(آیت 5) ➊ { بَلْكَذَّبُوْابِالْحَقِّلَمَّاجَآءَهُمْ:} یعنی صرف یہی نہیں کہ ان لوگوں نے اپنی جنس میں سے رسول کی آمد کو اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو عجیب قرار دیا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب ان کے پاس حق آیا تو اسے سنتے ہی کسی غور و فکر کے بغیر جھٹلا دیا۔ ➋ { فَهُمْفِيْۤاَمْرٍمَّرِيْجٍ: ”مَرَجَالْأَمْرُ،أَيْاِضْطَرَبَوَالْتَبَسَوَفَسَدَ“”اَمْرٍمَّرِيْجٍ“} الجھا ہوا معاملہ۔ یعنی سوچے سمجھے بغیر جھٹلا دینے کے بعد اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے بارے میں ان کی سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ وہ انھیں جھٹلانے کا کیا جواز پیش کریں، اس لیے وہ کبھی ایک بات کرتے ہیں کبھی دوسری۔ ایک بات پر انھیں قرار نہیں ہے اور وہ سخت ذہنی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہتے ہیں، کبھی کاہن، کبھی مجنون (پاگل) اور کبھی ساحر۔ اسی طرح قرآن کو کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا تصنیف کیا ہوا کلام کہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ کوئی عجمی شخص انھیں سکھا جاتا ہے اور کبھی اسے جادو کہہ دیتے ہیں۔ الغرض، ہر موقع پر کوئی نہ کوئی بات گھڑ لیتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی ایسا معاملہ جو ان پر مشتبہ ہوگیا ہے، جس سے وہ ایک الجھاؤ میں پڑگئے ہیں، کبھی اسے جادوگر کہتے ہیں، کبھی شاعر اور کبھی غیب کی خبریں بتانے والا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ بلکہ جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ چنانچہ یہ لوگ ایک الجھی ہوئی بات [6] میں پڑ گئے
[6] پہلے اعتراض کے متعلق کفار کی بد حواسی :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار اور قرآن کے منزل من اللہ نہ ہونے کی حد تک تو سب کفار مکہ متفق تھے۔ مگر اب انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ پیغمبر اسلام اور قرآن کو کہیں تو کیا کہیں؟ کیونکہ نہ پیغمبر اسلام کوئی عام آدمی تھے اور نہ قرآن کوئی معمولی اور عام کتاب تھی اور یہ باتیں سب کفار کو نظر آرہی تھیں۔ کبھی تو وہ کہتے کہ یہ نبی شاعر ہے اور یہ کتاب شاعری ہے، کبھی کہتے یہ نبی کاہن ہے اور یہ کتاب کہانت ہے، کبھی کہتے یہ نبی جادوگر ہے اور یہ کتاب جادو ہے، کبھی یہ کہتے کہ یہ قرآن تو پرانی کہانیاں ہی ہیں جنہیں یہ نبی خود ہی تالیف کر کے ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے۔ یہ متضاد اور مختلف باتیں خود اس کا ثبوت ہیں کہ یہ لوگ اپنے موقف میں بالکل الجھ کر رہ گئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔