(آیت 15){ اِنَّالْمُتَّقِيْنَفِيْجَنّٰتٍوَّعُيُوْنٍ:} مکذبین کے بعد متقین کا ذکر فرمایا۔ اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر کی آیت (۴۵) کی تفسیر۔ آیت کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ جنتوں میں داخلے کا سبب تقویٰ ہے، جیسا کہ فرمایا: «تِلْكَالْجَنَّةُالَّتِيْنُوْرِثُمِنْعِبَادِنَامَنْكَانَتَقِيًّا» [مریم: ۶۳]”یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بناتے ہیں جو بہت بچنے والا ہو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ بلا شبہ پرہیزگار (اس دن) باغوں اور چشموں میں ہوں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حسن کارکردگی کے انعامات ٭٭
پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بدکرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الٰہی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔ لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے۔ دوسرے یہ کہ «اٰخِذِیْنَ» کا لفظ حال ہے، اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے پہلے وہ بھلائی کے کام کرنے والے تھے یعنی دنیا میں جیسے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اور آیتوں میں فرمایا «كُلُواوَاشْرَبُواهَنِيئًابِمَاأَسْلَفْتُمْفِيالْأَيَّامِالْخَالِيَةِ»۱؎[69-الحاقة:24] یعنی ’ دار دنیا میں تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کے بدلے اب تم یہاں شوق سے پاکیزہ و پسندیدہ کھاتے پیتے رہو ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔