اس آیت کی تفسیر آیت 52 میں تا آیت 54 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
53۔ 1 یعنی مخلوق کے تمام اعمال، اقوال و افعال لکھے ہوئے ہیں، چھوٹے ہوں یا بڑے، حقیر ہوں یا جلیل۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
53۔ اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی [37] ہوئی موجود ہے۔
[37] اس سے مراد فرشتوں کے تیار کردہ ہر انسان کے اعمال نامے ہیں جن میں ہر انسان کے اقوال و افعال، حرکات و سکنات، لب و لہجہ اور طرز بیان سب کچھ ساتھ ساتھ ہی ثبت ہو رہا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ انسان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس میں درج ہونے سے رہ جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔