(آیت 28) {قَالَلَاتَخْتَصِمُوْالَدَيَّوَقَدْقَدَّمْتُاِلَيْكُمْبِالْوَعِيْدِ:} اللہ تعالیٰ ان کا جھگڑا سن کر فرمائے گا، اب یہاں میرے پاس مت جھگڑو، اس جھگڑے سے تمھیں کچھ حاصل نہیں ہو گا، کیونکہ میں نے تو تمھیں پہلے ہی رسول بھیج کر نافرمانی کی سزا سے آگاہ کر دیا تھا، مگر تم نے پروا نہیں کی، اب اپنے کفر و عناد کی سزا بھگتو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ کافروں اور ان کے ہم نشین شیطانوں کو کہے گا کہ یہاں موقف حساب یا عدالت انصاف میں لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے، میں نے پہلے ہی رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے وعیدوں سے تم کو آگاہ کردیا تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ (اللہ تعالیٰ فرمائے گا) میرے ہاں جھگڑا مت کرو۔ میں تمہیں پہلے ہی اس وعید کی خبر دے چکا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔