ترجمہ و تفسیر — سورۃ ق (50) — آیت 20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡوَعِیۡدِ ﴿۲۰﴾
اور صور میں پھونکا جا ئے گا، یہی عذاب کے وعدے کا دن ہے۔ En
اور صور پھونکا جائے گا۔ یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے
En
اور صور پھونک دیا جائے گا۔ وعدہٴ عذاب کا دن یہی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) {وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ …:} موت کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب انسان کے سامنے یہ حقیقت کھل کر آ جائے گی کہ وہ جو کچھ کرتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اور کرامًا کاتبین کے ذریعے سے محفوظ ہو رہا تھا۔ یہاں صور میں پھونکے جانے سے مراد دوسری دفعہ پھونکا جانا ہے، جب ہر آدمی قبر سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو جائے گا۔ وعيد دھمکی اور سزا کے وعدے کو کہتے ہیں، یعنی تمھیں نافرمانی پر جو وعید سنائی گئی تھی یہ اس کے پورے ہونے کا دن ہے۔ نفخ صور کے لیے دیکھیے سورۂ ابراہیم (۴۷ تا ۵۱)، طٰہٰ (۱۰۲)، حج (۱)، یٰس (۵۱) اور سورۂ زمر (۶۸)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ اور (پھر جب) صور پھونکا [24] جائے گا (تو اس سے کہا جائے گا) یہی وعدہ عذاب کا دن ہے۔
[24] نفخہ صور ثانی :۔
اس سے مراد وہ نفخہ صور ہے۔ جب سب مردہ انسان اپنی اپنی قبروں سے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے یعنی قیامت کے دن جب سب انسانوں کی اللہ کے حضور پیشی ہو گی اور فیصلہ کے دن مجرموں کو عذاب میں مبتلا کر دیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔