اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے
En
(آیت 26) {وَكَمْمِّنْمَّلَكٍفِيالسَّمٰوٰتِلَاتُغْنِيْشَفَاعَتُهُمْشَيْـًٔا …:} یعنی تمھارے یہ حاجت روا اور مشکل کشا اور فرشتوں کے ناموں پر بنائے ہوئے دیوی دیوتا تو محض تمھارے وہم و گمان کی پیداوار ہیں، حقیقت میں ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ یہاں تو حقیقی فرشتے جو آسمانوں میں رہتے ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہے، ان کا بھی یہ حال ہے کہ ان میں سے کسی کی سفارش کام نہیں آتی، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے اور اسی کو فائدہ دیتی ہے جس کے حق میں سفارش کو اللہ تعالیٰ پسند فرمائے اور اس کے حق میں سفارش کی اجازت دے۔ غرض سفارش کا اختیار بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، فرمایا: «قُلْلِّلّٰهِالشَّفَاعَةُجَمِيْعًا» [الزمر: ۴۴]”کہہ دے سفارش ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“ پھر اسے چھوڑ کر تم کسی اور کو کیوں پکارتے اور پوجتے ہو؟ شفاعت کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۵): «مَنْذَاالَّذِيْيَشْفَعُعِنْدَهٗۤاِلَّابِاِذْنِهٖ» (آیت الکرسی) اور سورۂ نبا (۳۸) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
26۔ 1 یعنی فرشتے، جو اللہ کے مقرب ترین مخلوق ہے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کرسکیں گی؟ جن سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی سفارش کسی کے کچھ [17] بھی کام نہ آئے گی الا یہ کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہے اس فرشتے کو اس کا اذن دے اور وہ سفارش اسے پسند بھی ہو
[17] سفارش کا ضابطہ :۔
تمہارے ان معبودوں کی تو حیثیت ہی کچھ نہیں اگر آسمان کے سارے فرشتے مل کر بھی تمہاری سفارش کریں تو وہ تمہارے کسی کام نہ آسکے گی۔ وجہ یہ ہے کہ سفارش اسی کے حق میں مقبول ہو سکے گی جس کے حق میں اللہ چاہے گا اور اللہ مشرکوں کے حق میں فیصلہ کر چکا ہے کہ انہیں کبھی نہیں بخشے گا تو وہ تمہارے حق میں سفارش کیسے کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں سفارش تو وہ کر سکے گا جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سفارش کرنے کی اجازت ہو گی خواہ یہ انسان ہوں یا فرشتے۔ تمہارے ان پتھر کے معبودوں کی سفارش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جنہیں تم فرشتے اور اللہ کی بیٹیاں قرار دے رہے ہو۔ لہٰذا تمہاری یہ آرزوئیں کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔