ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 24

اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾
یا انسان کے لیے وہ (میسر) ہے جو وہ آرزو کرے۔ En
کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے
En
کیا ہر شخص جو آرزو کرے اسے میسر ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25،24){ اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى…:} یعنی انھوں نے جو آرزوئیں دل میں پال رکھی ہیں کہ ان کے معبود دنیا میں ان کے کام آئیں گے اور آخرت میں انھیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے، یا اگر آخرت قائم ہوئی تو انھیں وہاں بھی وہی آسائشیں ملیں گی جو انھیں دنیا میں میسر ہیں، تو سب سے پہلے یہ سوچیں کہ آیا انسان کی ہر تمنا جو وہ کرے، کیا پوری ہوتی ہے؟
ظاہر ہے ایسا ہرگز نہیں، کیونکہ دنیا کا مالک بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور آخرت کا مالک بھی وہی ہے، اس لیے کسی اور کے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، بلکہ ہوتا وہی ہے جو مالک چاہے۔ پھر انھوں نے ان خود ساختہ معبودوں سے یہ توقع کیسے باندھ لی کہ وہ ان کی تمنائیں پوری کریں گے۔ یہاں تو بڑے سے بڑا شخص بھی خواہ اللہ کا خلیل ہو یا اس کا حبیب، اس کی مرضی کا پابند ہے اور اس کی وہی آرزو پوری ہوتی ہے جو مالک چاہتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے والد کو دیکھ لو، نوح علیہ السلام کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو دیکھ لو، تم پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ کسی بھی شخص کی تمنا وہی پوری ہوتی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کا مالک چاہتا ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
{مَا كُلُّ مَا يَتَمَنَّي الْمَرْء يُدْرِكُهُ
تَجْرِي الرِّيَاحُ بِمَا لَا تَشْتَهِي السُّفُنُ}
ایسا نہیں کہ آدمی جو تمنا کرے اسے حاصل کر ہی لے، کیونکہ بہت دفعہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

24۔ 1 یعنی یہ جو چاہتے ہیں کہ ان کے یہ معبود انہیں فائدہ پہنچائیں اور ان کی سفارش کریں یہ ممکن ہی نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ انسان جیسی بھی آرزو کرے کیا وہ اسے [16] مل جاتی ہے؟
[16] مشرکین مکہ کی آرزو معبود ایسا ہو جو کسی قسم کی بھی پابندیاں نہ لگائے :۔
یعنی تمہاری آرزو یہ ہے کہ تمہارے معبود ایسے ہونے چاہییں جو تم پر کسی قسم کی پابندی نہ لگائیں تو کیا تمہاری یہ آرزو پوری کی جا سکتی ہے؟ یا کیا تمہیں یہ حق حاصل ہے کہ جسے چاہو اپنا معبود بنا لو؟ یا اگر تم نے اپنے معبودوں سے سفارش کی توقع وابستہ کر رکھی ہے تو کیا تمہارے خیال میں یہ پوری کر دی جائے گی؟ جبکہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کلی اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔
پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ ‘ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،]‏‏‏‏
تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255]‏‏‏‏ ’ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔‘ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» ۱؎ [34-سبأ:23]‏‏‏‏ ’ اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ ‘ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔