ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 62

فَاسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ وَ اعۡبُدُوۡا ﴿٪ٛ۶۲﴾
تو اللہ کو سجدہ کرو اور (اس کی) بندگی کرو۔ En
تو خدا کے آگے سجدہ کرو اور (اسی کی) عبادت کرو
En
اب اللہ کے سامنے سجدے کرو اور (اسی) کی عبادت کرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) ➊ { فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا:} یعنی رسول کے اس ڈرانے کا حق یہ ہے کہ تم اپنا تمام تر تکبر اور غفلت ترک کر کے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ اور اپنے بنائے ہوئے تمام شریکوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کرو۔
➋ یہ سورت مکہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور پہلی سورت ہے جس میں سجدہ کی آیت نازل ہوئی۔ اس کی تاثیر اور زورِ بیان کا یہ عالم ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عام مجمع میں پڑھا، جس میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین بھی موجود تھے تو مسلمانوں کے ساتھ مشرکین بھی بے اختیار سجدے میں گر گئے۔ صحیح بخاری میں اس کے متعلق دو احادیث آئی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [أَوَّلُ سُوْرَةٍ أُنْزِلَتْ فِيْهَا سَجْدَةٌ وَالنَّجْمِ قَالَ فَسَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ مَنْ خَلْفَهُ، إِلاَّ رَجُلاً رَأَيْتُهُ أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَسَجَدَ عَلَيْهِ فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ذٰلِكَ قُتِلَ كَافِرًا، وَهُوَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ] [بخاري، التفسیر، سورۃ النجم، باب: «فاسجدوا للہ واعبدوا» : ۴۸۶۳] پہلی سورت جس میں سجدہ کی آیت نازل ہوئی { وَ النَّجْمِ } تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ کے پیچھے جتنے لوگ تھے سب نے سجدہ کیا، سوائے ایک آدمی کے۔ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے مٹی کی ایک مٹھی پکڑی اور اس پر سجدہ کر لیا۔ پھر میں نے بعد میں دیکھا کہ وہ کافر ہونے کی حالت میں قتل ہوا اور وہ امیہ بن خلف تھا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُوْنَ وَالْمُشْرِكُوْنَ وَالْجِنُّ وَالإِْنْسُ] [بخاري، التفسیر، سورۃ النجم، باب: «‏‏‏‏فاسجدوا للہ واعبدوا» ‏‏‏‏: ۴۸۶۲] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس نے سجدہ کیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 یہ مشرکین اور مکذبین کی توبیخ کے لئے حکم دیا۔ یعنی جب ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قرآن کو ماننے کی بجائے، اس کا مذاق و استخفاف کرتے ہیں اور ہمارے پیغمبر کے وعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہو رہا ہے، تو اے مسلمانو! تم اللہ کی بارگاہ میں جھک کر اور اس کی عبادت و اطاعت کا مظاہرہ کرکے قرآن کی تعظیم و توقیر کا اہتمام کرو۔ چناچہ اس حکم کی تعمیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ نے سجدہ کیا، حتی کہ اس وقت مجلس میں موجود کفار نے بھی سجدہ کیا۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ پس اللہ کے آگے سجدہ [43] کرو اور اسی کی بندگی بجا لاؤ۔
[43] مسلمانوں کے ساتھ کافروں کا بھی سجدہ ریز ہونا :۔
یہ سورت ابتدائی مکی سورتوں سے ہے اور یہ پہلی سورت ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی نیز یہی وہ پہلی سورت ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجمع عام میں اور بعض روایات کے مطابق حرم میں کافروں اور مسلمانوں کے مشترکہ مجمع میں سنایا۔ قرآن کی اثر آفرینی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا پڑھا تو مسلمانوں کے ساتھ کافر بھی بے اختیار سجدہ ریز ہو گئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جو سجدہ والی سورت نازل ہوئی وہ سورۃ النجم تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورۃ میں سجدہ کیا اور آپ کے پیچھے جتنے لوگ بیٹھے تھے (خواہ مسلمان تھے یا مشرک) سب نے سجدہ کیا بجز ایک شخص امیہ بن خلف کے، اس نے مٹھی بھر مٹی لی (منہ سے قریب کی) پھر اس پر سجدہ کیا۔ میں نے دیکھا کہ اس کے بعد یہ شخص کفر کی حالت میں (بدر کے دن) مارا گیا۔ [بخاري، كتاب التفسير] اسی موقعہ سے متعلق مشہور ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات پڑھیں ﴿اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰي وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰي تو شیطان نے آپ کی آواز جیسی آواز میں آگے یہ الفاظ پڑھ دئیے۔ ﴿تِلْكَ الغَرَانِيْقُ العُلٰي وَإنَّ شَفَاعَتُهُنَّ لَتُرْجٰي (یہ تینوں بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت متوقع ہے) اور بعض کے نزدیک یہ واقعہ یوں ہوا کہ جب قریشیوں نے بھی مسلمان کے ساتھ مل کر سجدہ کر لیا تو بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ ہم سے یہ کیا حماقت سرزد ہو گئی تب انہوں نے یہ الفاظ اپنی طرف سے گھڑے اور کہہ دیا کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ سنے تھے اور سمجھے کہ اب وہ بھی ہمارے دین کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اس لیے ہم نے ان کے ساتھ مل کر سجدہ کیا تھا۔ یہ واقعہ جو کچھ بھی تھا، یہ خبر یا افواہ اتنی مشہور ہوئی کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں نے، جنہوں نے رجب 5 نبوی میں ہجرت کی تھی۔ جب ایسی صلح یا سمجھوتے کی خبر سنی تو شوال 5 نبوی میں مکہ واپس آگئے۔ مگر مکہ آکر انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو سب کچھ ایک افسانہ تھا۔ چنانچہ وہ دوبارہ ہجرت کر کے حبشہ کی طرف واپس چلے گئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔