(آیت 45){ فَمَااسْتَطَاعُوْامِنْقِيَامٍ …: ”مُنْتَصِرِيْنَ“”اِنْتِصَارٌ“} کے لفظ میں اپنے آپ کو کسی سے بچانے کا مفہوم بھی شامل ہے اور بدلا لینے کا بھی۔ یعنی جب وہ عذاب کے تھپیڑے سے زمین پر گرے تو پھر نہ کسی طرح اٹھ سکے اور نہ اس سے بچاؤ کر سکے، بدلا لینا تو بہت دور کی بات ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
45۔ 1 چہ جائیکہ وہ بھاگ سکیں۔ 45۔ 2 یعنی اللہ کے عذاب سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
45۔ پھر نہ تو ان میں میں کھڑا ہونے کی سکت رہ گئی اور نہ ہی [39] وہ اپنا بچاؤ کر سکے
[39] ﴿انتصر﴾ کے دو مفہوم :۔
یعنی عذاب سے دہشت کا یہ عالم تھا کہ جو بیٹھا تھا اس کو اٹھ کر کھڑا ہونے کی بھی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ کہیں جا کر عذاب سے پناہ لینا تو دور کی بات ہے۔ انتصار کا لفظ دو معنوں میں آتا ہے۔ ایک یہ کہ اگر کوئی حملہ کرے تو اس سے اپنا بچاؤ کرنا اور دوسرا یہ کہ جو حملہ کرے اس سے بدلہ لے لینا۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ یہ قوم بڑے مضبوط جسم والی بڑے ڈیل ڈول والی، اپنی طاقت اور قوت پر فخر و ناز کرنے والی تھی اور ڈھینگیں مارنے والی تھی۔ پھر جب ان پر ہمارا عذاب نازل ہوا تو یہ بدلہ تو نہ لے سکی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں