ترجمہ و تفسیر — سورۃ القمر (54) — آیت 9

کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ فَکَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَ قَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ وَّ ازۡدُجِرَ ﴿۹﴾
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور انھوں نے کہا دیوانہ ہے اور جھڑک دیا گیا۔ En
ان سے پہلے نوحؑ کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی
En
ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور یہ دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) ➊ {كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ …:} اس سے پہلے جو فرمایا تھا: «‏‏‏‏وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرٌ» تو یہاں سے ان واقعات کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ ان واقعات میں جھٹلانے والوں کے لیے عبرتیں ہیں جنھیں دیکھ کر اور سن کر وہ تکذیب سے باز آ سکتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ ایمان کے لیے تسلی اور حوصلے کا سامان ہے۔ یعنی ان اہلِ مکہ سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم نے انھیں جھٹلایا۔
➋ { وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ: مَجْنُوْنٌ } جسے جنون ہو، پاگل، دیوانہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۲۵) کی تفسیر۔
➌ { وَ ازْدُجِرَ:}يہ { زَجْرٌ} (جھڑکنا) سے باب افتعال کا ماضی مجہول ہے، اصل میں {اُزْتُجِرَ} تھا، جس میں تائے افتعال مبالغہ کے لیے ہے، یعنی اسے سخت جھڑکا گیا۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ نوح علیہ السلام کو سخت جھڑکا گیا، سب و شتم کی بوچھاڑ کی گئی، ان کا مذاق اڑایا گیا اور انھیں دھمکیاں دی گئیں۔ (دیکھیے اعراف: ۶۶۔ ہود: ۳۸۔ شعراء: ۱۱۶) دوسرا مطلب یہ ہے کہ نوح علیہ السلام کی قوم نے کہا کہ یہ مجنون ہے اور اسے ہمارے معبودوں کی جھڑک پڑی ہوئی ہے، جس سے اس کی عقل ٹھکانے نہیں رہی، جیسا کہ ہود علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا: «‏‏‏‏اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ» ‏‏‏‏ [ھود: ۵۴] ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9۔ 1 یعنی قوم نوح نے نوح ؑ کی تکذیب ہی نہیں کی، بلکہ انہیں جھڑکا اور ڈرایا دھمکایا بھی گیا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ ان سے پہلے قوم نوح جھٹلا چکی ہے۔ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلا دیا اور کہنے لگے، ”یہ دیوانہ ہے“ اور اسے جھڑک [10] دیا گیا
[10] سیدنا نوح اور ان کی قوم کا ذکر :۔
وہ دیوانہ تو اس لیے کہتے تھے کہ آپ قوم کی اکثریت کے آبائی عقائد کے خلاف صرف تعلیم ہی نہیں دیتے تھے بلکہ اٹھ بھی کھڑے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ کے چند ساتھیوں کا اس ساری قوم کے خلاف ہونا ہی ان کے نزدیک دیوانگی تھا۔ وہ لوگ کبھی آپ کو سنگسار کرنے کی دھمکی دیتے کبھی قتل کی اور کبھی صرف اس بات پر ڈانٹ پلا دیتے تھے کہ تم اس کام سے باز کیوں نہیں آتے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دیرینہ انداز کفر ٭٭
یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116]‏‏‏‏ ’ اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے ‘، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔