کَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭ بِالنُّذُرِ ﴿۳۳﴾
لوط کی قوم نے ڈرانے والوں کو جھٹلا دیا۔
En
لوط کی قوم نے بھی ڈر سنانے والوں کو جھٹلایا تھا
En
قوم لوط نے بھی ڈرانے والوں کی تکذیب کی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 32 میں تا آیت 34 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ قوم لوط نے بھی ڈرانے والوں کو جھٹلایا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔
پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔
عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔
لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔
جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟
پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔
عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔
لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔
جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭؔ ﴾ جب حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور انھیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے لوط علیہ السلام کی تکذیب کی۔ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے۔ حتیٰ کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانوں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے سنا تو جلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ان کا برا کرے۔ وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کو حکم دیا انھوں نے ان کو اندھا کر ڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا سے ڈرایا ﴿ فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ﴾ ”تو انھوں نے ڈراوے میں شک کیا۔“
﴿ وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُؔكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ ﴾ ”اور یقیناً صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انھیں ہلاک کردیا۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر کے نچلے کو الٹ کر اوپر کر دیا اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کو، ان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے کی عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {كذَّبت قومُ لوط}: لوطاً عليه السلام حين دعاهم إلى عبادة الله وحده لا شريك له ونهاهم عن الشرك والفاحشة التي ما سبقهم بها أحدٌ من العالمين، فكذَّبوه واستمرُّوا على شركهم وقبائحهم، حتى إنَّ الملائكة الذين جاؤوه بصورة أضياف، حين سمع بهم قومُه؛ جاؤوا مسرعين يريدون إيقاع الفاحشة فيهم لعنهم الله وقبَّحهم وراودوه عنهم، فأمر الله جبريل عليه السلام، فطمس أعينهم بجناحه، وأنذرهم نبيُّهم بطشة الله وعقوبته، {فتمارَوْا بالنُّذُر}، {ولقد صبَّحهم بُكرةً عذابٌ مستقرٌّ}: قلب الله عليهم ديارهم، وجعل أسفلها أعلاها، وتتبَّعهم بحجارة من سِجِّيل منضودٍ مسوَّمة عند ربِّك للمسرفين، ونجَّى الله لوطاً وأهله من الكرب العظيم؛ جزاء لهم على شكرهم لربِّهم وعبادته وحدَه لا شريك له.