(آیت 11) {فَفَتَحْنَاۤاَبْوَابَالسَّمَآءِبِمَآءٍمُّنْهَمِرٍ:”مُنْهَمِرٍ“”اِنْهَمَرَيَنْهَمِرُ“} (انفعال) سے اسم فاعل ہے، شدت اور کثرت کے ساتھ گرنے والا پانی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 کہتے ہیں کہ چالیس دن تک مسلسل خوب زور سے پانی برستا رہا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔