ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 80

تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یَتَوَلَّوۡنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ اَنۡ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَ فِی الۡعَذَابِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۰﴾
تو ان میں سے بہت سوں کو دیکھے گا وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا۔ یقینا برا ہے جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا کہ اللہ ان پر غصے ہوگیا اور عذاب ہی میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے
En
ان میں سے بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وه کافروں سے دوستیاں کرتے ہیں، جو کچھ انہوں نے اپنے لئے آگے بھیج رکھا ہے وه بہت برا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا اور وه ہمیشہ عذاب میں رہیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80) ➊ {تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ ……:} یعنی ان کے پہلے لوگوں کی وہ حالت تھی اور اب جو موجود ہیں ان کی یہ حالت ہے۔ (کبیر) جیسے کعب بن اشرف اور مدینہ کے یہودی قبائل کے دوسرے افراد، جو مسلمانوں کی دشمنی میں مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے منافقین سے دوستی رکھتے تھے۔
➋ {لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ ……:} یعنی کفار (مشرکین مکہ اور منافقین مدینہ) سے دوستی قائم کر کے اہل کتاب نے مسلمانوں کے خلاف جو تیاری کی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں ان پر اﷲ کا غضب ہوا اور آخرت میں بھی وہ دائمی عذاب کے مستحق قرار پائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

80۔ 1 یہ اہل کفر سے دوستانہ تعلق کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوا اور اسی نارضگی کا نتیجہ جہنم کا دائمی عذاب ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ ان میں اکثر کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کافروں [126] سے دوستی گانٹھتے ہیں۔ جو اعمال وہ اپنے لیے آگے بھیج رہے ہیں بہت برے ہیں کہ ان سے اللہ بھی ان پر ناراض ہوگیا اور خود بھی ہمیشہ عذاب میں رہیں گے
[126] یہود کی مشرکوں سے دوستی :۔
یہاں کافروں سے مراد مشرکین ہیں کیونکہ ان نافرمانوں، حد سے تجاوز کرنے والوں اور بدی سے نہ روکنے والوں کو سابقہ آیت میں پہلے ہی کافر قرار دیا جا چکا ہے اور ایسے یہود کا مشرکین سے دوستی گانٹھنا بھی اسی لعنت کا باطنی اثر تھا جو ان پر کی گئی تھی۔ ظاہری اثر تو یہ ہوا کہ ان کی صورتیں مسخ کر کے انہیں بندر اور سور بنادیا گیا تھا اور باطنی یہ کہ اللہ پر، اس کے انبیاء پر، اس کی کتاب پر اور روز آخرت پر ایمان رکھنے کے باوجود وہ دوستی ایسے لوگوں سے گانٹھتے ہیں جن کا نہ روز آخرت پر ایمان ہے نہ کسی کتاب پر اور نہ انبیاء پر بلکہ انبیاء کی تعلیم کے بجائے وہ دیوی دیوتاؤں کے معتقد ہیں اور انہی کی پرستش کرتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔