ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 40

فَاَخَذۡنٰہُ وَ جُنُوۡدَہٗ فَنَبَذۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿ؕ۴۰﴾
پس ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر انھیں سمندر میں پھینک دیا، اس حال میں کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔ En
تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا
En
بالﺂخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو اپنے عذاب میں پکڑ کر دریا میں ڈال دیا وه تھا ہی ملامت کے قابل En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40) {فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ …: أَلَامَ يُلِيْمُ} (افعال) ایسا کام کرنا جس پر ملامت کی جائے۔ { مُلِيْمٌ } مستحق ملامت، ایسا کام کرنے والا جس پر اسے ملامت کی جائے۔ یعنی وہ ایسا ظالم و سرکش تھا کہ اس کے سمندر میں لشکر سمیت غرق ہونے پر کسی نے اس کے حق میں کوئی کلمۂ خیر نہیں کہا، بلکہ ہر شخص کے منہ سے اس کے لیے ملامت اور پھٹکار ہی نکلی، جس نے سنا یہی کہا کہ ان کے ساتھ ایسے ہی ہونا چاہیے تھا۔ خس کم جہاں پاک۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ» [الدخان: ۲۹] پھر نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین۔ سمندر میں پھینکے جانے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۹۰ تا ۹۲)، طٰہٰ (۷۷، 78) اور شعراء (۵۲ تا ۶۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40۔ 1 یعنی اس کے کام ہی ایسے تھے کہ جن پر وہ ملامت ہی کا مستحق تھا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ پھر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور سمندر میں پھینک دیا اور وہ تھا ہی قابل ملامت [34]
[34] یعنی جب یہ ظالم و جابر حکمران اپنے لشکروں سمیت غرق ہو گیا تو کسی نے ان کی تباہی پر آنسو نہ بہائے۔ ہر کوئی انہیں ملامت کرتا اور برے لفظوں سے یاد کرتا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس ملعون سے جان چھوٹی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔