ترجمہ و تفسیر — سورۃ القمر (54) — آیت 7

خُشَّعًا اَبۡصَارُہُمۡ یَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ کَاَنَّہُمۡ جَرَادٌ مُّنۡتَشِرٌ ۙ﴿۷﴾
ان کی نظریں جھکی ہوں گی، وہ قبروں سے نکلیں گے جیسے وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہوں۔ En
تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں
En
یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گویا وه پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) {خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ …: خُشَّعًا خَاشِعٌ} کی جمع ہے، جیسے {رَاكِعٌ} کی جمع {رُكَّعٌ} ہے۔ یعنی ذلت کی وجہ سے ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ (دیکھیے شوریٰ: ۴۵) {الْاَجْدَاثِ جَدَثٌ} (دال کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، قبریں۔ { جَرَادٌ } اسم جمع ہے، اس کا واحد {جَرَادَةٌ} ہے، ٹڈیاں جو بے شمار تعداد میں زمین سے نکلتی ہیں اور ہر طرف پھیل جاتی ہیں۔ { مُنْتَشِرٌ } پھیلی ہوئی۔ قبروں سے نکلنے والوں کی حالت کو یہاں پھیلی ہوئی ٹڈیوں کے ساتھ اور سورۂ قارعہ میں{ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ } بکھرے ہوئے پروانوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ دونوں ہی جب نکلتے ہیں تو بے شمار تعداد میں ایک دوسرے کے گرد اڑتے، گھومتے اور آپس میں ٹکراتے ہوئے تیزی سے بڑھتے چلے جاتے ہیں، پروانے آگ کی طرف اور ٹڈیاں اس طرف جدھر ان کا رخ ہو جائے۔ اسی طرح قبروں سے نکلنے والے تیزی کے ساتھ صُور کی آواز کی طرف بے شمار پھیلی ہوئی ٹڈیوں کی طرح گرتے پڑتے، چکر کھاتے، ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے بے اختیار دوڑتے چلے جا رہے ہوں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 یعنی قبروں سے نکل کر وہ اس طرح پھیلیں گے اور موقف حساب کی طرف اس طرح نہایت تیزی سے جائیں گے، گویا ٹڈی دل ہے جو آنا فانا میں کشادہ فضا میں پھیل جاتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ تو یہ لوگ سہمی سہمی نگاہوں سے اپنی قبروں [8] سے یوں نکل آئیں گے جیسے بکھری ہوئی ٹڈیاں ہوں۔
[8] قبروں سے مراد صرف وہ قبریں نہیں جہاں انہیں دفن کیا گیا تھا۔ ان قبروں کے تو نام و نشان تک باقی نہ رہ جائیں گے۔ بلکہ یہاں قبروں سے مراد وہ مقام ہیں۔ جہاں کسی انسان کے جسم کے ذرات خاک میں ملے ہوئے ہوں گے۔ اور قبروں سے نکلنے کے بعد ان کی نگاہیں سہمی ہونے کی دو وجوہ ہو سکتی ہیں ایک قیامت کے ہولناک مناظر دوسرے ان کی دنیا کی زندگی کی کرتوتیں۔ اسی سہمی ہوئی حالت میں وہ ٹڈی دل کی طرح اس طرف دوڑنا شروع کر دیں گے جدھر سے انہیں پکارا جا رہا ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

معجزات بھی بےاثر ٭٭
رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» ‏‏‏‏ [74-المدثر:9،10]‏‏‏‏ اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔