وَ مَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿۲۰﴾
اور تیسری ایک اور (دیوی) منات کو۔
En
اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں)
En
اور منات تیسرے پچھلے کو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 19 میں تا آیت 21 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
20۔ 1 یہ مشرکین کی توبیخ کے لئے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی یہ تو شان ہے جو مذکور ہوئی کہ جبرائیل ؑ جیسے عظیم فرشتوں کا وہ خالق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اس کے رسول ہیں، جنہیں اس نے آسمان پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ بھی کرایا اور وحی بھی ان پر نازل فرماتا ہے۔ کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو، ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں؟ اس ضمن میں عرب کے تین مشہور بتوں کے نام بطور مثال لیے۔ لات، بعض کے نزدیک یہ لفظ اللہ سے ماخوذ ہے، بعض کے نزدیک لات یلیت سے ہے، جس کے معنی موڑنے کے ہیں، پجاری اپنی گردنیں اس کی طرف موڑتے اور اس کا طواف کرتے تھے۔ اس لیے یہ نام پڑگیا۔ بعض کہتے ہیں، کہ لات میں تا مشدد ہے لت یلت سے اسم فاعل (ستو گھولنے والا) یہ ایک نیک آدمی تھا، حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا، جب یہ مرگیا تو لوگوں نے اس کی قبر کو عبادت گاہ بنالیا، پھر اس کے مجسمے اور بت بن گئے۔ یہ طائف میں بنو ثقیف کا سب سے بڑا بت تھا۔ عزی کہتے ہیں یہ اللہ کے صفاتی نام عزیز سے ماخوذ ہے، اور یہ أعز کی تانیث ہے بمعنی عزیزت بعض کہتے ہیں کہ یہ غطفان میں ایک درخت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی، بعض کہتے ہیں کہ شیطاننی (بھوتنی) تھی جو بعض درختوں میں ظاہر ہوتی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سنگ ابیض تھا جس کو پوجتے تھے۔ یہ قریش اور بنو کنانہ کا خاص معبود تھا۔ منوت، منی یمنی سے ہے جس کے معنی صب (بہانے) کے ہیں۔ اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے لوگ کثرت سے اس کے پاس جانور ذبح کرتے اور انکا خون بہاتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت تھا (فتح القدیر) یہ قدید کے بالمقابل مشلل جگہ میں تھا، بنوخزاعہ کا یہ خاص بت تھا۔ زمانہ جاہلیت میں اوس اور خزرج یہیں سے احرام باندھتے تھے اور اس بت کا طواف بھی کرتے تھے۔ (ایسر التفاسیر وابن کثیر) ان کے علاوہ مختلف اطراف میں اور بھی بہت سے بت اور بت خانے پھیلے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد اور دیگر مواقع پر ان بتوں اور دیگر تمام بتوں کا خاتمہ فرما دیا ان پر جو قبے اور عمارتیں بنی ہوئی تھیں، وہ مسمار کروا دیں، ان درختوں کو کٹوا دیا، جن کی تعظیم کی جاتی تھی اور وہ تمام آثار و مظاہر مٹا ڈالے گئے جو بت پرستی کی یادگار تھے، اس کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد، حضرت علی، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین کو، جہاں جہاں یہ بت تھے، بھیجا اور انہوں نے جاکر ان سب کو ڈھا کر سرزمین عرب سے شرک کا نام مٹا دیا۔ (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ اور ایک تیسری منات [12] پر بھی؟
[12] مشرکین مکہ کی کئی دیویاں لات، عزیٰ اور منات :۔
اب ایسے لا محدود عظمت و جلال والے پروردگار کے مقابلہ میں ذرا ان دیویوں کا ذکر بھی سن لو جن کی اہل عرب پوجا کرتے ہیں۔ لات (الٰہ کا مؤنث) کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنی ثقیف اس کے معتقد تھے۔ عزیٰ (عزیز سے مونث) بمعنی عزت والی یا عزت عطا کرنے والی۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان یا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں حراص کے مقام پر واقع تھا۔ منات کا استھان یا آستانہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بحراحمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ، اوس اور خزرج اس کے معتقد تھے۔ اس کا باقاعدہ حج اور طواف کیا جاتا۔ زمانہ حج میں جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے فارغ ہو جاتے تو وہیں سے منات کی زیارت کے لیے لبیک لبیک کی صدائیں بلند کر دی جاتیں اور جو لوگ اس دوسرے ''حج'' کی نیت کر لیتے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بت کدے کیا تھے؟ ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔
«لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔
اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا { اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3039]
«لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔
اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا { اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3039]
صحیح بخاری میں ہے { جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4860]
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔
{ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4861] اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔
ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔
سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:83/1]
اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ ۱؎ [سنن نسائی:567:حسن]
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔
{ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4861] اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔
ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔
سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:83/1]
اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ ۱؎ [سنن نسائی:567:حسن]
«لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔
«مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔
«ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا
«فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔
قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔
ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔
«ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟‘ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو ‘۔
«مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔
«ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا
«فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔
قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔
ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔
«ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟‘ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو ‘۔