ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 16

اٰخِذِیۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِکَ مُحۡسِنِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾
لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انھیں دے گا، یقینا وہ اس سے پہلے نیکی کرنے والے تھے۔ En
اور) جو جو (نعمتیں) ان کا پروردگار انہیں دیتا ہوگا ان کو لے رہے ہوں گے۔ بےشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے
En
ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وه تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) ➊ {اٰخِذِيْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ:} اس کے لفظی معنی اگرچہ یہی ہیں کہ وہ لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انھیں دے گا مگر موقع و محل کی مناسبت اور { اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ } کے لفظ کے تقاضے سے ظاہر ہے کہ یہاں صرف لینا ہی مراد نہیں بلکہ مراد ان کے رب کا انھیں بے حساب دینا اور ان کا اس سے جی بھر کر خوشی خوشی لینا ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ يَقُوْلُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَقُوْلُوْنَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِيْ يَدَيْكَ، فَيَقُوْلُ هَلْ رَضِيْتُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ وَ مَا لَنَا لاَ نَرْضٰی يَا رَبِّ! وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ؟ فَيَقُوْلُ أَلاَ أُعْطِيْكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ؟ فَيَقُوْلُوْنَ يَا رَبِّ! وَ أَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِكَ؟ فَيَقُوْلُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِيْ فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا] [بخاري، التوحید، باب کلام الرب مع أھل الجنۃ: ۷۵۱۸] اللہ تعالیٰ اہلِ جنت سے کہے گا: اے جنت والو! وہ کہیں گے: ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار! ہم حاضر ہیں اور ساری خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ فرمائے گا: کیا تم راضی ہو گئے؟ وہ کہیں گے: ہمیں کیا ہے کہ ہم راضی نہ ہوں جب کہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں کیا۔ فرمائے گا: کیا میں تمھیں اس سے بھی افضل چیز نہ دوں؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! بھلا اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا: میں تمھیں اپنی رضا اور خوشنودی عطا کرتا ہوں، سو اس کے بعد میں کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔
➋ {اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَ: إِنَّ} تعلیل کے لیے ہوتا ہے، یعنی یہ نعمت انھیں اس لیے ملے گی کہ وہ اس سے پہلے دنیا میں احسان کرنے والے تھے۔ احسان کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰] (احسان یہ ہے) کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، سو اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو یقینا وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ { مُحْسِنِيْنَ } کا لفظی معنی {عَامِلِيْنَ الْحَسَنَاتِ} ہے، یعنی وہ نیکیاں کرنے والے تھے۔ آگے ان نیکیوں کی کچھ تفصیل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ جو کچھ ان کا پروردگار انہیں دے گا وہ لے [9] رہے ہوں گے۔ وہ اس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے
[9] یعنی اللہ تعالیٰ انہیں جو بھی نعمتیں عطا فرمائے گا بخوشی انہیں قبول کرتے جائیں گے اور یہ ان کے ان نیک اعمال کا بدلہ ہو گا جو وہ دنیا میں بجا لاتے رہے۔ ان اعمال کا ذکر آئندہ آیات میں آرہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حسن کارکردگی کے انعامات ٭٭
پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بدکرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الٰہی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔
لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے۔
دوسرے یہ کہ «اٰخِذِیْنَ» کا لفظ حال ہے، اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے پہلے وہ بھلائی کے کام کرنے والے تھے یعنی دنیا میں جیسے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اور آیتوں میں فرمایا «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24]‏‏‏‏ یعنی ’ دار دنیا میں تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کے بدلے اب تم یہاں شوق سے پاکیزہ و پسندیدہ کھاتے پیتے رہو ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ان کا رب انھیں جو کچھ دے گا وہ اسے لے لیں گے۔ اس میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اہل جنت کا آقا، ان کی نعمتوں کے بارے میں تمام آرزوئیں پوری کرے گا اور وہ اپنے آقا سے راضی ہو کر یہ نعمتیں قبول کریں گے، اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے نفوس خوش ہوں گے، وہ ان کو بدلنا چاہیں گے نہ اس سے منتقل ہونے کی خواہش کریں گے۔ (جنت میں) ہر شخص کو اتنی نعمتیں عطا ہوں گی کہ وہ اس سے زیادہ طلب نہیں کرے گا۔
اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ متقین کا یہ وصف دنیا کے اندر ہو، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر جو اوامر و نواہی ان کو عطا کرتا ہے وہ نہایت خوش دلی، انشراح صدر کے ساتھ، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور بہترین طریقے سے ان پر عمل کرتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور جن امور سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا ہے وہ اس سے پوری طرح رک جاتے ہیں۔ پس جن کو اللہ تعالیٰ نے اوامر و نواہی عطا کیے ہیں، یہ سب سے بڑا عطیہ ہے اور اس کا حق یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، اطاعت کے جذبے کے ساتھ قبول کیا جائے۔ پہلا معنی سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (آگے چل کر) ان الفاظ میں دنیاکے اندر ان کے وصف اور ان کے اعمال کا ذکر کیا ہے۔ ﴿ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ یعنی اس وقت سے پہلے، جب انھیں جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی ﴿ مُحْسِنِیْنَ وہ نیکوکار تھے۔
یہ ان کی اپنے رب کی عبادت میں احسان کو شامل ہے یعنی وہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر وہ اسے دیکھنے کی کیفیت پیدا نہ کر سکتے تو یہ کیفیت لیے ہوئے ہوتے تھے کہ ان کا رب انھیں دیکھ رہا ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بھی احسان کو شامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اپنے مال، علم، جاہ، خیر خواہی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، نیکی اور بھلائی کے مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ حتیٰ کہ اس میں نرم کلام، غلاموں، بہائم، مملوکہ اور غیر مملوکہ کے ساتھ حسن سلوک بھی داخل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{آخذينَ ما آتاهم ربُّهم}: يُحتملُ أنَّ المعنى أنَّ أهل الجنَّة قد أعطاهم مولاهم جميع مناهم من جميع أصناف النعيم، فأخذوا ذلك راضين به، قد قرَّت به أعينُهم، وفرحتْ به نفوسُهم، ولم يطلبُوا منه بدلاً، ولا يبغون عنه حولاً، وكلٌّ قد ناله من النعيم ما لا يطلب عليه المزيد. ويُحتمل أنَّ هذا وصف المتَّقين في الدُّنيا، وأنَّهم آخذون ما آتاهم الله من الأوامر والنواهي؛ أي: قد تلقَّوها بالرحب وانشراح الصدر، منقادين لما أمر الله به بالامتثال على أكمل الوجوه، ولما نهى عنه بالانزجار عنه لله على أكمل وجه؛ فإنَّ الذي أعطاهم الله من الأوامر والنواهي هو أفضل العطايا التي حقُّها أن تُتَلَقَّى بالشُّكر لله عليها والانقياد.

والمعنى الأول ألصقُ بسياق الكلام؛ لأنَّه ذكر وصفهم في الدُّنيا وأعمالهم بقوله: {إنَّهم كانوا قبل ذلك}: الوقت الذي وصلوا به إلى النعيم {محسنين}: وهذا شاملٌ لإحسانهم بعبادة ربِّهم؛ بأن يعبدوه كأنهم يرونه؛ فإنْ لم يكونوا يرونه؛ فإنَّه يراهم، وللإحسان إلى عباد الله ببذل النفع والإحسان من مال أو علم أو جاهٍ أو نصيحةٍ أوأمرٍ بمعروف أو نهي عن منكرٍ، أو غير ذلك من وجوه البرِّ وطرق الخيرات، حتى إنَّه يدخُلُ في ذلك الإحسان بالقول والكلام الليِّن والإحسان إلى المماليك والبهائم المملوكة وغير المملوكة.