(آیت 81) {وَلَوْكَانُوْايُؤْمِنُوْنَبِاللّٰهِ ……:} یعنی اگر وہ واقعی اﷲ تعالیٰ پر اور اپنے نبی (موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام) پر اور ان پر نازل شدہ کتاب (تورات و انجیل) پر ایمان رکھتے تو کبھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستی قائم نہ کرتے، کیونکہ تورات میں اس کام کو حرام کہا گیا ہے، یا یہ کہ اگر وہ کفار صدق دل سے ایمان لائے ہوتے، نفاق کے مریض نہ ہوتے تو پھر یہ کبھی ان سے دوستی پیدا نہ کرتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
81۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے اندر صحیح معنوں میں ایمان ہوگا، وہ کافروں سے کبھی دوستی نہیں کرے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
81۔ اگر وہ اللہ پر، نبی پر اور جو کچھ اس کی طرف نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لاتے تو کافروں کو دوست [127] نہ بناتے لیکن ان میں سے اکثر تو ہیں ہی نافرمان
[127] انہیں چاہیے تو یہ تھا کہ وہ کسی اہل کتاب سے ہی دوستی لگاتے۔ تاکہ کسی نہ کسی حد تک ان میں عقائد کی ہم آہنگی ہوتی جو ان کی دوستی کی بنیاد بن سکتی لیکن وہ اسلام دشمنی میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں مشرکین کو دوستی کے لیے چنتے ہیں اور زبانی بھی مشرکوں سے کہتے ہیں کہ دین کے لحاظ سے تم مسلمانوں سے اچھے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔