ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 34

فَلۡیَاۡتُوۡا بِحَدِیۡثٍ مِّثۡلِہٖۤ اِنۡ کَانُوۡا صٰدِقِیۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾
پس وہ اس جیسی ایک ہی بات بنا کر لے آئیں، اگر سچے ہیں۔ En
اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا تو لائیں
En
اچھا اگر یہ سچے ہیں تو بھلا اس جیسی ایک (ہی) بات یہ (بھی) تو لے آئیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 34) {فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ:} یعنی اگر یہ اسے رسول کا اپنے پاس سے گھڑا ہوا انسانی کلام سمجھتے ہیں تو وہ بھی اس جیسی ایک بات ہی بنا کر لے آئیں، اگر سچے ہیں۔ آخر وہ بھی اہلِ زبان ہیں، انھیں اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز ہے، پھر انھیں یہ بھی پیش کش ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ساری کائنات کو ساتھ ملا کر اس جیسی ایک بات بنا کر لے آئیں۔ قرآن مجید کے ان مقامات پر بھی نظر ڈال لیں، سورۂ بقرہ (۲۳)، یونس (۳۸)، ہود (۱۳) اور بنی اسرائیل (۸۸)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

34۔ 1 یعنی اگر یہ اپنے دعوے میں سچے ہیں کہ یہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا گھڑا ہوا ہے تو پھر یہ بھی اس جیسی کتاب بنا کر پیش کردیں جو نظم، اعجاز، حسن بیان، حقائق کے مسائل میں اس کا مقابلہ کرسکیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ اگر وہ (ان باتوں میں) سچے ہیں تو پھر اسی جیسا [27] کوئی کلام بنا لائیں
[27] اس کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 29 کا حاشیہ

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّؔثْلِهٖ٘ۤ اِنْ كَانُوْا صٰؔدِقِیْنَ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فَلْيَأتوا بحديثٍ مثلِهِ إنْ كانوا صادقينَ}: إنَّه تقوَّله؛ فإنَّكم العرب الفصحاء والفحول البلغاء، وقد تحدَّاكم أن تأتوا بمثلِهِ؛ فتصدق معارضتكم، أو تقرُّوا بصدقه، وإنكم لو اجتمعتم أنتم والإنس والجنُّ؛ لم تقدروا على معارضته والإتيان بمثله؛ فحينئذٍ أنتم بين أمرين: إمَّا مؤمنون به مقتدون بهديِهِ، وإمَّا معاندون متَّبعون لما علمتُم من الباطل.