(آیت 35) ➊ {لَهُمْمَّايَشَآءُوْنَفِيْهَا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۳۱) اور سورئہ زخرف (۷۱)۔ ➋ { وَلَدَيْنَامَزِيْدٌ:} یعنی جو کچھ وہ چاہیں گے وہ بھی ملے گا اور ہمارے پاس مزید بھی بہت کچھ ہے، جس میں وہ چیزیں ہیں جن کا خیال تک کسی کو نہیں آیا۔ (دیکھیے سجدہ: ۱۷) اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی۔ دیکھیے سورۂ یونس (۲۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35۔ 1 اس سے مراد رب تعالیٰ کا دیدار ہے جو اہل جنت کو نصیب ہوگا۔ (لِلَّذِيْنَاَحْسَـنُواالْحُسْنٰىوَزِيَادَةٌ) 10۔ یونس:26)۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ وہاں جو کچھ وہ چاہیں گے انہیں ملے گا اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی (ان کے لئے) موجود [41] ہے۔
[41] جنت کی سب سے بڑی نعمت اللہ کی رضامندی :۔
یعنی وہ کچھ تو ملے گا ہی جس کی وہ خواہش کریں گے علاوہ ازیں کچھ ایسی نعمتیں بھی انہیں ملیں گی جو ان کے تصور میں بھی نہ ہوں گی۔ چنانچہ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا ”اے اہل جنت!“ وہ کہیں گے: ”ہمارے پروردگار! ہم حاضر اور تیری خدمت کے لئے مستعد ہیں۔ بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:”اب تم خوش ہو؟“ وہ جواب دیں گے: ”پروردگار! ہم کیوں خوش نہ ہوں گے۔ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا ہے جو اپنی مخلوق میں سے اور کسی کو عطا نہیں فرمایا“ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا میں تمہیں ایسی نعمت عطا نہ کروں جو ان سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے؟“ جنتی پوچھیں گے: ”پروردگار! ان نعمتوں سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہو سکتی ہے؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”میں تم پر اپنی رضا مندی اتارتا ہوں۔ اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا“ [بخاري۔ كتاب التوحيد۔ باب كلام الرب مع اهل الجنة]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔