(آیت 13) {يَوْمَيُدَعُّوْنَاِلٰىنَارِجَهَنَّمَدَعًّا: ”دَعَّيَدُعُّ“} سختی کے ساتھ دھکیلنا۔ {”دَعًّا“} مصدر مجہول برائے تاکید ہے، بری طرح دھکیلا جانا۔ یعنی فرشتے انھیں نہایت سختی کے ساتھ بری طرح دھکیلتے ہوئے جہنم کی آگ کی طرف لے جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ دخان (۴۷)، رحمان (۴۱)، قمر(۴۸) اور سورۂ مومن(۷۰ تا ۷۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 الدَّعُّ کے معنی ہیں نہایت سختی کے ساتھ دھکیلنا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ جس دن انہیں دھکے مار مار [10] کر آتش دوزخ کی طرف چلایا جائے گا
[10]﴿دعَّ﴾ بمعنی دھکے مار کر نکال دینا۔ سختی سے رفع کرنا (فقہ اللغۃ) یعنی کافر جہنم کی طرف جانے کو تیار نہ ہوں گے تو انہیں دھکے مار مار کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔