ترجمہ و تفسیر — سورۃ ق (50) — آیت 27

قَالَ قَرِیۡنُہٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَیۡتُہٗ وَ لٰکِنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۲۷﴾
اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب !میں نے اسے سر کش نہیں بنایا اور لیکن وہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا۔ En
اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا
En
اس کا ہمنشین (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب! میں نے اسے گمراه نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) {قَالَ قَرِيْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَيْتُهٗ …:} کافر جب یہ حکم سنے گا تو کہے گا، اے میرے رب! میرا کوئی گناہ نہیں، مجھے تو میرے قرین (ساتھی) نے گمراہ کیا۔ اس کے جواب میں اس کا قرین (ساتھی) کہے گا، اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا، بلکہ یہ خود ہی بہت دور کی گمراہی میں مبتلا تھا، میں نے اس پر کوئی زبردستی نہیں کی۔اگر یہ خود انتہائی گمراہ نہ ہوتا تو میرے کہنے سے کبھی سرکشی اختیار نہ کرتا۔ قرین سے مراد وہ شیطان بھی ہے جو انسان کے ساتھ رہ کر اسے گمراہ کرتا رہتا ہے اور انسانوں میں سے برے ساتھی بھی جو اسے برائی کا درس دیتے اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں۔ قیامت کے دن جب مجرم یہ بہانہ بنائے گا کہ ان لوگوں نے مجھے گمراہ کیا تو وہ اس سے صاف براء ت کا اظہار کر دیں گے۔ ان گمراہ کرنے والے شیاطین الانس و الجن کے اپنے گمراہ کردہ لوگوں سے بری ہونے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۷)، اعراف، (۳۸، ۳۹)، ابراہیم (۲۱)، سبا (۳۱ تا ۳۳) اور سورۂ ص (۵۵ تا ۶۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 اس لئے اس نے فوراً میری بات مان لی، اگر یہ تیرا مخلص بندہ ہوتا تو میرے بہکاوے میں ہی نہ آتا۔ یہاں قرین سے مراد شیطان ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ اور اس کا ساتھی [33] عرض کرے گا ”ہمارے پروردگار! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا تھا بلکہ یہ خود دور تک گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔
[33] اس ساتھی سے مراد غالباً اس کا وہ شیطان ساتھی ہے جو دنیا میں اس کے ساتھ رہتا تھا یا اس پر مسلط کر دیا گیا تھا۔ وہ بارگاہ الٰہی میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کرے گا کہ مجھ میں ایسی کوئی طاقت نہ تھی کہ میں اسے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت سے سرکش بنا سکتا۔ ہوا صرف یہ تھا کہ میں نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا تو یہ پہلے ہی مجرم ضمیر تھا۔ اس نے فوراً میری آواز پر لبیک کہی۔ میرا وسوسہ گویا اس کے اپنے دل کی آواز تھی۔ لہٰذا وہ گمراہی کے کاموں میں خود ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔