ترجمہ و تفسیر — سورۃ ق (50) — آیت 6

اَفَلَمۡ یَنۡظُرُوۡۤا اِلَی السَّمَآءِ فَوۡقَہُمۡ کَیۡفَ بَنَیۡنٰہَا وَ زَیَّنّٰہَا وَ مَا لَہَا مِنۡ فُرُوۡجٍ ﴿۶﴾
تو کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کیسے اسے بنایا اور اسے سجایا اور اس میں کوئی درزیں نہیں ہیں۔ En
کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں
En
کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا؟ کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے اور زینت دی ہے اس میں کوئی شگاف نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) ➊ {اَفَلَمْ يَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ:} کفار نے جن چیزوں کو جھٹلایا ان میں سے ایک اہم چیز دوبارہ زندگی تھی، اس لیے یہاں سے اس کے کچھ مزید دلائل بیان فرمائے۔ { اَفَلَمْ يَنْظُرُوْۤا } میں نظر کا معنی اگرچہ غور و فکر بھی ہے، مگر اوّلین معنی دیکھنا ہے اور اس میں زیادہ زور ہے کہ ان مخلوقات کے دوبارہ زندگی پر دلالت کے لیے انھیں صرف آنکھوں کے ساتھ دیکھ لینا ہی کافی ہے۔ یعنی آسمانوں کا بنانا، انھیں ستاروں کے ساتھ سجانا اور زمین کو پیدا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں بنانے والا انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ دوسری جگہ یہی بات زیادہ صریح الفاظ میں بیان فرمائی ہے: «اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيَِۧ الْمَوْتٰى بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ‏‏‏‏ [الأحقاف: ۳۳] اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟ کیوں نہیں! یقینا وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
➋ { فَوْقَهُمْ:} یہ { السَّمَآءِ } سے حال ہے، یعنی ان کے لیے آسمان کو دیکھنا کچھ مشکل نہیں، نہ اس کے لیے کسی سفر کی ضرورت ہے، نہ دوربین یا کسی آلے کی، بس اوپر سر اٹھائیں اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم مخلوق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
➌ { كَيْفَ بَنَيْنٰهَا وَ زَيَّنّٰهَا: السَّمَآءِ } سے مراد پورا عالم بالا ہے، جس میں فضا، چاند، تارے، سورج اور خیمے کی طرح چاروں طرف سے زمین کو گھیرے میں لیے ہوئے نیلا آسمان سبھی کچھ شامل ہے۔ { كَيْفَ } کے ساتھ انھیں بنانے اور مزین کرنے کی کیفیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کی بلندی، ان کی عظمت، ان کی مضبوطی، خوب صورتی اور ان کا کسی بھی خرابی یا خامی سے پاک ہونا سب ایسی چیزیں ہیں جنھیں دیکھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ انھیں بنانے والا ہر چیز پر قادر ہے، وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ پھر آسمان، سورج، چاند اور ستاروں کے اس نظام کو دیکھنے اور ان پر غور و فکر کرنے میں لوگوں کے اپنی عقل اور علم کے لحاظ سے مختلف درجے ہیں، آیت میں تمام طبقات کے لیے ہدایت کی روشنی موجود ہے۔
تفہیم القرآن میں ہے: اس نظام کو آدمی کسی آلے کے بغیر اپنی آنکھ ہی سے دیکھ لے تو اس پر حیرت طاری ہو جاتی ہے، لیکن اگر دور بین لگا لے تو ایک ایسی وسیع و عریض کائنات اس کے سامنے آتی ہے جو ناپیداکنار ہے۔ ہماری زمین سے لاکھوں گنا بڑے سیارے اس کے اندر گیندوں کی طرح گھوم رہے ہیں۔ ہمارے سورج سے ہزاروں درجہ زیادہ روشن تارے اس میں چمک رہے ہیں۔ ہمارا یہ پورا نظام شمسی اس کی صرف ایک کہکشاں (Galaxy) کے ایک کونے میں پڑا ہوا ہے۔ تنہا اسی ایک کہکشاں میں ہمارے سورج جیسے کم از کم تین ارب دوسرے تارے (ثوابت) موجود ہیں اور اب تک کا انسانی مشاہدہ ایسی دس لاکھ کہکشاؤں کا پتا دے رہا ہے۔ ان لاکھوں کہکشاؤں میں سے ہماری قریب ترین ہمسایہ کہکشاں اتنے فاصلے پر واقع ہے کہ اس کی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چل کر دس لاکھ سال میں زمین تک پہنچتی ہے۔ یہ تو کائنات کے صرف اس حصے کی وسعت کا حال ہے جو اب تک انسان کے علم اور مشاہدے میں آئی ہے، خدا کی خدائی کس قدر وسیع ہے اس کا کوئی اندازہ ہم نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ انسان کی معلوم کائنات اس کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہ رکھتی ہو جو قطرے کو سمندر سے ہے۔ اس عظیم کارگاہ ہست و بود کو جو خدا وجود میں لایا ہے اس کے بارے میں زمین پر رینگنے والا یہ چھوٹا سا حیوان ناطق، جس کا نام انسان ہے، اگر یہ حکم لگائے کہ وہ اسے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا تو یہ اس کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے، کائنات کے خالق کی قدرت اس سے کیسے تنگ ہو جائے گی؟
➍ {وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ: فُرُوْجٍ فَرْجٌ} کی جمع ہے، شگاف، دراڑ، درز۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ملک (۳، ۴) کی تفسیر۔ تفہیم القرآن میں ہے: یعنی اپنی اس حیرت انگیز وسعت کے باوجود یہ عظیم الشان نظامِ کائنات ایسا مسلسل اور مستحکم ہے اور اس کی بندش اتنی چست ہے کہ اس میں کسی جگہ کوئی دراڑ یا شگاف نہیں اور اس کا تسلسل کہیں جا کر ٹوٹ نہیں جاتا۔ اس چیز کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ جدید زمانے کے ریڈیائی ہیئت دانوں نے ایک کہکشانی نظام کا مشاہدہ کیا ہے جسے وہ منبع ۳ ج ۲۹۵ (Source3c,285) کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے متعلق ان کا اندازہ یہ ہے کہ اس کی جو شعائیں اب ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ چار ارب سال سے بھی زیادہ مدت پہلے اس میں سے روانہ ہوئی ہوں گی۔ اس بعید ترین فاصلے سے ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا آخر کیسے ممکن ہوتا اگر زمین اور اس کہکشاں کے درمیان کائنات کا تسلسل کسی جگہ سے ٹوٹا ہوا ہوتا اور اس کی بندش میں کہیں شگاف پڑا ہوا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرکے دراصل یہ سوال آدمی کے سامنے پیش کرتا ہے کہ میری کائنات کے اس نظام میں جب تم ایک ذرا سے رخنے کی نشاندہی بھی نہیں کر سکتے تو میری قدرت میں اس کمزوری کا تصور تمھارے دماغ میں کہاں سے آ گیا کہ تمھاری مہلتِ امتحان ختم ہو جانے کے بعد تم سے حساب لینے کے لیے میں تمھیں پھر زندہ کرکے اپنے سامنے حاضر کرنا چاہوں تو نہ کر سکوں گا۔ یہ صرف امکانِ آخرت ہی کا ثبوت نہیں ہے بلکہ توحید کا ثبوت بھی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یعنی بغیر ستون کے، جن کا اسے کوئی سہارا ہو۔ 6۔ 2 یعنی ستاروں سے مزین کیا۔ 6۔ 3 اسی طرح کوئی فرق و تفاوت بھی نہیں ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ ۝ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ ۝) 67۔ الملک:4-3)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کس طرح اسے بنایا [7] اور آراستہ کیا اور اس میں کوئی شگاف (بھی) نہیں
[7] اثبات توحید اور بعث بعد الموت کے دلائل :۔
اس آیت سے توحید کے دلائل اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بیان کا آغاز ہوتا ہے۔ آسمان سے مراد وہ نیلگوں چھت ہے جوہر انسان کو برہنہ آنکھ سے دیکھنے پر کروی شکل میں اپنے سر پر چھائی ہوئی نظر آتی ہے اور سورج، چاند اور خوبصورت اور ننھے منے تارے اسی میں چمکتے دمکتے اور نگینوں کی طرح سجائے ہوئے نظر آتے ہیں اور کسی طاقتور دوربین کی مدد سے اوپر آسمان کی طرف نظر ڈالی جائے تو انسان حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا پڑتا ہے۔ اسے یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ اس کائنات کا آغاز کہاں سے ہو رہا ہے اور اس کی انتہا کہاں تک ہے اور جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز پورے نظم و ضبط کے ساتھ اپنی مقررہ منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ جس میں کہیں کوئی وقفہ، کوئی خلا، کوئی شگاف وغیرہ نظر نہیں آتا اور اس سے دلیل اس بات پر لائی گئی ہے کہ جو ذات اتنے بڑے عظیم الجثہ کروں کو اور اس پوری کائنات کو اتنے نظم و ضبط کے ساتھ چلا رہی ہے وہ بھلا اس بات پر بھی قادر نہیں کہ وہ تمہارے زمین میں ملے ہوئے جسم کے ذرات کو اکٹھا کر کے تمہارا جسم بنا دے۔ پھر اس میں تمہاری روح ڈال کر تمہیں دوبارہ زندہ کھڑا کر دے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» ۱؎ [67-الملك:3]‏‏‏‏، ’ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ ‘ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔
پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:49]‏‏‏‏ ’ ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ ‘ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔
پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔
پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے
چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57]‏‏‏‏ یعنی ’ آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ ‘
اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [41-فصلت:39]‏‏‏‏ ’ یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ ‘