لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الۡیَہُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَہُمۡ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰی ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنۡہُمۡ قِسِّیۡسِیۡنَ وَ رُہۡبَانًا وَّ اَنَّہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۸۲﴾
یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، سب لوگوں سے زیادہ سخت عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائے گا جنھوں نے شریک بنائے ہیں اور یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، ان میں سے دوستی میں سب سے قریب ان کو پائے گا جنھوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ بے شک ان میں علماء اور راہب ہیں اور اس لیے کہ بے شک وہ تکبر نہیں کرتے۔
En
(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے
En
یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے زیاده دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے اور ایمان والوں سے سب سے زیاده دوستی کے قریب آپ یقیناً انہیں پائیں گے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں، یہ اس لئے کہ ان میں علما اور عبادت کے لئے گوشہ نشین افراد پائے جاتے ہیں اور اس وجہ سے کہ وه تکبر نہیں کرتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 82) ➊ {لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً ……:} اس لیے کہ یہودیوں میں عناد و انکار، حق سے دشمنی، تکبر اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کو جھٹلانا بلکہ قتل کر دینا ان کا شعار رہا ہے، حتیٰ کہ انھوں نے کئی مرتبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی۔ اس معاملے میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔ یہ واقعی ایک حقیقت ہے جس کا اس زمانے میں بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، آج بھی جو دشمنی یہودیوں اور مشرکوں (گائے اور بتوں کے پجاری ہندوؤں، دہریوں اور کمیونسٹوں) کو مسلمانوں سے ہے وہ بہرحال نصرانیوں کو نہیں ہے، ہاں جن نصرانیوں پر یہودیت غالب ہے وہ واقعی مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں۔
➋ {ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ ……:} یہود و نصاریٰ کی مسلم دشمنی میں جو فرق مذکور ہوا یہ اس کی علت ہے، جس طرح یہود کے عالم کو حبر کہا جاتا ہے، جس کی جمع احبار ہے، اسی طرح نصاریٰ کے رئیس اور عالم قسیس کہلاتے ہیں، یعنی جن لوگوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں، جو واقعی عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے نسبتاً قریب ہیں، کیونکہ ان میں علم اور زہد یعنی دنیا سے بے رغبتی پائی جاتی ہے اور دین مسیحی میں نرمی اور عفوو درگزر کی تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پھر ان میں علماء، عبادت گزار اور زاہد لوگ بھی ہوتے ہیں، جو تواضع اختیار کرتے ہیں، یہودیوں کی طرح کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے۔ نصرانیوں میں رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) کی بدعت رائج تھی۔اللہ تعالیٰ نے فرمادیا، فرمایا: «وَ رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ» [الحديد: ۲۷] ”اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔ “رہبانیت بے شک یہودیوں کی دنیا پرستی اور سخت دلی کے مقابلے میں قابل تعریف تھی، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رہبانیت ہر لحاظ سے قابل تعریف اور اچھی چیز ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر یہود اور مشرکین کی نسبت نصرانیوں کو مسلمانوں کے زیادہ قریب قرار دیا۔ ورنہ جہاں تک خود اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کا تعلق ہے تو بغض و عناد نصرانیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط لڑائیوں سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور اب تو اسلام کے خلاف مشرکین کے ساتھ یہودی اور نصرانی دونوں اکٹھے ہو گئے ہیں، اسی لیے قرآن نے مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ ساتھ یہود و نصاریٰ کی دوستی سے بھی منع فرمایا ہے۔
➋ {ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ ……:} یہود و نصاریٰ کی مسلم دشمنی میں جو فرق مذکور ہوا یہ اس کی علت ہے، جس طرح یہود کے عالم کو حبر کہا جاتا ہے، جس کی جمع احبار ہے، اسی طرح نصاریٰ کے رئیس اور عالم قسیس کہلاتے ہیں، یعنی جن لوگوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں، جو واقعی عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے نسبتاً قریب ہیں، کیونکہ ان میں علم اور زہد یعنی دنیا سے بے رغبتی پائی جاتی ہے اور دین مسیحی میں نرمی اور عفوو درگزر کی تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پھر ان میں علماء، عبادت گزار اور زاہد لوگ بھی ہوتے ہیں، جو تواضع اختیار کرتے ہیں، یہودیوں کی طرح کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے۔ نصرانیوں میں رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) کی بدعت رائج تھی۔اللہ تعالیٰ نے فرمادیا، فرمایا: «وَ رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ» [الحديد: ۲۷] ”اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔ “رہبانیت بے شک یہودیوں کی دنیا پرستی اور سخت دلی کے مقابلے میں قابل تعریف تھی، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رہبانیت ہر لحاظ سے قابل تعریف اور اچھی چیز ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر یہود اور مشرکین کی نسبت نصرانیوں کو مسلمانوں کے زیادہ قریب قرار دیا۔ ورنہ جہاں تک خود اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کا تعلق ہے تو بغض و عناد نصرانیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط لڑائیوں سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور اب تو اسلام کے خلاف مشرکین کے ساتھ یہودی اور نصرانی دونوں اکٹھے ہو گئے ہیں، اسی لیے قرآن نے مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ ساتھ یہود و نصاریٰ کی دوستی سے بھی منع فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
82۔ 1 اس لئے کہ یہودیوں کے اندر عناد و جحود، حق سے اعراض و استکبار اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کا قتل اور ان کی تکذیب ان کا شعار رہا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے رسول اللہ کے قتل کی بھی کئی مرتبہ سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم سعی کی۔ اور اس معاملہ میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔ 82۔ 2 رُھْبَانُ سے مراد نیک، عبادت گزار اور گوشہ نشین لوگ قَسِّیْسِیْنَ سے مراد علما وخطبا ہیں، یعنی ان عیسائیوں میں علم و تواضع ہے، اس لئے ان میں یہودیوں کی طرح حجود و استکبار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں دین مسیح میں نرمی اور عفو و درگزر کی تعلیم کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، حتیٰ کہ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوئی تمہارے دائیں رخسار پر مارے تو بایاں رخسار بھی ان کو پیش کردو۔ یعنی لڑو مت۔ ان وجوہ سے یہ مسلمان کے، بہ نسبت یہودیوں کے زیادہ قریب ہیں۔ عیسائیوں کا وصف یہودیوں کے مقابلے میں ہے، تاہم جہاں تک اسلام دشمنی کا تعلق ہے، کم و بیش کے کچھ فرق کے ساتھ، اسلام کے خلاف یہ عناد عیسائیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط معرکہ آرائی سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اور اب تو اسلام کے خلاف یہودی اور عیسائی دونوں ہی مل کر سرگرم عمل ہیں۔ اسی لئے قرآن نے دونوں سے دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں آپ دیکھیں گے کہ ان سے عداوت رکھنے میں لوگوں میں سب سے بڑھ کر یہودی اور مشرکین ہیں اور جن لوگوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں انہیں آپ مسلمانوں سے محبت [128] رکھنے میں قریب تر پائیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور زاہد پائے جاتے ہیں اور وہ متکبر نہیں ہوتے
[128] یہود و نصاریٰ کے کردار کا تقابل :۔
عیسائیوں کی مسلمانوں سے کم تر دشمنی اور قریب تر دوستی کی اللہ نے تین وجوہ بیان فرمائیں۔ ایک یہ کہ ان میں عالم لوگ موجود ہیں۔ (یاد رہے عالم سے مراد ہمیشہ عالم باعمل ہوتا ہے) دوسرے ان میں مشائخ موجود ہیں اور تیسرے یہ عیسائی لوگ متکبر نہیں ہوتے بلکہ متواضع اور منکسر المزاج ہوتے ہیں۔ اب ان کے مقابلہ میں یہود کے حالات دیکھئے ان کے علماء آیات اللہ کو بیچ کھانے والے آیات کو اور حق بات کو چھپا جانے والے اور سازشیں کرنے والے، ان میں رہبان یا مشائخ نام کو نہیں تھے بلکہ پوری قوم حب دنیا میں اس قدر مبتلا تھی کہ سود خوری اور حرام خوری سے باز نہیں آتے تھے اور ہر جائز و ناجائز ذریعہ سے دولت حاصل کرتے تھے۔ پھر انہی منکرات کا یہ اثر تھا کہ انتہائی سنگدل، بخیل اور متکبر بن گئے تھے۔ ان کے سب سردار مثلاً کعب بن اشرف، سلام بن ابی الحقیق اور حیی بن اخطب سب کے سب ہی متکبر اور بدنہاد تھے۔ اگر ان کے مقابلہ میں ہرقل شہنشاہ روم، مقوقس شاہ مصر اور نجاشی شاہ حبشہ کے کردار کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہود کے مقابلہ میں یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں سے کس قدر قریب تر تھے اور اختلافات کے باوجود دوسروں کی نسبت مسلمانوں سے دوستی رکھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اور یہود کی اسلام دشمنی کا یہ حال تھا کہ خود پیغمبر اسلام کو تین دفعہ ہلاک کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار اللہ نے آپ کو ان کے شر سے بچا لیا۔ ایک دفعہ نہایت سخت قسم کا جادو کر کے، دوسری بار زہریلی بکری کو کھلا کر اور تیسری بار چھت کے اوپر سے آپ پر ایک بھاری پتھر گرا کر جبکہ آپ نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہودیوں کا تاریخی کردار ٭٭
یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور جعفر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔
یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و صفات دیکھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہو گئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جا کر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12318:مرسل]
یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی رحمة الله کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے { ان کے انتقال والے دن ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1318]
یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و صفات دیکھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہو گئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جا کر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12318:مرسل]
یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی رحمة الله کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے { ان کے انتقال والے دن ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1318]
بعض تو کہتے ہیں اس وفد میں سات تو علماء تھے اور پانچ زاہد تھے یا پانچ علماء اور سات زاہد تھے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل پچاس آدمی تھے اور کہا گیا ہے کہ ساٹھ سے کچھ اوپر تھے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ستر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہو گئے تھے۔“ قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہو گئے۔“ امام ابن جریر رحمة الله کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کر دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ ”یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے۔“
یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہو گئے تھے۔“ قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہو گئے۔“ امام ابن جریر رحمة الله کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کر دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ ”یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے۔“
یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں۔
علم سے کورے ہیں علماء کی تعداد ان میں بہت ہی کم ہے اور علم اور ذی علم لوگوں کی کوئی وقعت ان کے دل میں نہیں یہی تھے جنہوں نے بہت سے انبیاء علیہم السلام کو قتل کیا خود پیغمبر الزمان احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ بھی کیا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ باربار۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اور اپنے جیسے بدباطن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کئے لیکن اللہ نے ہر مرتبہ انہیں نامراد اور ناکام کیا۔
ابن مردویہ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4439:ضعیف]
ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لیے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً» ۱؎ [57-الحدید:27]، یعنی ’ عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے رخسار پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بایاں رخسار بھی پیش کر دے ‘۔
ابن مردویہ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4439:ضعیف]
ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لیے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً» ۱؎ [57-الحدید:27]، یعنی ’ عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے رخسار پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بایاں رخسار بھی پیش کر دے ‘۔
ان کی شریعت میں لڑائی ہے ہی نہیں۔ یہاں ان کی اس دوستی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان میں خطیب اور واعظ ہیں۔ «قِسِسِیْنٌ» اور «قِسٌ» کی جمع «قِسِّیْسِیْنَ» ہے «قُسُوْسٌ» بھی اس کی جمع آتی ہے «رُهْبَانٌ» جمع ہے راہب کی، راہب کہتے ہیں عابد کو۔ یہ لفظ مشتق ہے رہب سے اور رہبت کے معنی ہیں خوف اور ڈر کے۔ جیسے «رَاکِبٌ» کی جمع «رُکْبَانٌ» ہے اور «فُرْسَانٌ» ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں کبھی «رُهْبَانٌ» واحد کیلئے بھی آتا ہے اور اس کی جمع «رَھَابِیْنَ» آتی ہے جیسے «قُرْبَانٌ» اور «قَرَابِیْنَ» اور «جوازن» اور «جوازین» اور کبھی اس کی جمع «رَهَابِنَه» بھی آتی ہے۔ عرب کے اشعار میں بھی لفظ «رُهْبَانٌ» واحد کیلئے آیا۔
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ایک شخص «قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا» پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «قِسِسِیْنٌ» کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «صدیقین وَرُهْبَانًا» پڑھایا ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6175:ضعیف جدا]
الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا، ان میں عابدوں کا ہونا، ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا۔
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ایک شخص «قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا» پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «قِسِسِیْنٌ» کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «صدیقین وَرُهْبَانًا» پڑھایا ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6175:ضعیف جدا]
الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا، ان میں عابدوں کا ہونا، ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا۔