ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 53

اَتَوَاصَوۡا بِہٖ ۚ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
کیا انھوں نے ایک دوسرے کو اس (بات) کی وصیت کی ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ (خود ہی) سرکش لوگ ہیں۔ En
کیا یہ کہ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں
En
کیایہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے گئے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 53) ➊ {اَتَوَاصَوْا بِهٖ: تَوَاصٰي يَتَوَاصٰي تَوَاصِيًا } باب تفاعل میں تشارک پایا جاتا ہے، ایک دوسرے کو وصیت کرنا۔ یعنی جب سب نے ایک ہی بات کہی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ سب ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کر گئے ہیں؟
➋ {بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ:} یعنی یہ تو ممکن نہیں کہ انھوں نے ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کی ہو، کیونکہ ان کے درمیان مدتوں کا فاصلہ ہے، علاقے بھی ایک نہیں، تو اصل بات یہ ہے کہ یہ سرکش لوگ ہیں، پہلے لوگ بھی سرکش تھے اور اپنی خواہشِ نفس پر کوئی پابندی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ دونوں کی سرکشی ان کے لیے رسول کی اطاعت اور حق بات تسلیم کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنی، اس لیے پچھلوں نے بھی وہی بات کہی جو ان کے پہلوں نے کہی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53۔ 1 یعنی ہر بعد میں آنے والی قوم نے اس طرح رسولوں کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ قرار دیا، جیسے پچھلی قومیں بعد میں آنے والی قوم کیلئے وصیت کر کے جاتی رہی ہیں۔ یکے بعد دیگرے ہر قوم نے یہی تکذیب کا راستہ اختیار کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ کیا یہ اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں؟ بلکہ [46] یہ ہیں ہی سرکش لوگ
[46] سب کافروں میں قدر مشترک :۔
ان کے اس کردار کے تسلسل سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم اپنے بعد میں آنے والی قوم کو یہ وصیت کر کے مرتی رہی کہ اگر تمہارے پاس کوئی رسول آئے تو تم بھی اسے ساحر اور مجنون ہی کہنا۔ بات یوں نہیں کہ ان قوموں کے درمیان کافی بعد زمانی یا مکانی پایا جاتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسے سب کافروں میں چند باتیں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہیں اور وہ ہیں آبائی دین سے محبت عصبیت ہٹ دھرمی، اکڑ اور شریعت کی پابندیوں سے آزادی کی خواہش۔ جو انہیں اس بات پر مجبور کر دیتی ہیں کہ پیغمبروں کو ان القاب یا ان جیسے ملتے جلتے القابات سے پکار کر ان کا مذاق اڑائیں۔ اس سے ایک اور اہم بات کا پتہ چلتا ہے کہ نیکی اور بدی، عدل اور ظلم سے متعلق جو محرکات نفس انسان میں بالطبع پائے جاتے ہیں وہ ہر دور میں ایک جیسے رہے ہیں، تبدیلی صرف واقعات میں ہوئی ہے۔ مثلاً جو رقابت سیدنا یوسفؑ کے بھائیوں کو سیدنا یوسف سے تھی وہ آج بھی بھائیوں میں ویسے ہی پائی جاتی ہے اگرچہ حالات اور واقعات مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر دور کے کافروں کا اپنے انبیاء سے مذاق و تمسخر اور القابات ایک ہی جیسے رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے حالات و واقعات مختلف قسم کے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ ۱؎ [31-لقمان:25]‏‏‏‏
اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۱؎ [29-العنکبوت:61]‏‏‏‏ ’ اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ‘، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» } یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔۱؎ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
مسند احمد میں { حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:358/2:صحیح]‏‏‏‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔
{ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی اور فرمایا: سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے۱؎ [مسند احمد:469/3:ضعیف]‏‏‏‏
بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔