مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری

ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 33

اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ تَوَلّٰی ﴿ۙ۳۳﴾
پھر کیا تو نے دیکھا اسے جس نے منہ موڑ لیا۔
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیر لیا
کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے منھ موڑ لیا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 34،33) ➊ { اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى:} اس سورت کا مضمون رسالت کا اثبات، شرک اور بت پرستی کی تردید اور مشرکینِ مکہ کی مذمت ہے۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے پاک ہونے کے گمان اور دعویٰ سے منع فرمایا۔ قریش مکہ اپنے بارے میں کئی طرح کے گمان اور دعوے رکھتے تھے، جنھوں نے انھیں دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر ان کے وہ گمان ذکر فرمائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونے کی وجہ سے اپنی برتری کا گمان تھا، اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو مٹی سے، پھر ماں کے شکم سے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر تقویٰ کو معیارِ فضیلت قرار دیا۔ ایک کام ان کا یہ تھا کہ انھوں نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم، اسمٰعیل علیھما السلام اور دوسرے بزرگوں کی صورتیں رکھ کر ان کی عبادت کر کے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہمارے یہ وکیل اور سفارشی بڑے زبردست ہیں کہ وہ اپنے نام لیواؤں کو، خواہ وہ کچھ بھی کرتے رہیں، اپنے دامن میں پناہ دیں گے۔ (دیکھیے یونس: ۱۸) ایک گمان ان کا یہ تھا کہ کفر کے باوجود انھیں جس طرح دنیا میں نعمتیں ملی ہوئی ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ملیں گی۔ (دیکھیے مریم: ۷۷) اسی طرح وہ دوسروں کو یہ کہہ کر اسلام قبول کرنے سے روکتے تھے کہ تم ہماری راہ پر چلتے رہو، تمھارے گناہ ہم اٹھا لیں گے۔ (دیکھیے عنکبوت: ۱۲) ان سارے دعوؤں اور گمانوں کا نتیجہ یہ تھا کہ آخرت کے عذاب سے بے خوف ہونے کی وجہ سے ان میں دنیا کی شدید ہوس، بخل اور کمینگی آ چکی تھی۔ وہ کچھ خرچ کرتے بھی تھے تو نام و نمود کی خاطر، وہ بھی بس اتنا کہ نام ہو جائے، اس سے آگے ان کے ہاتھ کھلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے اور اتنا خرچ کر کے بھی وہ اپنی سخاوت اور دریا دلی کی لاف زنی کرتے کہ میں نے یہ کر دیا اور وہ کر دیا، جیسا کہ سورۂ بلد میں ہے: «يَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا» ‏‏‏‏ [البلد: ۶] کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال برباد کر ڈالا۔ اپنے آباو اجداد، پیشواؤں، وکیلوں اور سفارشیوں کے بل بوتے پر یہ کہہ کر گناہ کیے جاتے ہیں کہ ہمارے گناہ وہ اٹھا لیں گے، جیسے نصرانیوں کا کہنا ہے کہ ہمارے تمام گناہوں کے کفارہ میں مسیح علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے ہیں، ہم ان کے نام لیوا ہیں، ہمارے سارے گناہ انھوں نے اپنے ذمے لے کر بخشوا لیے ہیں اور جیسا کہ آج کل مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ نے شہادت پا کر اپنے نام لیواؤں کے سارے گناہ بخشوا لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ایسے تمام گمانوں اور دعوؤں کی تردید فرمائی ہے۔
➋ { وَ اَعْطٰى قَلِيْلًا وَّ اَكْدٰى: اَكْدٰى كُدْيَةٌ} سے ہے جس کا معنی چٹان ہے۔ کوئی شخص کنواں وغیرہ کھودنے لگے اور آگے چٹان یا پتھر آ جانے کی وجہ سے کھودنے سے رک جائے تو کہا جاتا ہے: {أَكْدَي الرَّجُلُ۔} یہاں { الَّذِيْ } سے کوئی خاص شخص مراد نہیں، بلکہ مقصود مشرک آدمی کی نفسیات اور طرزِ عمل کا تذکرہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں دینے کا حوصلہ نہیں رکھتے، اگر کبھی دیتے بھی ہیں تو نام کے لیے، وہ بھی تھوڑا سا، پھر ان کے سامنے کنجوسی کی چٹان آ جاتی ہے اور وہ رک جاتے ہیں، خصوصاً جب انھیں اس سے شہرت یا دنیوی مفاد حاصل ہوتا دکھائی نہ دیتا ہو۔ فرمایا کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے حق قبول کرنے سے منہ موڑ لیا، کچھ تھوڑا سا مال خرچ کیا اور رک گیا۔ شاہ عبدالقادر نے فرمایا: یعنی تھوڑا سا ایمان لانے لگا، پھر رک گیا۔ (موضح) اس معنی میں مراد وہ مشرک ہیں جنھوں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن کی تعریف کی، مگر اس کے بعد ایمان لانے سے رک گئے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے روگردانی کی

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔
عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔
فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔
حدیث میں ہے { اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف]‏‏‏‏
خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُالرَّازِقِينَ» ۱؎ [34-سبأ:39]‏‏‏‏ ’ تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ ‘
«وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» ۱؎ [2-البقرة:124]‏‏‏‏، ’ ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ ‘ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔
جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [16-النحل:123]‏‏‏‏ ’ پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ ‘
ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ } ۱؎ [ضعیف جدا]‏‏‏‏
ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ { اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17]‏‏‏‏ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔
جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:18]‏‏‏‏، ’ اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ ‘
ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔
امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (‏‏‏‏رضی اللہ عنہم اجمعین)۔
ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے۱؎ [صحیح مسلم:1631]‏‏‏‏
اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔
خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12]‏‏‏‏، یعنی ’ ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:105]‏‏‏‏، یعنی ’ کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا ‘ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔