ترجمہ و تفسیر — سورۃ القمر (54) — آیت 29

فَنَادَوۡا صَاحِبَہُمۡ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ ﴿۲۹﴾
تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس کونچیں کاٹ دیں۔ En
تو ان لوگوں نے اپنے رفیق کو بلایا اور اس نے (اونٹنی کو پکڑ کر اس کی) کونچیں کاٹ ڈالیں
En
انہوں نے اپنے ساتھی کو آواز دی جس نے (اونٹنی پر) وار کیا اور (اس کی) کوچیں کاٹ دیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) {فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ: فَتَعَاطٰى عَطَا يَعْطُوْ عَطْوًا (ن) اَلشَّيْءَ} کسی چیز کو پکڑنا۔ {تَعَاطَي الشَّيْءَ} کسی چیز کو پکڑنا اور { تَعَاطَي الْأَمْرَ } کسی کام کا ذمہ اٹھانا۔ ایک مدت تک یہ ایک دن کی باری کا سلسلہ جاری رہا۔ صالح علیہ السلام نے انھیں تنبیہ کی تھی کہ اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانا، ورنہ تم پر عذاب آ جائے گا۔ ایمان نہ لانے کے باوجود دل سے وہ انھیں سچا جانتے تھے، اس لیے وہ اونٹنی کو نقصان پہنچانے سے خائف تھے، لیکن آخرکار صبر نہ کر سکے اور انھوں نے اس کا قصہ تمام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے لیے انھوں نے اپنے ایک سردار کو ابھارا جسے اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا سب سے شقی آدمی قرار دیا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا» [الشمس: ۱۲] جب اس کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا۔ چنانچہ سب نے مل کر اسے مدد کے لیے پکارا کہ تو بڑا بہادر اور جری ہے۔ اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ مزید دیکھیے سورۂ شمس (۱۱،۱۲) کی تفسیر۔ { فَتَعَاطٰى } کا مفعول محذوف ہے: { أَيْ تَعَاطَي السَّيْفَ} (اس نے تلوار پکڑی) { أَوْ تَعَاطَي الْأَمْرَ} (یا اس نے اس کام کا ذمہ اٹھایا)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی جس کو انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے آمادہ کیا تھا، جس کا نام قدار بن سالف بتلایا جاتا ہے، اس کو پکارا کہ وہ اپنا کام کرے۔ 29۔ 2 یا تلوار یا اونٹنی کو پکڑا اور اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اسے ذبح کردیا۔ بعض نے فَتَعَاطَیٰ کے معنی فَجَسَرَ کئے ہیں، پس اس نے جسارت کی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ آخر انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو پکارا [23] جو اس کے (مارنے کے) درپے ہوا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔
[23] قوم کا ناقۃ اللہ کو زخمی کر دینا :۔
اس اونٹنی کا احترام قوم کے لیے وبال جان بن گیا کیونکہ ان کے اپنے جانوروں کو ایک دن چھوڑ کر کھانے کو چارہ اور پینے کو پانی ملتا تھا۔ مگر وہ اسے ہاتھ لگانے سے ڈرتے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ صالحؑ اگرچہ اکیلے ہیں اور صرف چند کمزور سے آدمی ان کے ساتھ ہیں تاہم کوئی غیبی طاقت ان کی پشت پر موجود ہے لیکن وہ زیادہ دیر صبر نہ کر سکے اور اندر ہی اندر اس اونٹنی کو مار دینے کے مشورے ہوتے رہے۔ بالآخر ایک بد کار عورت نے اپنے آشنا کو اس بات پر آمادہ کر ہی لیا کہ وہ اس اونٹنی کو ہلاک کر دے۔ یہ قوم کا ایک کڑیل مضبوط نوجوان مگر اخلاقی لحاظ سے سب سے زیادہ بد کردار اور بد بخت انسان تھا۔ اس نے اونٹنی کے پاؤں کی رگوں کو کاٹ ڈالا۔ اونٹنی نے ایک چیخ ماری اور دوڑ کر اسی پہاڑ میں غائب ہو گئی جس سے نکلی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔