اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ تَسۡمِیَۃَ الۡاُنۡثٰی ﴿۲۷﴾
بے شک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یقینا وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے ناموں کی طرح رکھتے ہیں۔
En
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں
En
بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وه فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 28،27) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ …:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ زخرف (۱۹) کی تفسیر۔
➋ { اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (66،36) کی تفسیر۔
➋ { اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (66،36) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے [18] وہ فرشتوں کو عورتوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
[18] اپنی دیویوں سے متعلق مشرکین مکہ کے عقائد :۔
فرشتے اللہ کی ایسی مخلوق ہے جو اللہ کے حکم سے سرتابی کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتے۔ ان کی اطاعت اضطراری اور اجباری ہے اختیاری نہیں۔ پھر وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن ان مشرکوں نے ان فرشتوں کو خدائی اختیارات سونپ کر ان کی پوجا شروع کر دی۔ دوسرا ستم یہ ڈھایا کہ انہیں اللہ کی اولاد قرار دے دیا اور تیسرا یہ کہ فرشتوں کو مونث سمجھ لیا اور ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں جو ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کر سکتی ہیں اور اگر قیامت فی الواقع ہوئی تھی ہماری سفارش کر کے ہمیں بچا لیں گی۔ پھر انہوں نے ان کے خیالی پتھر کے مجسمے تراش کر انہی کی پوجا شروع کر دی۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ان کا آخرت پر یقین نہیں۔ اور اس دنیا کی زندگی میں ایک کافر و مشرک اور ایک موحد میں کوئی مابہ الامتیاز فرق نہیں ہوتا۔ بیمار مشرک بھی ہوتے ہیں اور موحد بھی۔ خوشحال مشرک بھی ہوتے ہیں اور موحد بھی۔ مصائب و مشکلات مشرکوں پر بھی پڑتی ہیں اور موحدین پر بھی۔ بلکہ موحدین کی دنیا کی زندگی کافر اور مشرکوں کی زندگی سے زیادہ کٹھن ہوتی ہے کیونکہ انہیں حلال و حرام کی اور اللہ تعالیٰ کے دوسرے احکام کی بھی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے مشرکوں کے نزدیک یہ کوئی بڑا اہم اور سنجیدہ مسئلہ نہیں کہ آدمی کسی کو معبود مانے یا نہ مانے یا جتنے اور جس قسم کے چاہے معبود بنا لے۔ اس کے نزدیک حق و باطل کا فیصلہ بس اسی دنیا میں ہوتا ہے اور اس دنیا میں ظاہر ہونے والے نتائج قطعاً یہ فیصلہ نہیں دیتے کہ موحد حق پر ہیں اور مشرک باطل پر۔ لہٰذا یہ بات مشرکوں کی خواہش اور مرضی پر ہی منحصر ہوتی ہے کہ جس چیز کو چاہے معبود بنا لیں اور جتنے چاہیں بنا ڈالیں اور جب چاہیں ایک کو چھوڑ کر دوسری چیز کو اپنا معبود بنا ڈالیں۔ اور جو کچھ یہ کرتے ہیں محض اپنے وہم اور قیاس سے کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شرک و کفر اور توحید کے نتائج کے لیے عالم آخرت بنایا ہے، عالم دنیا نہیں۔ اور یہی عالم آخرت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر اللہ اس دنیا میں ہی موحد اور مشرک کے درمیان واضح اور قطعی نتائج دکھا دیتا تو اس طرح دنیا میں کسی کا امتحان ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ البتہ جو لوگ آخرت پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں وہ شرک کر ہی نہیں سکتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] یعنی ’ اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ ‘
یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے { گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:6066]
جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] یعنی ’ اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ ‘
یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے { گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:6066]
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،]
ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں { «اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،]
ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں { «اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے، انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے جو اللہ تعالیٰ پر عدم ایمان کے سبب سے آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایسے اقوال و افعال کی جسارت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دشمنی پر مبنی ہیں، مثلاً: وہ کہتے ہیں ”فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں“پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کو ولادت سے منزہ قرار دیا نہ انھوں نے فرشتوں کا اکرام کیا اور نہ انھوں نے ان کو مؤنث سے بالاتر سمجھا، حالانکہ انھیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم حاصل ہے نہ اس کے رسول کی طرف سے اور نہ عقل اور فطرت ہی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ بلکہ علم تو ان کے قول کے تناقض پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد اور بیوی سے منزہ ہے۔ کیونکہ وہ اکیلا اور یکتا، متفرد اور بے نیاز ہے۔ اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ وہ جنم دیا گیا ہے اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہی ہے۔
فرشتے اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مکرم بندے ہیں جو اس کی خدمت پر قائم ہیں ﴿ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ﴾ (التحریم: 66؍6) ”اللہ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعني: أنَّ المشركين بالله، المكذِّبين لرسله، الذين لا يؤمنون بالآخرة؛ [و] بسبب عدم إيمانهم بالآخرة؛ تجرَّؤوا على ما تجرؤوا عليه من الأقوال والأفعال المحادَّة لله ولرسوله؛ من قولهم: الملائكة بناتُ الله! فلم ينزِّهوا ربَّهم عن الولادة، ولم يكرِموا الملائكة ويُجِلُّوهم عن تسميتهم إيَّاهم إناثاً، والحال أنَّه ليس لهم بذلك علمٌ لا عن الله ولا عن رسوله ولا دلَّت على ذلك الفطر والعقول، بل العلمُ كلُّه دالٌّ على نقيض قولهم، وأنَّ الله منزَّهٌ عن الأولاد والصاحبة؛ لأنَّه الواحد الأحد، الفرد الصمد، الذي لم يلدْ ولم يولدْ، ولم يكن له كفواً أحدٌ، وأنَّ الملائكة كرامٌ مقرَّبون إلى الله قائمون بخدمته، {لا يعصون الله ما أمَرَهم ويفعلونَ ما يُؤمرون}.