تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ:} اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص حفاظت میں لے لیا اور فرمایا کہ تم میرا پیغام پہنچاؤ، میں خود تمھیں لوگوں سے بچاؤں گا۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرا دیا جاتا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سو نہیں رہے تھے، میں بھی آپ کے پاس ہی لیٹی ہوئی تھی، میں نے عرض کی: ”اے اﷲ کے رسول! کیا بات ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”کاش! کوئی نیک آدمی میرا پہرا دیتا۔“ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ میں نے ہتھیاروں کی جھنکار سنی۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: ”سعد بن ابی وقاص ہوں۔“ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیسے آنا ہوا؟“ انھوں نے کہا: ”اے اﷲ کے رسول! میں آیا ہوں کہ (آج رات) آپ کا پہرا دوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اس کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آرام سے سو گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔“ [بخاری، الجہاد والسیر، باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اﷲ: ۲۸۸۵۔ مسلم: ۲۴۱۰]
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہرے کا انتظام کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ جب یہ آیت اتری: «وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» تو آپ نے خیمے سے سر نکال کر فرمایا: ” لوگو! تم چلے جاؤ، اﷲ تعالیٰ مجھے (دشمن سے) بچائے گا۔ “ [ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ المائدۃ: ۳۰۴۶] اس کی ایک مثال وہ اعرابی بھی ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے آپ کی تلوار پکڑ کر کہا تھا کہ تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اﷲ!“
➌ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ:} یعنی اﷲ تعالیٰ کفار کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ (کبیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، یعنی اگرچہ وہ دشمن ہوں تم بے فکر یہ پیغام پہنچاؤ اور خطرہ نہ کرو۔ (موضح) یا مطلب یہ ہے کہ ہدایت و گمراہی اﷲ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو فکر نہ کرو۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
[مسلم کتاب الحج۔ باب حجۃ النبی]
2۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ سن لو! تم میں سے جو لوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں کو (اس خطبہ کے ارشادات) پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب لیبلغ العلم الشاھد الغائب]
کیونکہ حاضر شاید ایسے غیر موجود شخص کو خبر دے جو اس بات کو اس سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب قول النبی رب مبلغ اوعی من سامع]
3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ (ایک دفعہ نماز کسوف کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا ”یہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ انہیں نہ کسی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی پیدائش کی وجہ سے۔“ (خطبہ ختم کرنے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر فرمایا ”اے اللہ! میں نے یقیناً تیرا پیغام پہنچا دیا۔“
[مسلم۔ کتاب الکسوف پہلی حدیث]
ہوا یہ تھا کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اسی دن سورج کو بھی اتفاق سے گہن لگ گیا۔ قدیم عرب کا اعتقاد تھا کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کسی بڑے آدمی کی موت سے لگا کرتا ہے۔ اس واقعہ پر کچھ مسلمان بھی یہ کہنے لگے کہ سورج ابراہیم کی موت کی وجہ سے گہنا گیا اور یہ دن 29 شوال 10ھ روز دو شنبہ بمطابق 27 جنوری 632ء کا دن تھا۔ جب سورج کو گہن لگنا شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو دو رکعت طویل نماز پڑھائی جس میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ اور صحابہ کو حکم دیا کہ جب سورج کو گرہن یا چاند گرہن لگے تو نماز پڑھا کرو۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل خطبہ دیا جس میں اس جاہلی عقیدہ کا بھرپور رد کیا کہ سورج اور چاند تو اللہ کی نشانیاں ہیں۔ کسی بھی شخص کی موت یا زندگی سے انہیں گرہن نہیں لگا کرتا۔ طویل خطبہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کر کے پوچھا کہ آیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ صحابہ نے اثبات میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھا کر فرمایا۔ اے اللہ! گواہ رہنا۔ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔
[بخاری۔ ابواب الکسوف، مسلم۔ کتاب الکسوف]
4۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں اپنے سر سے کپڑا ہٹایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی (اس حال میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ الفاظ دہرائے ”اے اللہ! یقیناً میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔“
[مسلم کتاب الصلٰوۃ۔ باب نہی عن قراءۃ القرآن فی الرکوع والسجود]
اور تبلیغ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس بات کو زیادہ تر ملحوظ رکھتے تھے وہ درج ذیل احادیث سے ظاہر ہے:
5۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب ماکان النبی یتخولھم بالموعظۃ والعلم کی لاینفروا]
6۔ ابو وائل کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعودؓ ہر جمعرات کو لوگوں کو وعظ کرتے۔ ایک شخص نے ان سے کہا۔ ”ابو عبد الرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں ہر روز وعظ سنایا کریں۔“ انہوں نے کہا ”یہ میں اس لیے نہیں کرتا کہ تمہیں اکتا دینا مجھے اچھا معلوم نہیں ہوتا اور میں وقت اور موقع دیکھ کر تمہیں وعظ سناتا ہوں جیسے رسول اللہ ہمارا وقت اور موقع دیکھ کر ہمیں نصیحت فرماتے تھے آپ کو یہی ڈر تھا کہ ہم اکتا نہ جائیں۔“
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب ماکان النبی یتخولھم، بالموعظہ والعلم کی لاینفروا]
مردوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے لئے کبھی کبھی بالخصوص الگ اہتمام فرماتے تھے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
7۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (عیدالفطر کا خطبہ دے کر) مردوں کی صف سے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلالؓ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ شاید عورتوں تک میری آواز نہیں پہنچی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو نصیحت کی اور انہیں خیرات کرنے کا حکم دیا۔ کوئی عورت اپنی بالی پھینکنے لگی، کوئی انگوٹھی اور بلالؓ نے اپنے کپڑے کے کونے میں یہ (صدقہ) لینا شروع کیا۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب عظۃ الامام النساء وتعلیمھن]
8۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں ہم پر غالب ہوئے۔ لہٰذا آپ خود ہمارے لیے ایک دن مقرر کر دیجئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وعدہ فرما لیا۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ فرمایا اور انہیں احکام شرع بتائے اور احکام میں سے ایک یہ بھی تھا جس عورت کے تین چھوٹے بچے فوت ہو جائیں (اور وہ صبر کرے) تو وہ ان کے لیے دوزخ سے آڑ بن جائیں گے کسی عورت نے کہا ”اور اگر دو ہوں تو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور دو بھی“
[بخاری۔ کتاب العلم۔ ھل یجعل للنساء یوما علی حدۃ فی العلم]
(1) آنے والے رسول کی بشارت پہلے ہی کتاب اللہ میں دے دی جاتی ہے جبکہ نبی کے لیے یہ بات ضروری نہیں ہوتی۔
(2) رسول پر اللہ کی کتاب یا صحیفے نازل ہوتے ہیں اور وہ الگ سے اپنی امت تشکیل دیتا ہے جبکہ نبی اپنے سے پہلی کتاب ہی کی اتباع کرتا اور کرواتا ہے۔
(3) رسول کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ خود لے لیتا ہے جبکہ انبیاء ناحق بھی سرکش کافروں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہے۔ اور رسول اللہ چونکہ تمام دنیا کے لیے اور قیامت تک کے لیے رسول ہیں۔ لہٰذا دوسروں کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری بھی زیادہ تھی۔ اسی لیے بطور خاص اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان دلایا۔ یہ آیت جنگ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے بہت بعد نازل ہوئی۔ اس سے پہلے بعض دفعہ ایسے ہنگامی حالات پیش آجاتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہرہ کے بغیر رات کو سو بھی نہ سکتے تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کبھی پہرہ نہیں بٹھایا۔ تبلیغ رسالت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان کا کس قدر خطرہ تھا؟ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش مکہ، یہود اور منافقوں کی طرف سے تقریباً سترہ بار قاتلانہ حملے ہوئے اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی اور ایسے کافروں کو ذلیل و رسوا کیا۔ ان حملوں کا اجمالی ذکر درج ذیل ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نبوت 23 سال ہے۔ ابتدائی تین سال تو انتہائی خفیہ تبلیغ کے ہیں۔ باقی بیس سال کے عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سترہ بار قاتلانہ حملے یا آپ کو قتل کر دینے کی سازشیں تیار ہوئیں۔ ان میں سے 9 حملے تو قریش مکہ کی طرف سے ہوئے، تین یہود سے، تین بدوی قبائل سے ایک منافقین سے اور ایک شاہ ایران خسرو پرویز سے اور غالباً اس دنیا میں کسی بھی دوسرے شخص پر اتنی بار قاتلانہ حملے نہیں ہوئے اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی مطلع کر کے یا مدد کر کے آپ کو دشمنوں سے بچا کر اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ اب ہم ان قاتلانہ حملوں کے واقعات کو زمانی ترتیب کے ساتھ مختصراً ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔
1۔
[الاصابہ فی تمییز الصحابہ ذکر حارث بن ابی ہالہ بحوالہ سیرت النبی ج 1 ص 314]
2۔
[ابن ہشام 1: 298-299 بحوالہ الرحیق المختوم ص 151]
3۔
[بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب فضل ابی بکر بعد النبی کتاب التفسیر سورۃ مومن]
اور سیدہ اسماءؓ کی روایت میں مزید تفصیل یہ ہے کہ جب عقبہ نے آپ کی گردن میں چادر ڈال کر زور سے گھونٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چیخ نکل گئی کہ ”اپنے ساتھی کو بچاؤ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چیخ سن کر ہی سیدنا ابو بکر صدیقؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے آئے تھے اور جب سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے عقبہ کو دھکیل کر پرے ہٹا دیا تو مشرکین سیدنا ابو بکر صدیقؓ پر حملہ آور ہوئے اور جب وہ واپس لوٹے تو ان کی اپنی یہ کیفیت تھی کہ ہم ان کی چوٹی کا جو بال بھی چھوتے تھے وہ ہماری چٹکی کے ساتھ چلا آتا تھا۔
[مختصر سیرۃ الرسول ص 13 بحوالہ الرحیق المختوم 8 ص 153]
4۔
[سیرۃ النبی شبلی نعمانی ج 1 ص 228 بحوالہ طبقات ابن سعد و ابن عساکر و کامل لابن الاثیر]
5۔
[ابن ہشام 1: 266، 267 بحوالہ الرحیق المختوم ص 145]
ابو طالب کے اس جواب سے مایوس ہو کر قریش کا یہ مجمع منتشر ہو کر چلا گیا۔
6۔
7۔
[بخاری۔ کتاب الانبیاء۔ باب ہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ]
مزید تفصیل سورۃ توبہ کی آیت نمبر 40 کے حاشیہ یعنی واقعہ ہجرت میں آئے گی۔
8۔
[ابن ہشام 1: 661 تا 663 بحوالہ الرحیق المختوم ص 372]
(9)
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ غزوۃ الرجیع و بئر معونہ]
مگر آپ ان کی قید سے نکل بھاگے اور مدینہ پہنچ کر اس دردناک واقعہ کی آپ کو اطلاع دی۔ راستہ میں عمرو بن امیہ نے غلطی سے دو آدمیوں کو دشمن سمجھ کر ان کا صفایا کر دیا حالانکہ وہ معاہد تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ کو بہت دکھ ہوا اور فرمایا کہ ”اب ہمیں ان دو آدمیوں کی دیت ادا کرنا ہو گی۔“ چنانچہ اس رقم کی فراہمی میں مشغول ہو گئے۔ میثاق مدینہ کی رو سے یہود بھی اس طرح کی دیت میں برابر کے شریک قرار دیئے گئے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کو ساتھ لے کر بنو نضیر کے ہاں تشریف لے گئے۔ ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مکان کے صحن میں بٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور یہود وہاں سے اس بہانہ سے اٹھ کر چلے آئے کہ ہم جا کر رقم اکٹھی کرتے ہیں۔ وہاں سے باہر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کے مشورے ہونے لگے۔ ایک یہودی کہنے لگا ”کون ہے جو مکان کی چھت پر جا کر اوپر سے چکی کا پاٹ گرا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر گرا کر اسے کچل ڈالے؟“ ایک دوسرا بدبخت فوراً اس کام کے لیے تیار ہو گیا۔ ان لوگوں کے اس ارادہ کی آپ کو بذریعہ وحی خبر ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً وہاں سے اٹھے اور مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔ صحابہ کو بھی آپ نے راہ ہی میں یہود کے اس مذموم ارادہ سے مطلع فرمایا۔ یہود کی یہی غداری غزوہ بنو نضیر کا فوری سبب بن گئی اور بالآخر انہیں جلا وطن ہونا پڑا۔
[الرحیق المختوم ص 462]
(10)
[سیرۃ طیبہ 2: 297 بحوالہ الرحیق المختوم ص 506]
11۔
[ابن ہشام 2: 235 تا 237 بحوالہ الرحیق المختوم ص 598]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں سیدہ عائشہؓ سے فرمایا عائشہؓ! اب مجھے معلوم ہوا کہ جو لقمہ میں نے خیبر میں کھایا تھا اس کے زہر کے اثر سے میری رگ جان کٹ گئی۔
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرض النبی]
12۔
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب کتاب النبی الی کسریٰ و قیصر]
پھر اس نے حاکم یمن باذان کو حکم بھیجا کہ وہ کسی آدمی کو بھیج کر اس مدعی نبوت کو گرفتار کر کے ہمارے حضور پیش کرے۔ باذان نے دو آدمی اس غرض سے مدینہ بھیجے۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر عرض کی کہ ”شہنشاہ عالم کسریٰ نے تم کو بلایا ہے اگر اس کے حکم کی تعمیل نہ کرو گے تو وہ تمہیں اور تمہارے ملک کو تباہ و برباد کر دے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا ”اچھا تم کل آنا۔“ دوسرے دن جب وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارے شہنشاہ عالم کو آج رات اس کے بیٹے نے قتل کر ڈالا ہے۔ تم واپس چلے جاؤ اور اسے کہہ دینا کہ اسلام کی حکومت ایران کے پایہ تخت تک پہنچے گی۔“ وہ آدمی جب یمن واپس آئے تو خسرو کے قتل کی خبر وہاں پہنچ چکی تھی۔ یہ ماجرا دیکھ کر وہ لوگ مسلمان ہو گئے۔
[سیرۃ النبی۔ شبلی نعمانی ج 1 ص 482]
13۔
14۔
15۔
16۔
آپ نے سیدنا حذیفہ بن یمان کو ان منافقوں کے نام معہ ولدیت بتلا دیئے تھے اور سیدنا حذیفہ ان کو پہنچانتے بھی تھے۔ تاہم رسول اللہ نے انہیں یہ ہدایت کردی تھی کہ عام مسلمانوں میں انہیں مشہور نہ کیا جائے۔ یہ سازشی منافق بعد میں اہل عقبہ کے نام سے مشہور ہوئے اور ان کا ذکر مسلم، کتاب صفۃ المنافقین میں بھی مجملاً مذکور ہے۔ نیز دیکھئے [سورة حجرات كا حاشيه نمبر 34]
17۔
عامر اور اربد نے راستہ ہی میں یہ سازش تیار کی کہ دھوکہ دے کر محمد کو قتل کردیں گے چناچہ جب یہ وفد مدینہ پہنچا تو عامر نے گفتگو کا آغاز کیا تاکہ آپ کو دھیان لگائے رکھے۔ اتنے میں اربد گھوم کر آپ کے پیچھے پہنچ گیا۔ وہ میان سے تلوار نکال ہی رہا تھا کہ اللہ نے اس کے ہاتھ کی حرکت بند کردی اور وہ اسے بےنیام بھی نہ کرسکا اور ان کی یہ سازش دھری کی دھری رہ گئی اور ان کے عزائم طشت ازبام ہوگئے۔ آپ نے ان دونوں پر بددعا کی۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ چناچہ واپسی پر اربد اور اس کے اونٹ پر بجلی گری جس سے وہ جل کر مرگیا۔ رہا عامر تو واپسی کے سفر کے دوران اس کی گردن پر ایک ایسی گلٹی نکلی جس نے اسے موت سے دوچار کردیا۔ مرتے وقت اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے آہ: اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور ایک فلاں خاندان کی عورت کے گھر میں موت۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عامر نے اپنی گفتگو کا جو آغاز کیا وہ یوں تھا میں آپ کو تین باتوں کا اختیار دیتا ہوں۔
(1) دیہاتی آبادی کے حاکم آپ ہوں اور شہری آبادی کا حاکم میں ہوں گا۔
(2) یا آپ کے بعد آپ کا خلیفہ میں بنوں گا۔
(3) اگر یہ دونوں باتیں نامنظور ہوں تو میں غطفان کے ایک ہزار گھوڑوں اور ایک ہزار گھوڑیوں کو آپ پر چڑھا لاؤں گا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب غزوة الرجيع و رعل و ذكوان]
اس واقعہ کے بعد وہ ایک عورت کے گھر میں طاعون کا شکار ہوگیا اور مرتے وقت اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور وہ بھی بنی فلاں کی ایک عورت کے گھر میں۔ میرے پاس میرا گھوڑا لاؤ۔ چناچہ وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور اسی حالت میں اسے موت نے آلیا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب غزوة الرجيع و رعل و ذكوان]
سو یہ ہے ان قاتلانہ حملوں اور سازشوں کی مختصر داستان جن میں بالخصوص اس محسن اعظم کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے منصوبے تیار کیے گئے تھے اس محسن انسانیت کے لیے جو دنیا بھر کے لوگوں کی اصلاح و فلاح کا یکساں درد رکھتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام سازشوں اور حملوں کو ناکام بنا کر ﴿وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ [المآئده:67] کا وعدہ پورا کردیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح بخاری میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپا لیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے، اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ رضی اللہ عنہا نے کی }۔ یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور جگہ پر مطول بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4612]
بخاری و مسلم میں ہے { اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے کسی فرمان کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپا لیتے۔ آیت «وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـىهُ» ۱؎ [33-الأحزاب:37]۔ یعنی ’ تو اپنے دل میں وہ چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور لوگوں سے جھینپ رہا تھا حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:177]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو رہا ہے کہ تمہیں کچھ باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بتائی ہیں جو اور لوگوں سے چھپائی جاتی تھیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی اور فرمایا ”قسم اللہ کی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی مخصوص چیز کا وارث نہیں بنایا۔“ [ابن ابی حاتم]
صحیح بخاری شریف میں زہری رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”اللہ کی طرف سے رسالت ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے تبلیغ ہے اور ہمارے ذمہ قبول کرنا اور تابع فرمان ہونا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:753]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی سب باتیں پہنچا دیں، اس کی گواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت ہے کہ فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کی پوری ادائیگی کی اور سب سے بڑی مجلس جو تھی، اس میں سب نے اس کا اقرار کیا یعنی حجتہ الوداع خطبے میں، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چالیس ہزار صحابہ کا گروہ عظیم تھا۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر تو نے میرے فرمان میرے بندوں تک نہ پہنچائے تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا، پھر اس کی جو سزا ہے وہ ظاہر ہے، اگر ایک آیت بھی چھپا لی تو حق رسالت ادا نہ ہو ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:468/10]
حضرت مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”جب یہ حکم نازل ہوا کہ جو کچھ اترا ہے سب پہنچا دو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ میں اکیلا ہوں اور یہ سب مل کر مجھ پر چڑھ دوڑتے ہیں، میں کس طرح کروں }۔ تو دوسرا جملہ اترا کہ ’ اگر تو نے نہ کیا تو تو نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا ‘۔ پھر فرمایا ’ تجھے لوگوں سے بچا لینا میرے ذمہ ہے۔ تیرا حافظ و ناصر میں ہوں، بے خطر رہئیے وہ کوئی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ‘۔ اس آیت سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چوکنے رہتے تھے، لوگ نگہبانی پر مقرر رہتے تھے۔
چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ { ایک رات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیدار تھے انہیں نیند نہیں آ رہی تھی میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج کیا بات ہے؟ فرمایا { کاش کہ میرا کوئی نیک بخت صحابی رضی اللہ عنہ آج پہرہ دیتا }، یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میرے کانوں میں ہتھیار کی آواز آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے؟ جواب ملا کہ میں سعد بن مالک ہوں، فرمایا: { کیسے آئے؟ } جواب دیا اس لیے کہ رات بھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکیداری کروں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باآرام سوگئے، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2885]
ایک روایت میں ہے کہ { ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی آدمی کو رکھتے، جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس چچا! اب میرے ساتھ کسی کے بھیجنے کی ضرورت نہیں، میں اللہ کے بچاؤ میں آ گیا ہوں } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11663:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب اور منکر ہے یہ واقعہ ہو تو مکہ کا ہو اور یہ آیت تو مدنی ہے، مدینہ کی بھی آخری مدت کی آیت ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مکے میں بھی اللہ کی حفاظت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہی باوجود دشمن جاں ہونے کے اور ہر ہر اسباب اور سامان سے لیس ہونے کے سردار ان مکہ اور اہل مکہ آپ کا بال تک بیکا نہ کرسکے، ابتدائے رسالت کے زمانہ میں اپنے چچا ابوطالب کی وجہ سے جو کہ قریشیوں کے سردار اور بارسوخ شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہوتی رہی، ان کے دل میں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت طبعی تھی شرعی نہ تھی۔ اگر شرعی ہوتی تو قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ان کی بھی جان کے خواہاں ہو جاتے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انصار کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی محبت پیدا کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کے ہاں چلے گئے۔
اب تو مشرکین بھی اور یہود بھی مل ملا کر نکل کھڑے ہوئے، بڑے بڑے سازو سامان لشکر لے کر چڑھ دوڑے، لیکن باربار کی ناکامیوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح خفیہ سازشیں بھی جتنی کیں، قدرت نے وہ بھی انہی پر الٹ دیں۔ ادھر وہ جادو کرتے ہیں، ادھر سورۃ معوذتین نازل ہوتی ہے اور ان کا جادو اتر جاتا ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ { ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے، جو صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی عادت کے مطابق ہر منزل میں تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے چھوڑ دیتے تھے، دوپہر کے وقت قیولہ کر رہے تھے تو ایک اعرابی اچانک آنکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار جو اسی درخت میں لٹک رہی تھی، اتار لی اور میان سے باہر نکال لی اور ڈانٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، اب بتا کون ہے جو تجھے بچا لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ مجھے بچائے گا }، اسی وقت اس اعرابی کا ہاتھ کانپنے لگتا ہے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے اور وہ درخت سے ٹکراتا ہے، جس سے اس کا دماغ پاش پاش ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ آیت اتارتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12281:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے غزوہ کیا ذات الرقاع کھجور کے باغ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کنوئیں میں پیر لٹکائے بیٹھے تھے، جو بنو نجار کے ایک شخص وارث نامی نے کہا دیکھو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کیسے؟ کہا میں کسی حیلے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے لوں گا اور پھر ایک ہی وار کر کے پار کردوں گا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ادھر ادھر کی باتیں بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلوار دیکھنے کو مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دی لیکن تلوار کے ہاتھ میں آتے ہی اس پر اس بلا کا لرزہ چڑھا کہ آخر تلوار سنبھل نہ سکی اور ہاتھ سے گر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے اور تیرے بد ارادے کے درمیان اللہ حائل ہوگیا اور یہ آیت اتری } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2913 (نزول آیت کے ذکر کے بغیر یہ روایت صحیح ہے)]
حویرث بن حارث کا بھی ایسا قصہ مشہور ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ سفر میں جس جگہ ٹھہرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے گھنا سایہ دار بڑا درخت چھوڑ دیتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے تلے آرام فرمائیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ایسے درخت تلے سوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اس درخت میں لٹک رہی تھی، ایک شخص آگیا اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا، اب بتا کہ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ بچائے گا، تلوار رکھ دے } اور وہ اس قدر ہیبت میں آگیا کہ تعمیل حکم کرنا ہی پڑی اور تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دی، اور اللہ نے یہ آیت اتاری کہ «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67]}۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:1739:حسن]
پھر فرماتا ہے ’ تیرے ذمہ صرف تبلیغ ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ تو پہنچا دے، حساب کا لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا أمر من الله لرسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - بأعظم الأوامر وأجلِّها، وهو التبليغ لما أنزل الله إليه، ويدخل في هذا كل أمر تلقَّته الأمة عنه - صلى الله عليه وسلم - من العقائد والأعمال والأقوال والأحكام الشرعيَّة والمطالب الإلهيَّة، فبلَّغ - صلى الله عليه وسلم - أكمل تبليغ، ودعا وأنذر وبشَّر ويسَّر، وعلَّم الجهَّال الأميِّين حتى صاروا من العلماء الربانيِّين، وبلَّغ بقوله وفعله وكتبه ورسله، فلم يبقَ خيرٌ إلاَّ دلَّ أمته عليه، ولا شرٌّ إلاَّ حَذَّرها عنه، وشهد له بالتبليغ أفاضلُ الأمة من الصحابة فمن بعدهم من أئمة الدين ورجال المسلمين. {وإن لم تفعلْ}؛ أي: لم تبلِّغْ ما أُنزل إليك من ربك، {فما بلَّغْت رسالته}؛ أي: فما امتثلت أمره، {والله يعصِمُك من الناس}: هذه حماية وعصمة من الله لرسوله من الناس، وأنه ينبغي أن يكون حرصُك على التعليم والتبليغ، ولا يثنيك عنه خوف من المخلوقين؛ فإن نواصيهم بيد الله، وقد تكفَّل بعصمتك، فأنت إنما عليك البلاغ المبين؛ فمن اهتدى فلنفسه، وأما الكافرون الذين لا قصد لهم إلا اتِّباعُ أهوائهم؛ فإن الله لا يهديهم، ولا يوفِّقهم للخير بسبب كفرهم.