اس آیت کی تفسیر آیت 18 میں تا آیت 20 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 کہتے ہیں یہ بدھ کی شام تھی، جب اس تند، یخ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل 7 راتیں اور 8 دن چلتی رہی۔ یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند انسانوں کو بھی وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہوجاتے۔ یہ دن ان کے لیے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ کے دن میں یا کسی اور دن میں نحوست ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ مستمر کا مطلب، یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک سب ہلاک نہیں ہوگئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ ہم نے ایک منحوس [18] دن میں ان پر سناٹے کی آندھی چھوڑ دی جو مسلسل چلتی رہی
[18] کیا کوئی دن بذات خود نحس یا سعد ہوتا ہے؟
کہتے ہیں کہ یہ دن ماہ شوال کا آخری بدھ تھا جس سے بعض ضعیف الاعتقاد لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہر مہینہ کا آخری بدھ منحوس دن ہوتا ہے پھر بعض ضعیف اور موضوع روایات کی بنا پر اس عقیدہ پر کئی حاشیے چڑھائے گئے کہ اس دن سفر نہ کرنا چاہئے۔ کاروبار نہ کرنا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ ایسی سب باتیں خرافات ہیں اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں۔ 1۔ اس مقام پر ﴿فِيْيَوْمِنَحْسٍ﴾ کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ سورۃ حٰم السجدہ کی آیت نمبر 16 میں ﴿فِيْٓاَيَّامٍنَّحِسَاتٍ﴾ کے الفاظ مذکور ہیں۔ اور سورۃ الحاقہ میں یہ صراحت ہے کہ یہ عذاب ان پر مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں رہا تھا۔ یعنی بدھ سے عذاب شروع ہوا اور اگلے بدھ تک رہا۔ اس لحاظ سے ہفتہ کے سب ایام ہی نحس ہوئے اور سعد ایک بھی نہ رہا۔ اور اس بات کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ 2۔ ایک ہی دن ایک قوم کے حق میں منحوس ہوتا ہے اور وہی دن دوسری قوم کے حق میں سعد ہوتا ہے۔ مثلاً یہی دن سیدنا ہودؑ اور آپ کے پیروکاروں کے حق میں سعد تھا۔ جنہیں اللہ نے اس مصیبت سے بچا لیا تھا یا مثلاً دس محرم کا دن فرعون اور آل فرعون کے لیے منحوس تھا مگر یہ دن سیدنا موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کے لیے سعد اور انتہائی خوشی کا دن تھا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی دن ایسا پیدا نہیں کیا جو سب کے لیے نحس ہو یا سعد ہو۔ یہ نجومی اور سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات تسلیم کرنے والوں کی تقسیم ہے کہ فلاں دن نحس ہے اور فلاں سعد شریعت ایسی تقسیم کو شرک قرار دیتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔