(آیت 39) {اَمْلَهُالْبَنٰتُوَلَكُمُالْبَنُوْنَ:} پھر جب انھیں عالمِ بالا تک رسائی نہیں تو انھیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کو کائنات کا نظام چلانے کے لیے اولاد کی ضرورت ہے اور انھوں نے یہ کیسے طے کر دیا کہ اولاد بناتے وقت اس نے اپنے لیے بیٹوں کے بجائے بیٹیوں کا چناؤ کیا ہے اور انھیں بیٹوں کے لیے منتخب کیا ہے؟ حالانکہ یہ لوگ اپنے لیے کبھی بیٹیاں پسند نہیں کرتے۔ دیکھیے سورۂ نحل (۵۷ تا ۶۰) اور سورۂ زخرف (۱۶ تا ۱۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ کیا اس (اللہ) کے لئے تو بیٹیاں [33] ہیں اور تمہارے لیے بیٹے؟
[33] پھر جب انہیں عالم بالا تک رسائی بھی حاصل نہیں تو پھر انہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ کو نظام کائنات چلانے کے لیے اولاد کی ضرورت ہے؟ پھر ان بد بختوں نے اللہ کے لیے اولاد بنا ڈالی اور وہ بھی بیٹے نہیں بلکہ بیٹیاں جنہیں یہ خود سخت ناپسند کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔