ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 45

وَ اَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰی ﴿ۙ۴۵﴾
اور یہ کہ اسی نے دو قسمیں نر اور مادہ پیدا کیں۔ En
اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے
En
اور یہ کہ اسی نے جوڑا یعنی نر ماده پیدا کیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 44 میں تا آیت 46 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ اور یہ کہ اسی نے نر [32] اور مادہ دونوں قسمیں پیدا کیں
[32] یعنی میاں اور بیوی میں سے ہر ایک کا مادہ منویہ تو ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ مگر کبھی ان کے ملاپ سے اللہ بیٹا بنا دیتا ہے اور کبھی بیٹی۔ یعنی حمل قرار پانے کے بعد رحم مادر میں جنین کی ساخت جسمانی میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا جس سے کوئی جنین نر بن جائے اور کوئی مادہ۔ یہ اللہ ہی کی قدرت ہے۔ اور جو ذات رحم مادر میں ایسی تبدیلی لا سکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اور تمہارا دوبارہ پیدا کرنا اس کے ذمہ ہے اور یہی پہلی بار کی پیدائش کا نتیجہ ہے کیونکہ اس کا کوئی کام بلا مقصد اور بے نتیجہ نہیں ہوا کرتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ اور بلاشبہ اسی نے جوڑے بنائے۔ پھر ان جوڑوں کی تفسیر بیان فرمائی ﴿الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى نر اور مادہ یہ ا سم جنس ہے جو تمام حیوانات، ناطق اور غیر ناطق بہائم سب کو شامل ہے، وہ ان کو پیدا کرنے میں منفرد ہے۔ ﴿مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى نطفے سے جبکہ وہ (رحم میں) ڈالا جاتا ہے۔ یہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کے عظیم غلبہ میں متفرد ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اس نے تمام چھوٹے بڑے حیوانات کو، حقیر پانی کے نہایت کمزور قطرے سے وجود بخشا، پھر ان کو نشوونما دے کر مکمل کیا، حتیٰ کہ وہ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں پہنچے ہوئے ہیں۔ ان حیوانات میں سے آدمی یا تو بلند ترین مقام پر اعلیٰ علیین میں پہنچ جاتا ہے یا وہ ادنیٰ ترین احوال، پست ترین مقامات کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّه خَلَقَ الزوجين}: فسَّرهما بقوله: {الذَّكَر والأنثى}: وهذا اسمُ جنس شامل لجميع الحيوانات ناطقها وبهيمها؛ فهو المنفرد بخلقها {من نُطفةٍ إذا تُمنى}: وهذا من أعظم الأدلَّة على كمال قدرته وانفراده بالعزَّة العظيمة؛ حيث أوجد تلك الحيوانات صغيرها وكبيرها من نطفةٍ ضعيفةٍ من ماءٍ مَهينٍ، ثم نمَّاها وكمَّلها حتى بلغت ما بلغتْ، ثم صار الآدميُّ منها إمَّا إلى أرفع المقامات في أعلى عليين، وإمَّا إلى أدنى الحالات في أسفل سافلين.