(آیت 16) ➊ { اِصْلَوْهَا:} ظاہر ہے وہ یہی کہیں گے کہ پروردگارا! نہ یہ جادو ہے اور نہ اسے دیکھنے سے ہم اندھے ہیں، بس ایک دفعہ ہمیں واپس جانے دے، ہم کبھی انکار نہیں کریں گے۔ (دیکھیے انعام: ۲۷تا۳۰) مگر حکم ہو گا اب اس میں داخلے کے بغیر چارہ نہیں، اسی میں جھلستے رہو۔ ➋ { فَاصْبِرُوْۤااَوْلَاتَصْبِرُوْاسَوَآءٌعَلَيْكُمْ:} یعنی تمھارے لیے صبر کرنا یا نہ کرنا دونوں برابر ہیں، کیونکہ نہ صبر سے تمھارے عذاب میں تخفیف ہوگی اور نہ جزع فزع اور واویلا کرنے سے، کیونکہ اب نہ عذاب میں کمی ہو گی، نہ اس میں وقفہ ہو گا اور نہ اس سے نکل سکو گے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۲)، زخرف (۷۵) اور سورۂ ابراہیم (۲۱)۔ ➌ { اِنَّمَاتُجْزَوْنَمَاكُنْتُمْتَعْمَلُوْنَ:} یعنی جس طرح تم نے طے کر رکھا تھا کہ کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے، اب اس کی جزا یہی ہے کہ کسی صورت آگ سے نکل نہیں سکو گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ اس میں داخل ہو جاؤ، اب تم صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لئے یکساں ہے تمہیں تو ویسا [12] ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم کام کرتے رہے۔
[12] تم نے دنیا میں یہ طے کر لیا تھا کہ جو کچھ بھی ہو ہم کبھی اس دعوت حق کو قبول نہیں کریں گے اور پھر اپنی اس ہٹ دھرمی پر ڈٹ گئے تھے۔ اسی طرح تمہارے عذاب میں کمی نہیں کی جائے گی تم چیخو چلاؤ یا صبر کر کے عذاب برداشت کرتے جاؤ۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔