسلسل دو دو چیزوں کا ذکر چل رہا ہے جبکہ سورۃ معارج کی آیت نمبر 40 میں فرمایا کہ وہ بہت سے مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔ دو مشرقوں سے مراد ایک تو وہ مقام ہے جب سورج موسم گرما کے سب سے بڑے دن طلوع ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ مقام ہے جہاں سے سورج، موسم کے سب سے چھوٹے دن طلوع ہوتا ہے۔ اور ان دونوں مقاموں کے درمیان سب مشرق ہی مشرق ہیں۔ ہر روز طلوع آفتاب کے مقام کا ایک نیا زاویہ ہوتا ہے اور یہی حال مغربوں کا ہے۔ اسی تبدیلی سے موسم پیدا ہوتے ہیں اور مختلف موسموں میں مختلف فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں اور ان مشرقوں اور مغربوں کے پیچھے ایک بڑا حیرت انگیز اور پیچیدہ نظام قائم ہے جس کی بنا پر یہ تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور ان کا ذکر پہلے کئی مقامات پر کیا جا چکا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔