ترجمہ و تفسیر — سورۃ القمر (54) — آیت 45

سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَ یُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ ﴿۴۵﴾
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے ۔ En
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے
En
عنقریب یہ جماعت شکست دی جائےگی اور پیٹھ دے کر بھاگے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45) {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ: الْجَمْعُ } پر الف لام عہد خارجی کا ہے، یعنی وہ جماعت جس کاپچھلی آیت کے لفظ { جَمِيْعٌ } میں ذکر ہے۔ اس لیے ترجمہ یہ جماعت کیا گیا ہے۔ یعنی اگر ان کا یہ کہنا ہے تو یاد رکھیں کہ یہ جماعت اپنے خیال میں جتنی بھی زبردست ہو بہت جلد شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ { الدُّبُرَ } کا لفظ واحد ہے، مراد جنس ہے: {أَيْ يُوَلِّيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمْ دُبُرَهُ} یعنی ان میں سے ہر ایک پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ یہ آیات کے آخری حروف کی موافقت کے لیے ہے۔ یہ آیات مکہ میں نازل ہوئیں، جب مسلمان مظلوم و مقہور تھے، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ قریشِ مکہ جیسے قوت و شوکت والے لوگ بھی کسی وقت ان کمزور اور بے بس مسلمانوں سے شکست کھائیں گے اور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ جن مسلمانوں میں سے کچھ جان بچا کر حبش میں پناہ لے چکے تھے، کچھ شعبِ ابی طالب میں محصور تھے اور قریش کے مقاطع اور محاصرے کی وجہ سے بھوکوں مر رہے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق وہ وقت آیا اور فی الواقع تھوڑے ہی عرصے میں بدر و احزاب اور دوسری جنگوں کے موقع پر یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔ بدر کے موقع پر معرکہ برپا ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی، تب صحابہ کو معلوم ہوا کہ یہ وہ ہزیمت تھی جس کی وعید اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو سنائی تھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اَللّٰهُمَّ إِنْ تَشَأْ لاَ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ] اے اللہ! میں تجھے تیرے عہد اور تیرے وعدے کا واسطہ دیتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے (تو اس تھوڑی سی جمعیت کو مٹ جانے کے لیے بے یارومددگار چھوڑ دے، ورنہ اس کی ضرور مدد فرما)۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! بس کیجیے، آپ نے اپنے رب سے نہایت اصرار کے ساتھ دعا کی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زرہ پہنے ہوئے اچھلتے ہوئے نکلے اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے: «‏‏‏‏سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ» ‏‏‏‏ عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: {سیھزم الجمع }: ۴۸۷۵]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

45۔ 1 جماعت سے مراد کفار مکہ ہیں۔ چناچہ بدر میں انہیں شکست ہوئی اور یہ پیٹھ دے کر بھاگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ ان کی یہ جماعت جلد ہی شکست کھا جائے گی اور پیٹھ دکھا کر [31] بھاگ کھڑے ہوں گے۔
[31] ہجرت حبشہ :۔
قیاس یہ ہے کہ یہ سورت سورۃ نجم سے ڈیڑھ دو سال بعد نازل ہوئی۔ نزولی ترتیب کے لحاظ سے سورۃ نجم کا نمبر 23 ہے اور اس کا نمبر 37 ہے۔ اور سورۃ نجم رجب 5 نبوی اور شوال 5 نبوی کے درمیانی عرصہ میں نازل ہوئی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ 7 نبوی میں نازل ہوئی ہو گی۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ کافروں کے ظلم و ستم سے مجبور ہو کر 83 مسلمان مرد اور عورتیں حبشہ کی طرف چلے گئے تھے۔ باقی شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے تھے۔ ان کا معاشرتی بائیکاٹ بھی کر دیا گیا تھا اور معاشی بھی۔ باہر سے ان محصورین تک سخت پابندی بھی لگا دی گئی تھی اور مسلمان بھوک اور افلاس کا شکار ہو رہے تھے۔ بعض دفعہ درختوں کے پتے کھانے تک نوبت آجاتی اور یہ سب ظلم و ستم ڈھانے والے یہی سرداران قریش تھے جنہیں اپنی جمعیت پر ناز تھا کہ اسلام لانے کے جرم کا مسلمانوں سے پوری طرح انتقام لے سکتے ہیں۔ اس سورۃ کی آیت نمبر 44 میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت نمبر 45 میں ایسی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ جس کا اس دور میں تصور بھی ناممکن نظر آتا تھا۔ لیکن اللہ کی تدبیر کے مقابلہ میں دوسروں کی تدبیریں کیسے کارگر ہو سکتی ہیں۔ اس سورۃ کے نزول کے سات ہی سال بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ وہ پیشین گوئی جو ناممکن نظر آرہی تھی جنگ بدر میں ایک ٹھوس حقیقت بن کر سامنے آگئی۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہے۔
یہ پیش گوئی اس وقت کی گئی جب مسلمان شعب ابی طالب میں محصور تھے اور بدر کے دن پوری ہوئی :۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بدر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خیمہ میں مقیم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا فرمائی: ”یا اللہ! میں تجھے تیرے عہد اور وعدہ کی قسم دیتا ہوں، یا اللہ! اگر تو چاہے تو (ان تھوڑے سے مسلمانوں کو ہلاک کر دے) تو پھر آج کے بعد کوئی تیری پرستش کرنے والا نہ رہے گا۔“ پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب بس کیجئے، آپ نے اپنے پروردگار سے التجا کرنے میں حد کر دی۔ آپ اس دن زرہ پہنے ہوئے چل پھر رہے تھے۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے تو یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ [بخاري، كتاب التفسير]
اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ انتقام لینے والے خود اللہ کے انتقام کا شکار ہو گئے۔ ستر بڑے بڑے کافر موت کے گھاٹ اترے اور اتنے ہی بھاگتے بھاگتے گرفتار ہو گئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔