ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 3

وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ﴿۳﴾
اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ En
اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں
En
اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) {وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى:} بھولنے یا جان بوجھ کر غلط راستے پر چلنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی صحیح راستہ بتانے والے کے بجائے اپنے گمان یا خواہشِ نفس پر چل پڑتا ہے۔ مشرکین اور تمام گمراہ لوگوں کی گمراہی کا اصل باعث یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کے بجائے گمان اور اپنی خواہشِ نفس پر چلتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى» [النجم: ۲۳] یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی۔ ہمارا رسول ضلالت و غوایت سے اس لیے محفوظ ہے کہ وہ صرف ہمارے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے، اپنی خواہش اور مرضی سے کوئی کام نہیں کرتا، حتیٰ کہ اپنی خواہش سے بولتا بھی نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ وہ اپنی خواہش نفس سے کچھ بھی نہیں کہتے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى یعنی آپ کا کلام، خواہش نفس سے صادر نہیں ہوتا ﴿ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰؔى یعنی آپ صرف اس چیز کی پیروی کرتے ہیں، جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے، یعنی ہدایت اور اپنے اور دیگر لوگوں کے بارے میں تقویٰ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ سنت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجی ہوئی وحی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ (النساء: 4؍113) اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی۔ نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ اور اس کی شریعت کے بارے میں خبر دینے میں معصوم ہیں، کیونکہ آپ کا کلام کسی خواہش نفس سے صادر نہیں ہوتا یہ تو وحی سے صادر ہوتا ہے جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما ينطِقُ عن الهوى}؛ أي: ليس نطقُه صادراً عن هوى نفسه. {إن هو إلاَّ وحيٌ يُوحى}؛ أي: لا يتَّبع إلاَّ ما أوحي إليه من الهدى والتقوى في نفسه وفي غيره. ودلَّ هذا على أنَّ السنَّة وحيٌ من الله لرسوله - صلى الله عليه وسلم -؛ كما قال تعالى: {وأنزل الله عليك الكتابَ والحكمةَ}. وأنَّه معصومٌ فيما يخبر به عن الله تعالى وعن شرعه؛ لأنَّ كلامه لا يصدُرُ عن هوى، وإنَّما يصدر عن وحي يوحى.