مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 42

وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾
اور یہ کہ تیرے رب ہی کی طرف آخر پہنچنا ہے۔
اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے
اور یہ کہ آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42) {وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى:} یعنی ہر شخص نے آخر کار اپنے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏كُلٌّ اِلَيْنَا رٰجِعُوْنَ» [الأنبیاء: ۹۳] سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ایک مطلب اس کا یہ بھی ہے کہ تمام علوم و افکار کا سلسلہ اللہ تعالیٰ پر جا کر ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا (42) فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا (43) اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا» ‏‏‏‏ [النازعات: ۴۲ تا ۴۴] وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے؟ اس کے ذکر سے تو کس خیال میں ہے؟ تیرے رب ہی کی طرف اس (کے علم) کی انتہا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ اور یہ کہ سب کو آپ کے پروردگار ہی کے پاس [30] پہنچنا ہے۔
[30] یعنی ہر شخص کو بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونا ہے اور ہر شخص کے اچھے اور برے اعمال کا منتہیٰ بھی وہی ذات ہے۔ لہٰذا وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بھی اور اثرات کا بھی پورا پورا بدلہ دے دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سب کی آخری منزل اللہ تعالٰی ادراک سے بلند ہے ٭٭
فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا: اے بنی اود! میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے، پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ۔
بغوی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف]‏‏‏‏
جیسے اور حدیث میں ہے { مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو، اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا۔ } ۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف]‏‏‏‏ گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں، مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے، اس میں ہے کہ { شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3276]‏‏‏‏
سنن کی ایک حدیث میں ہے { مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو، سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:134]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت و حیات کا خالق ہے۔
جیسے فرمایا «الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ» ۱؎ [67-الملک:2]‏‏‏‏ ’ اس نے موت و حیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا ‘۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔