اَلَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَۃِ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِکُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَ اِذۡ اَنۡتُمۡ اَجِنَّۃٌ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ ۚ فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی ٪﴿۳۲﴾
وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر صغیرہ گناہ، یقینا تیرا رب وسیع بخشش والا ہے، وہ تمھیں زیادہ جاننے والا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے۔ سو اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو ، وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ کون بچا۔
جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے
ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے۔ بیشک تیرا رب بہت کشاده مغفرت واﻻ ہے، وه تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے۔ پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو، وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 32) ➊ { اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىِٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ شوریٰ (۳۷) کی تفسیر۔
➋ { اِلَّا اللَّمَمَ: ”اَلْإِلْمَامُ“} اور {”اَللَّمَمُ“} کا اصل معنی ”کسی جگہ تھوڑی دیر کے لیے اترنا“ ہے۔ {”أَلَمَّ فُلَانٌ بِالْمَكَانِ“} جب کوئی شخص کسی جگہ تھوڑی دیر کے لیے اترا ہو۔ یعنی بھلائی کرنے والے لوگ جنھیں اللہ بھلائی کے ساتھ جزا دے گا، وہ ہیں جو کبیرہ گناہوں اور فواحش سے بچتے ہیں، مگر کبھی کسی وقت ان سے کوئی گناہ ہو جائے تو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے بلکہ فوراً توبہ کر کے اس سے نکل جاتے ہیں۔ گناہ سے ان کی آلودگی تھوڑی دیر کے لیے ہوتی ہے۔ (دیکھیے نساء: ۱۷،۱۸) طبری نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے: ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی فاحشہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے۔“ {” اللَّمَمَ “} کا معنی ”قریب ہونا“ بھی ہے، {” أَلَمَّ بِالشَّيْءِ إِذَا قَارَبَهُ وَلَمْ يُخَالِطْهُ “} جب کوئی شخص کسی کام کے قریب ہوا ہو، مگر اس نے وہ کام نہ کیا ہو۔ اس لیے اکثر سلف نے {” اللَّمَمَ “} سے مراد صغیرہ گناہ لیے ہیں۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”میں نے {” اللَّمَمَ “} کے مشابہ اس سے زیادہ کوئی چیز نہیں دیکھی جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذٰلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَ زِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنّٰی وَتَشْتَهِيْ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذٰلِكَ كُلَّهُ وَ يُكَذِّبُهُ] [بخاري، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج: ۶۲۴۳] ”اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے لامحالہ اس نے پانا ہی پانا ہے۔ سو آنکھ کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا کرتا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس سب کو سچا کر دکھا تی ہے یا جھوٹا۔ “ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۳۱) کی تفسیر۔
➌ { اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ:} اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے {”رَبٌّ“} کا ذکر کر کے فرمایا کہ تیرا رب وسیع بخشش والا ہے، یعنی اس کی ربوبیت کا نتیجہ ہے کہ وہ بندوں کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور انھیں معاف فرماتا ہے، ورنہ اگر وہ ہر چھوٹے بڑے گناہ پر گرفت فرمائے تو زمین پر کوئی متنفس باقی نہ چھوڑے۔ اس کی مغفرت اتنی وسیع ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کا ہر گناہ حتیٰ کہ کفر و شرک بھی معاف کر دیتا ہے اور جسے چاہے کفر و شرک کے سوا توبہ کے بغیر بھی سب کچھ معاف کر دیتا ہے۔
➍ { هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ …:” اَجِنَّةٌ “ ”جَنِيْنٌ“} کی جمع ہے، بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں رہے، کیونکہ وہ وہاں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی اس کی مغفرت کی یہ وسعت اس کے علم کی وسعت کی وجہ سے ہے، وہ تم سے بھی زیادہ تمھارا علم رکھتا ہے، اسے تمھارا اس وقت کا حال بھی معلوم ہے جب تم اس قابل ہی نہیں تھے کہ کچھ جان سکو۔ چنانچہ وہ تمھارے اس وقت کا بھی علم رکھتا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور اس وقت کا بھی جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی حالت میں تھے۔ اسے تمھاری کمزوری اور گناہ کی طرف رغبت خوب معلوم ہے، اس لیے وہ چھوٹے موٹے گناہوں کو ویسے ہی معاف کر دیتا ہے۔
➎ {فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى:} اس لیے اگر تمھیں کسی اچھے کام کی توفیق مل جائے تو نہ اس پر فخر کرو اور نہ اپنے آپ کو پاک قرار دو۔ ہمیشہ اپنی ابتدا پر نظر رکھو اور اپنی انتہا پر بھی، کیونکہ تمھارا انجام اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اچھا ہے یا برا۔ وہی جانتا ہے کہ حقیقی متقی کون ہے، جس کا خاتمہ تقویٰ پر ہو گا، تو جب تمھیں اپنا انجام ہی معلوم نہیں تو اپنے پاک ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہو؟ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۴۹) کی تفسیر۔
➏ اس حکم کی دھڑلے کے ساتھ مخالفت سب سے زیادہ بعض صوفی حضرات نے کی ہے۔ اس کی واضح دلیل ان کا ”وحدت الوجود“ کا عقیدہ ہے، بھلا جو شخص مردہ مٹی سے بنا، پھر رحم کی تین ظلمتوں میں غلیظ خون کے ساتھ پرورش پاتا رہا اور پیشاب کے راستوں سے دو دفعہ گزر کر وجود میں آیا، جسے اپنے انجام تک کا علم نہیں کہ جنت ہے یا جہنم، اسے خدائی کا دعویٰ کرتے ہوئے حیا نہیں آتی۔ ان لوگوں نے اپنی {” اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰي “} کی فرعونیت کو زہد و تقدس کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔ ان میں سے کوئی کہتا ہے: {”سُبْحَانِيْ مَا أَعْظَمَ شَأْنِيْ“} ”میں پاک ہوں، میری شان کس قدر عظیم ہے۔“ کوئی کہتا ہے: {”مُلْكِيْ أَعْظَمُ مِنْ مُلْكِ اللّٰهِ“} ”میرا ملک اللہ کے ملک سے بڑا ہے۔“ کوئی کہتا ہے: ”میرا دل چاہتا ہے دوزخ کو بجھا دوں، جنت کو جلا دوں۔“ غرض اپنی پاکبازی کے دعوے کے ساتھ جو لاف زنی اور بے ہودہ گوئی یہ لوگ کرتے ہیں آپ کو اور کسی جگہ مشکل سے ملے گی۔
➋ { اِلَّا اللَّمَمَ: ”اَلْإِلْمَامُ“} اور {”اَللَّمَمُ“} کا اصل معنی ”کسی جگہ تھوڑی دیر کے لیے اترنا“ ہے۔ {”أَلَمَّ فُلَانٌ بِالْمَكَانِ“} جب کوئی شخص کسی جگہ تھوڑی دیر کے لیے اترا ہو۔ یعنی بھلائی کرنے والے لوگ جنھیں اللہ بھلائی کے ساتھ جزا دے گا، وہ ہیں جو کبیرہ گناہوں اور فواحش سے بچتے ہیں، مگر کبھی کسی وقت ان سے کوئی گناہ ہو جائے تو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے بلکہ فوراً توبہ کر کے اس سے نکل جاتے ہیں۔ گناہ سے ان کی آلودگی تھوڑی دیر کے لیے ہوتی ہے۔ (دیکھیے نساء: ۱۷،۱۸) طبری نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے: ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی فاحشہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے۔“ {” اللَّمَمَ “} کا معنی ”قریب ہونا“ بھی ہے، {” أَلَمَّ بِالشَّيْءِ إِذَا قَارَبَهُ وَلَمْ يُخَالِطْهُ “} جب کوئی شخص کسی کام کے قریب ہوا ہو، مگر اس نے وہ کام نہ کیا ہو۔ اس لیے اکثر سلف نے {” اللَّمَمَ “} سے مراد صغیرہ گناہ لیے ہیں۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”میں نے {” اللَّمَمَ “} کے مشابہ اس سے زیادہ کوئی چیز نہیں دیکھی جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذٰلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَ زِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنّٰی وَتَشْتَهِيْ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذٰلِكَ كُلَّهُ وَ يُكَذِّبُهُ] [بخاري، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج: ۶۲۴۳] ”اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے لامحالہ اس نے پانا ہی پانا ہے۔ سو آنکھ کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا کرتا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس سب کو سچا کر دکھا تی ہے یا جھوٹا۔ “ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۳۱) کی تفسیر۔
➌ { اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ:} اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے {”رَبٌّ“} کا ذکر کر کے فرمایا کہ تیرا رب وسیع بخشش والا ہے، یعنی اس کی ربوبیت کا نتیجہ ہے کہ وہ بندوں کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور انھیں معاف فرماتا ہے، ورنہ اگر وہ ہر چھوٹے بڑے گناہ پر گرفت فرمائے تو زمین پر کوئی متنفس باقی نہ چھوڑے۔ اس کی مغفرت اتنی وسیع ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کا ہر گناہ حتیٰ کہ کفر و شرک بھی معاف کر دیتا ہے اور جسے چاہے کفر و شرک کے سوا توبہ کے بغیر بھی سب کچھ معاف کر دیتا ہے۔
➍ { هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ …:” اَجِنَّةٌ “ ”جَنِيْنٌ“} کی جمع ہے، بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں رہے، کیونکہ وہ وہاں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی اس کی مغفرت کی یہ وسعت اس کے علم کی وسعت کی وجہ سے ہے، وہ تم سے بھی زیادہ تمھارا علم رکھتا ہے، اسے تمھارا اس وقت کا حال بھی معلوم ہے جب تم اس قابل ہی نہیں تھے کہ کچھ جان سکو۔ چنانچہ وہ تمھارے اس وقت کا بھی علم رکھتا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور اس وقت کا بھی جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی حالت میں تھے۔ اسے تمھاری کمزوری اور گناہ کی طرف رغبت خوب معلوم ہے، اس لیے وہ چھوٹے موٹے گناہوں کو ویسے ہی معاف کر دیتا ہے۔
➎ {فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى:} اس لیے اگر تمھیں کسی اچھے کام کی توفیق مل جائے تو نہ اس پر فخر کرو اور نہ اپنے آپ کو پاک قرار دو۔ ہمیشہ اپنی ابتدا پر نظر رکھو اور اپنی انتہا پر بھی، کیونکہ تمھارا انجام اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اچھا ہے یا برا۔ وہی جانتا ہے کہ حقیقی متقی کون ہے، جس کا خاتمہ تقویٰ پر ہو گا، تو جب تمھیں اپنا انجام ہی معلوم نہیں تو اپنے پاک ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہو؟ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۴۹) کی تفسیر۔
➏ اس حکم کی دھڑلے کے ساتھ مخالفت سب سے زیادہ بعض صوفی حضرات نے کی ہے۔ اس کی واضح دلیل ان کا ”وحدت الوجود“ کا عقیدہ ہے، بھلا جو شخص مردہ مٹی سے بنا، پھر رحم کی تین ظلمتوں میں غلیظ خون کے ساتھ پرورش پاتا رہا اور پیشاب کے راستوں سے دو دفعہ گزر کر وجود میں آیا، جسے اپنے انجام تک کا علم نہیں کہ جنت ہے یا جہنم، اسے خدائی کا دعویٰ کرتے ہوئے حیا نہیں آتی۔ ان لوگوں نے اپنی {” اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰي “} کی فرعونیت کو زہد و تقدس کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔ ان میں سے کوئی کہتا ہے: {”سُبْحَانِيْ مَا أَعْظَمَ شَأْنِيْ“} ”میں پاک ہوں، میری شان کس قدر عظیم ہے۔“ کوئی کہتا ہے: {”مُلْكِيْ أَعْظَمُ مِنْ مُلْكِ اللّٰهِ“} ”میرا ملک اللہ کے ملک سے بڑا ہے۔“ کوئی کہتا ہے: ”میرا دل چاہتا ہے دوزخ کو بجھا دوں، جنت کو جلا دوں۔“ غرض اپنی پاکبازی کے دعوے کے ساتھ جو لاف زنی اور بے ہودہ گوئی یہ لوگ کرتے ہیں آپ کو اور کسی جگہ مشکل سے ملے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
32۔ 1 کبائر، کبیرت کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ زیادہ اہل علم کے نزدیک ہر وہ گناہ کبرہ ہے جس پر جہنم کی وعید ہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسی کبیرہ گناہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیق میں اختلاف کی طرح، اس کی تعداد میں بھی اختلاف ہے، بعض علماء نے انہیں کتابوں میں جمع بھی کیا ہے۔ جیسے کتاب الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ۔ فواحش، فاحشت کی جمع ہے، بےحیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہوگئے ہیں، اس لیے بےحیائی کو، تہذیب، سمجھ لیا گیا، حتی کہ اب مسلمانوں نے بہی اس، تہذیب بےحیائی، کو اپنا لیا ہے۔ چناچہ گھروں میں ٹیوی، وی سی آر وغیرہ عام ہیں، عورتوں نے نہ صرف پردے کو خیرباد کہہ دیا، بلکہ بن سنور کر اور حسن وجمال کا مجسم اشتہار بن کر باہر نکلنے کو اپنا شعار اور وطیرہ بنالیا ہے۔ مخلوط تعلیم، مخلوط ادارے، مخلوط مجلسیں اور دیگر بہت سے موقعوں پر مرد و زن کا بےباکانہ اختلاط اور بےمحابا گفتگو روز افزوں ہے، دراں حالیکہ یہ سب، فواحش، میں داخل ہیں، جن کی بابت یہاں بتلایا جارہا ہے کہ جن لوگوں کی مغفرت ہونی ہے، وہ کبائر فواحش سے اجتناب کرنے والے ہوں گے نہ کہ ان میں مبتلا۔ (2) اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بڑے گناہ کے آغاز کا ارتکاب، لیکن بڑے گناہ سے پرہیز کرنا یا کسی گناہ کا ایک دو مرتبہ کرنا پھر ہمیشہ کے لئے اسے چھوڑ دینا، یا کسی گناہ کا محض دل میں خیال کرنا لیکن عملاً اس کے قریب نہ جانا، یہ سارے صغیرہ گناہ ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کبائر سے اجتناب کی برکت سے معاف فرمادے گا۔ (3) جنین کی جمع ہے جو پیٹ کے بچے کو کہا جاتا ہے، اس لیے کہ یہ لوگوں کی نظروں سے مستور ہوتا ہے۔ (3) یعنی اس سے جب تمہاری کوئی کیفیت اور حرکت مخفی نہیں، حتی کہ جب تم ماں کے پیٹ میں تھے، جہاں تمہیں کوئی دیکھنے پر قادر نہیں تھا، وہاں بھی تمہارے تمام احوال سے واقف تھا، تو بھر اپنی پاکیزگی بیان کرنے کی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کیا ضرورت ہے؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو۔ تاکہ ریاکاری سے تم بچو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
32۔ جو کبیرہ گنا ہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں الا یہ کہ چھوٹے گناہ [22] (ان سے سرزد ہو جائیں) بلا شبہ آپ کے پروردگار کی مغفرت بہت وسیع [23] ہے۔ وہ تمہاری اس حالت کو بھی خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس حالت کو بھی جب تم اپنی ماؤں کے بطنوں میں [24] جنین تھے لہذا تم اپنے پاک ہونے کا دعویٰ نہ کرو۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کون پرہیزگار ہے۔
[22] اس فقرہ کی تشریح و تفسیر کے لیے سورۃ نساء کی آیت نمبر 31 کا حاشیہ 51، 53 ملاحظہ فرمائیے۔ [23] یعنی یہ اس کی مغفرت کی وسعت ہی کا نتیجہ ہے کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہے تو وہ ان گناہوں سے متعلق تمہارے خیالات، ابتدائی اقدامات تمہاری لغزشیں اور آلودگیاں سب کچھ معاف فرما دے گا۔ حالانکہ ان کی تعداد بڑے گناہوں کی نسبت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔
[24] اپنے منہ میاں مٹھو بننا کیوں غلط ہے؟
یعنی کسی بھی شخص کو اپنے تقویٰ اور نیک اعمال پر ناز اور فخر نہیں کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور بزرگ نہ سمجھنا چاہئے بلکہ اسے ابتدائ اپنی پیدائش پر نظر رکھنی چاہئے کہ وہ کن کن حالتوں سے گزر کر اس مقام تک آیا ہے اور کیا وہ حالتیں اس قابل ہیں کہ ان پر فخر کیا جا سکے۔ مٹی کے بعد اس کی پیدائش پانی کے ایک غلیظ اور حقیر قطرہ سے ہوئی پھر وہ ایک مدت اپنی ماں کے پیٹ کی غلاظتوں میں پرورش پاتا رہا۔ اور اب اگر وہ ایمان لے آیا ہے یا کچھ نیک عمل بجا لا چکا ہے تو اسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا کیونکر زیب دیتا ہے۔ پھر اسے یہ بھی معلوم نہیں اور نہ ہی یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہے کہ وہ آئندہ زندگی میں کس قسم کے اعمال کر کے مرنے والا ہے کیونکہ زیادہ تر اعتبار تو انہی اعمال کا ہو سکتا ہے جو اس نے اپنی آخری زندگی میں انجام دیئے ہوں اور اس کے ایسے ہی اعمال پر اس کی اخروی جزا و سزا یا فلاح کا انحصار ہو گا جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے:
1۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ سچے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وعدہ کیا گیا وہ بھی سچا تھا: ” تم میں سے ہر ایک کا مادہ (نطفہ) اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس روز جمع کیا جاتا ہے۔ پھر چالیس دن تک وہ خون کی پھٹکی رہتا ہے۔ پھر چالیس دن تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے اعمال کیسے ہوں گے؟ رزق کتنا ہو گا؟ عمر کتنی ہو گی؟ اور آیا وہ نیک بخت ہو گا یا بد بخت؟ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر (دنیا میں آنے کے بعد) تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو زندگی بھر نیک کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ بہشت اس سے ایک ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جاتی ہے۔ پھر تقدیر کا لکھا اس پر غالب آتا ہے تو وہ کوئی دوزخیوں کا سا کام کر بیٹھتا ہے اور کوئی بندہ زندگی بھر برے کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ دوزخ اس سے ایک ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جاتی ہے پھر تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ بہشتیوں کا سا کام کرتا ہے“ (اور وہ بہشت میں چلا جاتا ہے۔) [بخاري، كتاب بدء الخلق۔ باب ذكر الملائكة]
2۔ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہم جنگ خیبر میں موجود تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ساتھی (قزمان) کے حق میں فرمایا جو اسلام کا دعویٰ کرتا تھا (لیکن حقیقتاً منافق تھا) کہ ”یہ شخص دوزخی ہے“ یہ شخص خوب جم کر لڑا اور زخمی ہوا حتیٰ کہ بعض لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک سے متعلق شک پیدا ہونے لگا۔ پھر لوگوں نے اسے اس حال میں دیکھا کہ جب اسے زخموں سے زیادہ تکلیف ہوئی تو اس نے اپنی ترکش میں ہاتھ ڈال کر ایک تیر نکالا اور اس سے اپنی گردن کو زخمی کر کے خودکشی کر لی۔ یہ صورت حال دیکھ کر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سچی کی۔ اس شخص نے خود کشی سے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اٹھ اور لوگوں میں منادی کر دے کہ ”بہشت میں وہی جائے گا جو مومن ہو گا اور اللہ کی قدرت یہ ہے کہ وہ بد کار آدمی سے بھی اپنے دین کی مدد کرا دیتا ہے۔“ [بخاری، کتاب المغازی۔ باب غزوۃ خیبر]
1۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ سچے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وعدہ کیا گیا وہ بھی سچا تھا: ” تم میں سے ہر ایک کا مادہ (نطفہ) اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس روز جمع کیا جاتا ہے۔ پھر چالیس دن تک وہ خون کی پھٹکی رہتا ہے۔ پھر چالیس دن تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے اعمال کیسے ہوں گے؟ رزق کتنا ہو گا؟ عمر کتنی ہو گی؟ اور آیا وہ نیک بخت ہو گا یا بد بخت؟ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر (دنیا میں آنے کے بعد) تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو زندگی بھر نیک کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ بہشت اس سے ایک ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جاتی ہے۔ پھر تقدیر کا لکھا اس پر غالب آتا ہے تو وہ کوئی دوزخیوں کا سا کام کر بیٹھتا ہے اور کوئی بندہ زندگی بھر برے کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ دوزخ اس سے ایک ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جاتی ہے پھر تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ بہشتیوں کا سا کام کرتا ہے“ (اور وہ بہشت میں چلا جاتا ہے۔) [بخاري، كتاب بدء الخلق۔ باب ذكر الملائكة]
2۔ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہم جنگ خیبر میں موجود تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ساتھی (قزمان) کے حق میں فرمایا جو اسلام کا دعویٰ کرتا تھا (لیکن حقیقتاً منافق تھا) کہ ”یہ شخص دوزخی ہے“ یہ شخص خوب جم کر لڑا اور زخمی ہوا حتیٰ کہ بعض لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک سے متعلق شک پیدا ہونے لگا۔ پھر لوگوں نے اسے اس حال میں دیکھا کہ جب اسے زخموں سے زیادہ تکلیف ہوئی تو اس نے اپنی ترکش میں ہاتھ ڈال کر ایک تیر نکالا اور اس سے اپنی گردن کو زخمی کر کے خودکشی کر لی۔ یہ صورت حال دیکھ کر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سچی کی۔ اس شخص نے خود کشی سے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اٹھ اور لوگوں میں منادی کر دے کہ ”بہشت میں وہی جائے گا جو مومن ہو گا اور اللہ کی قدرت یہ ہے کہ وہ بد کار آدمی سے بھی اپنے دین کی مدد کرا دیتا ہے۔“ [بخاری، کتاب المغازی۔ باب غزوۃ خیبر]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
گناہ اور ضابطہ الہٰی ٭٭
مالک آسمان و زمین، بے پرواہ، مطلق شہنشاہ، حقیقی عادل، خالق، حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا، نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا وہی دے گا۔ اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بتقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا» ۱؎ [4-النساء:31] ’ اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے ‘۔
یہاں بھی فرمایا: مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔
یہاں بھی فرمایا: مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «لَـمَـمَ» کی تفسیر میرے خیال میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقیناً پا کر ہی رہے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2643]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کر دیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:516/11]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «لَـمَـمَ» بوسہ لینا، چھیڑنا، دیکھنا، مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہو گیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہو گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گزر چکا، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:528/11]
شاعر کہتا ہے «إِنْ تَغْفِرْ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمًّا» *** «أَيّ عَبْدٍ لَك مَا أَلَمَّا» اے اللہ! جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے، ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3284،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورۃ تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کر دیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:516/11]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «لَـمَـمَ» بوسہ لینا، چھیڑنا، دیکھنا، مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہو گیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہو گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گزر چکا، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:528/11]
شاعر کہتا ہے «إِنْ تَغْفِرْ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمًّا» *** «أَيّ عَبْدٍ لَك مَا أَلَمَّا» اے اللہ! جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے، ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3284،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورۃ تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے، چوری کے قریب ہو جانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کر کے لوٹ آیا، اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا، یہ سب «المام» ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں“ }۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32569] ایک روایت میں ہے صحابہ رضی اللہ عنہم سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کر دینے والی سے کم ہے، حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کر دی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔
تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہٰ ہے جیسے فرمان ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ’ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے۔ ‘
پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لیے اور ایک جہنم کے لیے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی، عمر، عمل، نیکی، بدی لکھ لی۔
بہت سے بچے پیٹ سے ہی گر جاتے ہیں، بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں، بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کر چکے اور بڑھاپے میں آ گئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے؟
خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ، اپنے آپ سراہنے نہ لگو، جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کر دینے والی سے کم ہے، حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کر دی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔
تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہٰ ہے جیسے فرمان ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ’ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے۔ ‘
پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لیے اور ایک جہنم کے لیے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی، عمر، عمل، نیکی، بدی لکھ لی۔
بہت سے بچے پیٹ سے ہی گر جاتے ہیں، بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں، بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کر چکے اور بڑھاپے میں آ گئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے؟
خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ، اپنے آپ سراہنے نہ لگو، جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے۔
اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم بَلِ اللَّـهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:49] ’ کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا۔‘
محمد بن عمرو بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے۔“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ فرمایا: ”زینب نام رکھو“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2142]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تو نے اس کی گردن ماری، کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہو، میرا گمان فلاں کے بارے میں ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2662]
ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ { ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کر دیں اس پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔“ } ۱؎ [صحیح مسلم:7431]
محمد بن عمرو بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے۔“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ فرمایا: ”زینب نام رکھو“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2142]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تو نے اس کی گردن ماری، کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہو، میرا گمان فلاں کے بارے میں ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2662]
ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ { ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کر دیں اس پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔“ } ۱؎ [صحیح مسلم:7431]