ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 16

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۶﴾
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟ En
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
En
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) {فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ:} جن و انس کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ کی قدرت بھی ہے اور ان دونوں پر نعمت بھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 یعنی تمہاری یہ پیدائش بھی اور پھر تم سے مذید نسلوں کی تخلیق و افزائش، یہ اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ کیا تم اس نعمت کا انکار کرو گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ پھر تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تخلیق اور ان کا مادۂ تخلیق بیان فرمایا، یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا تو ارشاد فرمایا: ﴿فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰ٘نِ(اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما بيَّن خَلْقَ الثَّقَلَين ومادة ذلك ، وكان ذلك مِنَّةً منه تعالى عليهم ؛ قال: {فبأيِّ آلاءِ ربِّكما تكذِّبانِ}؟!