تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَ: ”إِنَّ“} تعلیل کے لیے ہوتا ہے، یعنی یہ نعمت انھیں اس لیے ملے گی کہ وہ اس سے پہلے دنیا میں احسان کرنے والے تھے۔ احسان کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰] ”(احسان یہ ہے) کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، سو اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو یقینا وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ {” مُحْسِنِيْنَ “} کا لفظی معنی {”عَامِلِيْنَ الْحَسَنَاتِ“} ہے، یعنی وہ نیکیاں کرنے والے تھے۔ آگے ان نیکیوں کی کچھ تفصیل ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے۔
دوسرے یہ کہ «اٰخِذِیْنَ» کا لفظ حال ہے، اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے پہلے وہ بھلائی کے کام کرنے والے تھے یعنی دنیا میں جیسے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اور آیتوں میں فرمایا «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24] یعنی ’ دار دنیا میں تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کے بدلے اب تم یہاں شوق سے پاکیزہ و پسندیدہ کھاتے پیتے رہو ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{آخذينَ ما آتاهم ربُّهم}: يُحتملُ أنَّ المعنى أنَّ أهل الجنَّة قد أعطاهم مولاهم جميع مناهم من جميع أصناف النعيم، فأخذوا ذلك راضين به، قد قرَّت به أعينُهم، وفرحتْ به نفوسُهم، ولم يطلبُوا منه بدلاً، ولا يبغون عنه حولاً، وكلٌّ قد ناله من النعيم ما لا يطلب عليه المزيد. ويُحتمل أنَّ هذا وصف المتَّقين في الدُّنيا، وأنَّهم آخذون ما آتاهم الله من الأوامر والنواهي؛ أي: قد تلقَّوها بالرحب وانشراح الصدر، منقادين لما أمر الله به بالامتثال على أكمل الوجوه، ولما نهى عنه بالانزجار عنه لله على أكمل وجه؛ فإنَّ الذي أعطاهم الله من الأوامر والنواهي هو أفضل العطايا التي حقُّها أن تُتَلَقَّى بالشُّكر لله عليها والانقياد.
والمعنى الأول ألصقُ بسياق الكلام؛ لأنَّه ذكر وصفهم في الدُّنيا وأعمالهم بقوله: {إنَّهم كانوا قبل ذلك}: الوقت الذي وصلوا به إلى النعيم {محسنين}: وهذا شاملٌ لإحسانهم بعبادة ربِّهم؛ بأن يعبدوه كأنهم يرونه؛ فإنْ لم يكونوا يرونه؛ فإنَّه يراهم، وللإحسان إلى عباد الله ببذل النفع والإحسان من مال أو علم أو جاهٍ أو نصيحةٍ أوأمرٍ بمعروف أو نهي عن منكرٍ، أو غير ذلك من وجوه البرِّ وطرق الخيرات، حتى إنَّه يدخُلُ في ذلك الإحسان بالقول والكلام الليِّن والإحسان إلى المماليك والبهائم المملوكة وغير المملوكة.