(آیت 46){ بَلِالسَّاعَةُمَوْعِدُهُمْ …: ”دَاهِيَةٌ“} بڑی مصیبت کو کہتے ہیں اور {”اَدْهٰى“} زیادہ بڑی مصیبت۔ {”مُرٌّ“} (میم کے ضمہ کے ساتھ) تلخ، کڑوا۔ {”مَرَّيَمُرُّمَرَارَةً“} (ن) کڑوا ہونا۔ {”اَمَرُّ“} اس سے اسم تفضیل ہے، زیادہ تلخ۔ یعنی دنیا میں ہونے والی شکست بھی اگرچہ بڑی مصیبت اور بہت تلخ ہے کہ اس میں قتل، گرفتاری، غلامی، ذلت و رسوائی اور کئی طرح کی سزائیں ہیں، مگر اصل سزا کا وعدہ تو قیامت کے دن ہے اور قیامت دنیا کی مصیبتوں سے کہیں زیادہ بڑی مصیبت اور بہت زیادہ تلخ ہے، کیونکہ دنیا کی مصیبت اور تلخی آخر کار ختم ہونے والی ہے، مگر آخرت کی سزا کبھی ختم ہونے والی نہیں، پھر وہاں کی آگ دنیا کی آگ سے ستر(۷۰) گنا زیادہ سخت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 یعنی دنیا میں جو یہ قتل کئے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی آخری سزا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ بلکہ ان سے (نمٹنے کا اصل) وعدہ تو قیامت ہے اور قیامت بڑی دہشت ناک [32] اور تلخ تر ہے۔
[32] مسلمانوں سے انتقام لینے والی جماعت کو یہ سزا تو دنیا میں ملی اور اصل سزا تو قیامت کو ملنے والی ہے جو اس سزا سے دہشت ناک بھی زیادہ ہو گی اور دردناک بھی زیادہ ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔