تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے، یا پھر قریب ہے کہ اﷲ تعالیٰ تم پر اپنے ہاں سے عذاب بھیج دے، پھر تم اس سے دعا کرو گے تو وہ تمھاری دعا قبول نہیں کرے گا۔“ [أحمد: 388/5، ح: ۲۳۳۶۳۔ ترمذی: ۲۱۶۹، وحسنہ الترمذی والألبانی]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس حدیث کی رو سے بدی سے نہ روکنے والوں کا جرم بدی کرنے والے سے بھی زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ نیز سیدنا ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر عام عذاب نازل ہو۔ [ترمذي۔ ابو اب التفسير۔ زير آيت 5: 101]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا { نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/1:منقطع]
اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے جابر والی حدیث تو آیت «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:63]، کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:105] کی تفسیر میں سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں آئیں گی، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مسند اور ترمذی میں ہے کہ { یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے { اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4004،قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح حدیث میں ہے { تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:49]
ابوداؤد میں ہے کہ { جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4345،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابوداؤد میں ہے { لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہو جائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا: { خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے { افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہدینا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے کہ { جمرہ اولیٰ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ { وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ } اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں فرمایا: { حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4012،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں ہے کہ { جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { { مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہیئے }۔ لوگوں نے پوچھا کیسے؟ فرمایا: { ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2254،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے؟ فرمایا: { اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہو جائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی } ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: { کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آ جانا۔ رذیلوں میں علم کا آ جانا }۔ زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آ جانا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4105، قال الشيخ الألباني: ضعیف] اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت «لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» ۱؎ [5-المائدة:105] کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹتھے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے { { اے مسلمانو! زناکاری سے بچو، اس سے چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آ جاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:5475:ضعیف جدا] یہ حدیث ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خارج ہو چکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن معاصيهم التي أحَلَّت بهم المَثُلات وأوقعت بهم العقوبات أنَّهم {كانوا لا يَتَناهَوْنَ عن مُنكرٍ فعلوهُ}؛ أي: كانوا يفعلون المنكر ولا ينهى بعضُهم بعضاً، فيشترك بذلك المباشر وغيره، الذي سكت عن النهي عن المنكر مع قدرتِهِ على ذلك، وذلك يدلُّ على تهاوُنِهم بأمر الله، وأنَّ معصيتَه خفيفة عليهم؛ فلو كان لديهم تعظيمٌ لربِّهم؛ لغاروا لمحارمه، ولغضبوا لغضبه.
وإنَّما كان السكوت عن المنكَرِ مع القدرة موجباً للعقوبة لما فيه من المفاسد العظيمة:
منها: أنَّ مجرَّد السكوت فعلُ معصيةٍ، وإنْ لم يباشِرْها الساكتُ؛ فإنَّه كما يجب اجتناب المعصية؛ فإنَّه يجب الإنكار على مَنْ فَعَلَ المعصية.
ومنها: ما تقدَّم أنه يدلُّ على التهاون بالمعاصي وقلة الاكتراث بها.
ومنها: أنَّ ذلك يجرِّئ العصاة والفسقة على الإكثار من المعاصي إذا لم يردعوا عنها، فيزداد الشرُّ وتعظُم المصيبة الدينيَّة والدنيويَّة، ويكون لهم الشوكة والظهور، ثم بعد ذلك يضعُفُ أهل الخير عن مقاومة أهل الشرِّ، حتى لا يقدرون على ما كانوا يقدرون عليه أولاً.
ومنها: أن في ترك الإنكار للمنكر يندرِسُ العلم ويكثُرُ الجهل؛ فإنَّ المعصية مع تكرُّرها وصدورها من كثير من الأشخاص وعدم إنكار أهل الدين والعلم لها يُظَنُّ أنها ليست بمعصية، وربما ظنَّ الجاهل أنها عبادة مستحسنة، وأيُّ مفسدةٍ أعظم من اعتقاد ما حرَّم الله حلالاً وانقلاب الحقائق على النفوس ورؤية الباطل حقًّا؟!
ومنها: أنَّ السُّكوتَ على معصية العاصين ربَّما تزيَّنت المعصية في صدور الناس، واقتدى بعضُهم ببعضٍ؛ فالإنسان مولعٌ بالاقتداء بأضرابِهِ وبني جنسه ... ومنها ومنها ...
فلما كان السكوت عن الإنكار بهذه المثابة؛ نصَّ الله تعالى أن بني إسرائيل الكفار منهم لَعَنَهم بمعاصيهم واعتدائهم، وخصَّ من ذلك هذا المنكر العظيم: {لبئس ما كانوا يَفْعَلونَ}.