ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 37

اَمۡ عِنۡدَہُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمۡ ہُمُ الۡمُصَۜیۡطِرُوۡنَ ﴿ؕ۳۷﴾
یا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں، یا وہی حکم چلانے والے ہیں ؟ En
کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں۔ یا یہ (کہیں کے) داروغہ ہیں؟
En
یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا (ان خزانوں کے) یہ داروغہ ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37) ➊ {اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ …:} یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو کیوں رسول بنایا گیا، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسالت کے لیے کیوں نہ چنا گیا؟ فرمایا، یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو رسول بنا کر بھیجا جائے مالک کا کام ہے۔ اب یہ لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے رسول کا انکار کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو تیرے رب کے خزانوں کے مالک یہ ہیں، جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں، یا یہ کہ مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر اس پر حکم انھی کا چلتا ہے۔اب یہ خود ہی بتائیں کہ ان دونوں میں سے ان کا دعویٰ کیا ہے؟ مزید دیکھیے سورۂ ص(۸ تا ۱۰) اور سورۂ زخرف(۳۱،۳۲)۔ خلاصہ یہ کہ کفار کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار کی کوئی عقلی دلیل نہیں۔
➋ آیت کی تفسیر اس طرح بھی ہو سکتی ہے کہ یا یہ لوگ اس لیے اکیلے رب کی عبادت نہیں کرتے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول نہیں مانتے کہ تیرے رب کے خزانوں کے مالک وہی ہیں، یا ان پر انھی کا حکم چلتا ہے، اس لیے وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں، جو چاہیں کرتے پھریں؟ ظاہر ہے ایسا بھی ہرگز نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

37۔ 1 کہ یہ جس کو چاہیں روزی دیں جس کو چاہیں نہ دیں یا جس کو چاہیں نبوت سے نوازیں۔ 37۔ 2 مصیطر یا مسیطر سَطْرً سے ہے، لکھنے والا، جو محافظ و نگران ہو، وہ چونکہ ساری تفیصلات لکھتا ہے، اس لئے یہ محافظ اور نگران کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی کیا اللہ کے خزانوں یا اس کی رحمتوں پر ان کا تسلط ہے کہ جس کو چاہیں دیں یا نہ دیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ کیا ان کے پاس آپ کے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں؟ یا یہ ان (خزانوں) پر حکم چلانے والے [31] ہیں؟
[31] یہ کافروں کے ایک اعتراض کا جواب ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی بشر کو رسول بنانا تھا تو کیا اسے یہی شخص اس کام کے لیے پسند آیا تھا۔ مکہ اور طائف کے سردار مرگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ کیا اللہ کی رحمت کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا اللہ نے اپنے خزانوں کی تقسیم کا اختیار ان کو دے رکھا ہے کہ جونسی نعمت جسے چاہیں دے دیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْ٘مُصَۜیْطِرُوْنَ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمْ یَقْ٘سِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا (الزحزف:43؍32) کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔ ﴿ اَمْ هُمُ الْ٘مُصَۜیْطِرُوْنَ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أمْ عندَهم خزائنُ ربِّك أم هم المُصَيْطِرونَ}؛ أي: أعند هؤلاء المكذِّبين خزائنُ رحمة ربِّك، فيعطوا من يشاؤون ويمنعوا من يشاؤون ؛ أي: فلذلك حجروا على الله أن يُعطي النبوَّة عبدَه ورسولَه محمداً - صلى الله عليه وسلم -، وكأنَّهم الوكلاء المفوَّضون على خزائن رحمة الله، وهم أحقرُ وأذلُّ من ذلك؛ فليس في أيديهم لأنفسهم نفعٌ ولا ضرٌّ ولا موتٌ ولا حياةٌ ولا نشورٌ؛ {أهم يقسِمونَ رحمةَ ربِّك نحنُ قَسَمْنا بينهم معيشَتَهم في الحياة الدُّنيا}؟ {أم هم المُصَيْطِرُونَ}؛ أي: المتسلِّطون على خلق الله وملكه بالقهر والغلبة؟! ليس الأمر كذلك، بل هم العاجزون الفقراء.