قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوۡۤا اَہۡوَآءَ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا وَّ ضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿٪۷۷﴾
کہہ دے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق حد سے نہ بڑھو اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔
En
کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے
En
کہہ دیجیئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں اور سیدھی راه سے ہٹ گئے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 77) ➊ {قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ ……:} یہود و نصاریٰ کی الگ الگ تردید کے بعد اب دونوں کو مخاطب فرمایا ہے۔ (کبیر) نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کے معاملہ میں غلو کیا اور ایک بشر جسے اﷲ تعالیٰ نے نبوت بخشی تھی اور اسے اپنی قدرت کاملہ کی نشانی قرار دیا تھا [ديكهيے زخرف: ۵۹۔ مومنون: ۵۰] اسے معبود کے مقام پر کھڑا کر دیا۔ دوسری طرف یہودیوں نے انھیں جھوٹا قرار دیا، ان سے انتہائی توہین آمیز سلوک کیا، ان پر اور ان کی والدہ پر تہمت طرازی کی اور ان کے قتل کے درپے ہوئے، بلکہ بقول یہود و نصاریٰ یہود نے مسیح علیہ السلام کو سولی دے دی اور ان کی پسلیوں کو ریزہ ریزہ کر ڈالا۔ (کبیر، ابن کثیر) حقیقت یہ ہے کہ دین میں جو بھی خرابی آئی ہے وہ اسی غلو (راہ اعتدال کو چھوڑنے) کی وجہ سے آئی ہے، اسی لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بار بار نصیحت فرمائی: ”مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح نصاریٰ نے مسیح ابن مریم (علیہما السلام) کو حد سے بڑھا دیا تھا، میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، اس لیے تم مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہو۔“ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب: {واذكر في الكتاب مريم ……:} ۳۴۴۵] مگر مسلمانوں نے بھی اس قدر غلو کیا کہ اپنے ائمہ کو نبی کا درجہ دے کر ان کی بے دلیل بات پر عمل کو بھی واجب قرار دیا اور جو ایسا نہ کرے اسے لامذہب قرار دیا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں اﷲ تعالیٰ والی صفات ہونے کا عقیدہ اپنا لیا کہ وہ بھی ہر بات سنتے اور جانتے ہیں اور کائنات میں ان کا حکم بھی چلتا ہے۔ بعض نے اﷲ اور رسول کو ایک ہی ذات قرار دیا، اگر کوئی ان کی تردید کرے تو کہتے ہیں کہ یہ اولیاء کو، نبی کو اور اﷲ تعالیٰ کو نہیں مانتے، حالانکہ ہم اﷲ کو اپنا معبود اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول اور اولیاء کو اﷲ کے مقرب بندے مانتے ہیں، مگر اولیاء کو نبی نہیں مانتے اور رسول کو اﷲ تعالیٰ نہیں مانتے۔
➋ {قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ ……:} پہلے فرمایا: «قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ» (اس سے پہلے گمراہ ہو چکے) آخر میں پھر فرمایا: «وَضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ» (اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے) گو یہ دونوں جملے بظاہر ایک ہی ہیں، مگر علماء نے لکھا ہے کہ اول سے مراد یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے اور دوسرے {” ضَلُّوْا “} سے مراد یہ ہے کہ وہ اب تک اس گمراہی پر جمے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلی گمراہی سے مراد عقیدہ کی گمراہی اور دوسری سے مراد عمل کی گمراہی ہو۔ یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت چلو جنھوں نے کسی نبی (مثلاً عزیر یا عیسیٰ علیہما السلام) کو الٰہ بنایا، کسی نبی (مثلاً داؤد، مسیح، ان کی والدہ اور لوط علیہم السلام) پر زنا وغیرہ کی تہمتیں لگائیں اور کسی کو قتل کر دیا، ان کاموں کے ساتھ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور آخر وقت تک سیدھے راستے پر نہیں آئے۔ ”ان کے پیچھے مت چلو“ سے معلوم ہوا کہ یہ گمراہیاں ان میں پہلے لوگوں کی تقلید کی وجہ سے آئی تھیں، تم یہ کام مت کرنا۔
➋ {قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ ……:} پہلے فرمایا: «قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ» (اس سے پہلے گمراہ ہو چکے) آخر میں پھر فرمایا: «وَضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ» (اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے) گو یہ دونوں جملے بظاہر ایک ہی ہیں، مگر علماء نے لکھا ہے کہ اول سے مراد یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے اور دوسرے {” ضَلُّوْا “} سے مراد یہ ہے کہ وہ اب تک اس گمراہی پر جمے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلی گمراہی سے مراد عقیدہ کی گمراہی اور دوسری سے مراد عمل کی گمراہی ہو۔ یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت چلو جنھوں نے کسی نبی (مثلاً عزیر یا عیسیٰ علیہما السلام) کو الٰہ بنایا، کسی نبی (مثلاً داؤد، مسیح، ان کی والدہ اور لوط علیہم السلام) پر زنا وغیرہ کی تہمتیں لگائیں اور کسی کو قتل کر دیا، ان کاموں کے ساتھ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور آخر وقت تک سیدھے راستے پر نہیں آئے۔ ”ان کے پیچھے مت چلو“ سے معلوم ہوا کہ یہ گمراہیاں ان میں پہلے لوگوں کی تقلید کی وجہ سے آئی تھیں، تم یہ کام مت کرنا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
77۔ 1 یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جن کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے، اس میں مبالغہ کر کے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الویت پر فائز مت کرو، جیسے حضرت مسیح ؑ کے معاملے میں تم نے کیا۔ غلو ہر دور میں شرک اور گمرہی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ انسان کو جس سے عقیدت اور محبت ہوتی ہے، وہ اس کی شان میں خوب مبالغہ کرتا ہے۔ وہ امام اور دینی قائد ہے تو اس کو پیغمبر کی طرح معصوم سمجھنا اور پیغمبر کو خدائی صفات سے متصف ماننا عام بات ہے، بدقسمتی سے مسلمان بھی اس غلو سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ انہوں نے بعض ائمہ کی شان میں بھی غلو کیا اور ان کی رائے اور قول، حتٰی کہ ان کی طرف منسوب فتویٰ اور فقہ کو بھی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ترجیح دے دی۔ 77۔ 2 یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت لگو جو ایک نبی کو اللہ بنا کر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
77۔ آپ ان سے کہئے: اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کے پیچھے نہ چلو جو پہلے ہی گمراہ ہیں اور بہت لوگوں کو گمراہ کرچکے ہیں [123] اور سیدھی راہ سے بھٹک چکے ہیں
[123] فلسفہ گمراہی ؟
یہ لوگ وہی یونانی فلاسفر ہیں جن کے افکار و نظریات سے متاثر ہو کر عیسائیوں کے علماء و مشائخ نے چوتھی صدی عیسوی میں تثلیث کا عقیدہ ایجاد کیا۔ پھر حکومت کی سرپرستی کی بنا پر اس عقیدہ کو فروغ حاصل ہوگیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فلاسفر قسم کے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ مسلمانوں میں غلو کی مثالوں کے لیے [ديكهئے سورة فرقان كا حاشيه نمبر 2]
اور سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: بال کی کھال اتارنے والے (فرقہ پرستی کی بنا پر) تباہ ہوئے۔ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ [مسلم۔ كتاب العلم۔ باب النهي عن اتباع متشابه القرآن]
اور سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: بال کی کھال اتارنے والے (فرقہ پرستی کی بنا پر) تباہ ہوئے۔ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ [مسلم۔ كتاب العلم۔ باب النهي عن اتباع متشابه القرآن]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بے سمع و بصر، بے ضرر و بے نفع و بے قدر اور بے قدرت چیزوں کے پیچھے پڑ جانا یہ کون سی عقلمندی ہے؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور کوئی وجہ نہیں بجز اس کے کہ تم اپنے پیروں مرشدوں استادوں اور اماموں کے پیچھے لگ گئے ہو وہ تو خود ہی گمراہ ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ استقامت اور عدل کے راستے کو چھوڑے ہوئے انہیں زمانہ گزر گیا۔ ضلالت اور بدعتوں میں مبتلا ہوئے عرصہ ہو گیا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہو گی نہ شہرت تمہیں چاہیئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہو گیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کر دیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مر گئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہو گی نہ شہرت تمہیں چاہیئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہو گیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کر دیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مر گئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔