(آیت 54){ فَتَوَلَّعَنْهُمْفَمَاۤاَنْتَبِمَلُوْمٍ:} یعنی جب وہ سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں اور حق واضح ہونے کے باوجود اسے قبول کرنے پر تیار نہیں تو آپ کی ذمہ داری یہ نہیں کہ انھی کے پیچھے پڑے رہیں، بلکہ آپ ان سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ آپ کا کام حق کا پیغام پہنچا دینا ہے، وہ آپ نے پہنچا دیا، اب اگر وہ اسے قبول نہیں کرتے تو آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ دیکھیے سورۂ شوریٰ (۴۸) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
54۔ 1 یعنی ایک دوسرے کو وصیت تو نہیں کی بلکہ ہر قوم ہی اپنی اپنی جگہ سرکش ہے، اس لئے ان سب کے دل بھی متشابہ ہیں اور ان کے طور اطوار بھی ملتے جھلتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
54۔ پس (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !) آپ ان کی پروا نہ کیجئے۔ آپ پر کوئی الزام نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔