(آیت 42){ اَمْيُرِيْدُوْنَكَيْدًافَالَّذِيْنَكَفَرُوْا …: ”الْمَكِيْدُوْنَ“”كَادَيَكِيْدُكَيْدًا“} سے اسم مفعول ہے، جو کسی کی چال میں آ چکے ہوں۔ یعنی یا وہ آپ کے خلاف کوئی چال چلنا چاہتے ہیں تو سن لیں کہ وہ لوگ جو حق کا انکار کر رہے ہیں، یا اس کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور کئی طرح کی چالیں چل رہے ہیں وہ خود ہی چال میں آنے والے ہیں۔ چنانچہ کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت یا کسی بھی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو بھی سازش کی وہ ناکام ہوئی اور ان کی ہر چال انھی پر الٹی پڑی اور کفر پر اڑنے والے بدر اور دوسرے مواقع پر بری طرح قتل ہوئے۔ سعید روحوں نے اسلام قبول کر لیا اور پورا جزیرۂ عرب اسلام کے زیر نگیں آ گیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
42۔ 1 یعنی ہمارے پیغمبر کے ساتھ، جس سے اس کی ہلاکت واقع ہوجائے۔ 42۔ 1 یعنی کید ومکر ان پر ہی الٹ پڑے گا اور سارا نقصان انہیں کو ہوگا جیسے فرمایا ولا یحیق المکر السیء الا باھلہ چناچہ بدر میں یہ کافر مارے گئے اور بھی بہت سی جگہوں پر ذلت و رسوائی سے دوچار ہوئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
42۔ یا یہ کوئی چال چلنا [36] چاہتے ہیں؟ حالانکہ یہ کافر خود ہی اس چال میں پھنسنے والے ہیں
[36] اگر یہ سب باتیں نہیں تو لامحالہ یہ ان کی فریب کا رانہ چالیں ہیں کہ آپ پر طرح طرح کے الزامات لگا کر لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بد ظن کر دیں اور آپ کی ہمت توڑ دیں۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عنقریب یہ اپنی چالبازیوں، شاطرانہ چالوں اور سازشوں کے جال میں خود پھنس جائیں گے۔ واضح رہے کہ کافروں کے حق میں یہ پیشین گوئی مکی زندگی کے اس دور میں کی گئی جب بیچارے مسلمان کافروں کے ظلم و جور کی چکی میں بری طرح پس رہے تھے اور کسی کو یہ خیال تک بھی نہ آسکتا تھا کہ یہ سارا معاملہ الٹ بھی سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔