یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۷﴾
اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو توُ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔ بے شک اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
En
اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا
En
اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی، اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچا لے گا بےشک اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 67)➊ {وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ:} یعنی اﷲ تعالیٰ کے پیغام میں سے اگر کچھ بھی چھپا لیا، یا پہنچانے میں سستی کی تو گویا سرے سے اس کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، خصوصاً یہود و نصاریٰ سے متعلق اعلانات۔ اس آیت میں ان لوگوں کی تردید ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ نے قرآن کی بعض آیات مسلمانوں تک نہیں پہنچائیں، بلکہ صرف علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کو بتائیں۔ خود علی رضی اللہ عنہ نے ان کے اس باطل عقیدے کی تردید فرمائی، چنانچہ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ (اہل بیت) کے پاس کوئی اور کتاب ہے؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”نہیں، مگر اﷲ کی کتاب یا کتاب اﷲ کی وہ سمجھ ہے جو کسی مسلمان آدمی کو عطا کی جائے، یا جو اس صحیفے میں ہے۔“ میں نے پوچھا: ”اس صحیفے میں کیا ہے؟“ فرمایا: ”دیت اور قیدیوں کو چھڑانے سے متعلق احادیث اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“ [بخاری، العلم، باب کتابۃ العلم:۱۱۱] عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جو شخص یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کوئی چیز چھپا لی تھی جو اﷲ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی تو یقینا اس نے جھوٹ بولا، کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» ”اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے۔“ [بخاری، التفسیر، باب: «یأیھا الرسول بلغ ما أنزل إلیک من ربک» : ۴۶۱۲] جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے دن) اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا: ” تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو کیا جواب دو گے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”ہم سب یہ گواہی دیں گے کہ بے شک آپ نے پیغامِ رسالت کو پہنچا دیا اور (پہنچانے کا) حق ادا کر دیا اور یہ کہ آپ نے خیر خواہی فرمائی۔“ اس پر آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے اور صحابہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اے اﷲ! تو گواہ ہو جا، اے اﷲ! تو گواہ ہو جا۔“ [مسلم، الحج، باب حجۃ النبی: ۱۲۱۸۔ بخاری: ۱۷۴۱]
➋ {وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ:} اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص حفاظت میں لے لیا اور فرمایا کہ تم میرا پیغام پہنچاؤ، میں خود تمھیں لوگوں سے بچاؤں گا۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرا دیا جاتا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سو نہیں رہے تھے، میں بھی آپ کے پاس ہی لیٹی ہوئی تھی، میں نے عرض کی: ”اے اﷲ کے رسول! کیا بات ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”کاش! کوئی نیک آدمی میرا پہرا دیتا۔“ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ میں نے ہتھیاروں کی جھنکار سنی۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: ”سعد بن ابی وقاص ہوں۔“ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیسے آنا ہوا؟“ انھوں نے کہا: ”اے اﷲ کے رسول! میں آیا ہوں کہ (آج رات) آپ کا پہرا دوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اس کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آرام سے سو گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔“ [بخاری، الجہاد والسیر، باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اﷲ: ۲۸۸۵۔ مسلم: ۲۴۱۰]
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہرے کا انتظام کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ جب یہ آیت اتری: «وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» تو آپ نے خیمے سے سر نکال کر فرمایا: ” لوگو! تم چلے جاؤ، اﷲ تعالیٰ مجھے (دشمن سے) بچائے گا۔ “ [ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ المائدۃ: ۳۰۴۶] اس کی ایک مثال وہ اعرابی بھی ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے آپ کی تلوار پکڑ کر کہا تھا کہ تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اﷲ!“
➌ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ:} یعنی اﷲ تعالیٰ کفار کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ (کبیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، یعنی اگرچہ وہ دشمن ہوں تم بے فکر یہ پیغام پہنچاؤ اور خطرہ نہ کرو۔ (موضح) یا مطلب یہ ہے کہ ہدایت و گمراہی اﷲ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو فکر نہ کرو۔ (ابن کثیر)
➋ {وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ:} اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص حفاظت میں لے لیا اور فرمایا کہ تم میرا پیغام پہنچاؤ، میں خود تمھیں لوگوں سے بچاؤں گا۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرا دیا جاتا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سو نہیں رہے تھے، میں بھی آپ کے پاس ہی لیٹی ہوئی تھی، میں نے عرض کی: ”اے اﷲ کے رسول! کیا بات ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”کاش! کوئی نیک آدمی میرا پہرا دیتا۔“ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ میں نے ہتھیاروں کی جھنکار سنی۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: ”سعد بن ابی وقاص ہوں۔“ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیسے آنا ہوا؟“ انھوں نے کہا: ”اے اﷲ کے رسول! میں آیا ہوں کہ (آج رات) آپ کا پہرا دوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اس کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آرام سے سو گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔“ [بخاری، الجہاد والسیر، باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اﷲ: ۲۸۸۵۔ مسلم: ۲۴۱۰]
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہرے کا انتظام کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ جب یہ آیت اتری: «وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» تو آپ نے خیمے سے سر نکال کر فرمایا: ” لوگو! تم چلے جاؤ، اﷲ تعالیٰ مجھے (دشمن سے) بچائے گا۔ “ [ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ المائدۃ: ۳۰۴۶] اس کی ایک مثال وہ اعرابی بھی ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے آپ کی تلوار پکڑ کر کہا تھا کہ تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اﷲ!“
➌ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ:} یعنی اﷲ تعالیٰ کفار کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ (کبیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، یعنی اگرچہ وہ دشمن ہوں تم بے فکر یہ پیغام پہنچاؤ اور خطرہ نہ کرو۔ (موضح) یا مطلب یہ ہے کہ ہدایت و گمراہی اﷲ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو فکر نہ کرو۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
67۔ 1 اس حکم کا مفاد یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے، بلا کم وکاست اور بلا خوف ملامت۔ اور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے ایک لاکھ یا ایک لاکھ چالیس ہزار کے جم غفیر میں فرمایا ـ' تم میرے بارے میں کیا کہو گے؟ انہوں نے کہا (ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام دیا اور ادا کردیا اور خیر خواہی فرما دی۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اللّھُمّ ھَلْ بَلّغتُ (تین مرتبہ) یا اللّھُم ّفَاشْھَدُ (تین مرتبہ) صحیح مسلم کتاب حج ' یعنی اے اللہ! میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا، تو گواہ رہ، تو گواہ رہ، تو گواہ رہ۔ ' 67۔ 2 یہ حفاظت اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طریقہ پر بھی فرمائی اور دنیاوی اسباب کے تحت بھی دنیاوی اسباب کے تحت اس آیت کے نزول سے بہت قبل اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ کے چچا ابو طالب کے دل میں آپ کی طبعی محبت ڈال دی اور وہ آپ کی حفاظت کرتے رہے، ان کا کفر پر قائم رہنا بھی شاید انہی اسباب کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ مسلمان ہوجاتے تو شاید سرداران قریش کے دل میں ان کی ہیبت و عظمت نہ رہتی جو ان کے ہم مذہب ہونے کی صورت میں آخر وقت تک رہی۔ پھر ان کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بعض سرداران قریش کے ذریعے سے اللہ نے وقتًا فوقتًا یہودیوں کے مکر و کید سے مطلع فرما کر خاص خطرے کے مواقع پر بچایا اور گھمسان کی جنگوں میں کفار کے انتہائی پر خطرناک حملوں سے بھی آپ کو محفوظ رکھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
67۔ اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دیجئے۔ اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اللہ کا پیغام پہچانے [112] کا حق ادا نہ کیا۔ اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ [113] رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا
[112] تمام رسولوں کی چار اہم ذمہ داریوں کا ذکر قرآن کریم میں متعدد بار آیا ہے۔ ان میں سب سے پہلی اور اہم ذمہ داری تبلیغ رسالت ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ توجہ اس طرف دی ہے۔ کفار کی ایذا رسانیوں کو سہہ سہہ کر اور پر مشقت سفر کر کر کے آپ انفرادی اور اجتماعی طور پر لوگوں سے ملتے اور ان کے کڑے کسیلے جواب سننے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری ذمہ داری سے یہ فریضہ انجام دیا۔ پھر زندگی کے آخری دور میں تین مختلف اوقات میں ہزاروں صحابہ کرامؓ کے مجمع میں ان سے گواہی لی۔ کہ آیا میں نے تبلیغ رسالت کا پیغام تمہیں پہنچا دیا؟ پھر جب انھوں نے اثبات میں جواب دیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند فرمایا ”یا اللہ گواہ رہنا“۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو تاکیداً فرمایا کہ وہ ان لوگوں کو رسالت کا پیغام پہنچا دیں جن تک یہ پیغام نہیں پہنچا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ 1۔
تبلیغ رسالت کا فریضہ:۔
سیدنا جابرؓ بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) خطبہ دینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”تم سے میرے بارے میں سوال کیا جائے گا تو تم کیا کہو گے؟“ صحابہ نے عرض کیا ”ہم گواہی دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور (حق تبلیغ) ادا کر دیا اور خوب نصیحت و خیر خواہی کی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا ”اے اللہ! گواہ رہنا۔“
[مسلم کتاب الحج۔ باب حجۃ النبی]
2۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ سن لو! تم میں سے جو لوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں کو (اس خطبہ کے ارشادات) پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب لیبلغ العلم الشاھد الغائب]
کیونکہ حاضر شاید ایسے غیر موجود شخص کو خبر دے جو اس بات کو اس سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب قول النبی رب مبلغ اوعی من سامع]
3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ (ایک دفعہ نماز کسوف کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا ”یہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ انہیں نہ کسی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی پیدائش کی وجہ سے۔“ (خطبہ ختم کرنے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر فرمایا ”اے اللہ! میں نے یقیناً تیرا پیغام پہنچا دیا۔“
[مسلم۔ کتاب الکسوف پہلی حدیث]
ہوا یہ تھا کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اسی دن سورج کو بھی اتفاق سے گہن لگ گیا۔ قدیم عرب کا اعتقاد تھا کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کسی بڑے آدمی کی موت سے لگا کرتا ہے۔ اس واقعہ پر کچھ مسلمان بھی یہ کہنے لگے کہ سورج ابراہیم کی موت کی وجہ سے گہنا گیا اور یہ دن 29 شوال 10ھ روز دو شنبہ بمطابق 27 جنوری 632ء کا دن تھا۔ جب سورج کو گہن لگنا شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو دو رکعت طویل نماز پڑھائی جس میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ اور صحابہ کو حکم دیا کہ جب سورج کو گرہن یا چاند گرہن لگے تو نماز پڑھا کرو۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل خطبہ دیا جس میں اس جاہلی عقیدہ کا بھرپور رد کیا کہ سورج اور چاند تو اللہ کی نشانیاں ہیں۔ کسی بھی شخص کی موت یا زندگی سے انہیں گرہن نہیں لگا کرتا۔ طویل خطبہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کر کے پوچھا کہ آیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ صحابہ نے اثبات میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھا کر فرمایا۔ اے اللہ! گواہ رہنا۔ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔
[بخاری۔ ابواب الکسوف، مسلم۔ کتاب الکسوف]
4۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں اپنے سر سے کپڑا ہٹایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی (اس حال میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ الفاظ دہرائے ”اے اللہ! یقیناً میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔“
[مسلم کتاب الصلٰوۃ۔ باب نہی عن قراءۃ القرآن فی الرکوع والسجود]
اور تبلیغ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس بات کو زیادہ تر ملحوظ رکھتے تھے وہ درج ذیل احادیث سے ظاہر ہے:
5۔
[مسلم کتاب الحج۔ باب حجۃ النبی]
2۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ سن لو! تم میں سے جو لوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں کو (اس خطبہ کے ارشادات) پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب لیبلغ العلم الشاھد الغائب]
کیونکہ حاضر شاید ایسے غیر موجود شخص کو خبر دے جو اس بات کو اس سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب قول النبی رب مبلغ اوعی من سامع]
3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ (ایک دفعہ نماز کسوف کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا ”یہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ انہیں نہ کسی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی پیدائش کی وجہ سے۔“ (خطبہ ختم کرنے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر فرمایا ”اے اللہ! میں نے یقیناً تیرا پیغام پہنچا دیا۔“
[مسلم۔ کتاب الکسوف پہلی حدیث]
ہوا یہ تھا کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اسی دن سورج کو بھی اتفاق سے گہن لگ گیا۔ قدیم عرب کا اعتقاد تھا کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کسی بڑے آدمی کی موت سے لگا کرتا ہے۔ اس واقعہ پر کچھ مسلمان بھی یہ کہنے لگے کہ سورج ابراہیم کی موت کی وجہ سے گہنا گیا اور یہ دن 29 شوال 10ھ روز دو شنبہ بمطابق 27 جنوری 632ء کا دن تھا۔ جب سورج کو گہن لگنا شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو دو رکعت طویل نماز پڑھائی جس میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ اور صحابہ کو حکم دیا کہ جب سورج کو گرہن یا چاند گرہن لگے تو نماز پڑھا کرو۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل خطبہ دیا جس میں اس جاہلی عقیدہ کا بھرپور رد کیا کہ سورج اور چاند تو اللہ کی نشانیاں ہیں۔ کسی بھی شخص کی موت یا زندگی سے انہیں گرہن نہیں لگا کرتا۔ طویل خطبہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کر کے پوچھا کہ آیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ صحابہ نے اثبات میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھا کر فرمایا۔ اے اللہ! گواہ رہنا۔ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔
[بخاری۔ ابواب الکسوف، مسلم۔ کتاب الکسوف]
4۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں اپنے سر سے کپڑا ہٹایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی (اس حال میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ الفاظ دہرائے ”اے اللہ! یقیناً میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔“
[مسلم کتاب الصلٰوۃ۔ باب نہی عن قراءۃ القرآن فی الرکوع والسجود]
اور تبلیغ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس بات کو زیادہ تر ملحوظ رکھتے تھے وہ درج ذیل احادیث سے ظاہر ہے:
5۔
وعظ کے آداب:۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نصیحت کرنے کے لیے وقت اور موقع کی رعایت فرماتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو برا سمجھتے کہ ہم اکتا جائیں۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب ماکان النبی یتخولھم بالموعظۃ والعلم کی لاینفروا]
6۔ ابو وائل کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعودؓ ہر جمعرات کو لوگوں کو وعظ کرتے۔ ایک شخص نے ان سے کہا۔ ”ابو عبد الرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں ہر روز وعظ سنایا کریں۔“ انہوں نے کہا ”یہ میں اس لیے نہیں کرتا کہ تمہیں اکتا دینا مجھے اچھا معلوم نہیں ہوتا اور میں وقت اور موقع دیکھ کر تمہیں وعظ سناتا ہوں جیسے رسول اللہ ہمارا وقت اور موقع دیکھ کر ہمیں نصیحت فرماتے تھے آپ کو یہی ڈر تھا کہ ہم اکتا نہ جائیں۔“
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب ماکان النبی یتخولھم، بالموعظہ والعلم کی لاینفروا]
مردوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے لئے کبھی کبھی بالخصوص الگ اہتمام فرماتے تھے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
7۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (عیدالفطر کا خطبہ دے کر) مردوں کی صف سے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلالؓ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ شاید عورتوں تک میری آواز نہیں پہنچی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو نصیحت کی اور انہیں خیرات کرنے کا حکم دیا۔ کوئی عورت اپنی بالی پھینکنے لگی، کوئی انگوٹھی اور بلالؓ نے اپنے کپڑے کے کونے میں یہ (صدقہ) لینا شروع کیا۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب عظۃ الامام النساء وتعلیمھن]
8۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں ہم پر غالب ہوئے۔ لہٰذا آپ خود ہمارے لیے ایک دن مقرر کر دیجئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وعدہ فرما لیا۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ فرمایا اور انہیں احکام شرع بتائے اور احکام میں سے ایک یہ بھی تھا جس عورت کے تین چھوٹے بچے فوت ہو جائیں (اور وہ صبر کرے) تو وہ ان کے لیے دوزخ سے آڑ بن جائیں گے کسی عورت نے کہا ”اور اگر دو ہوں تو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور دو بھی“
[بخاری۔ کتاب العلم۔ ھل یجعل للنساء یوما علی حدۃ فی العلم]
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب ماکان النبی یتخولھم بالموعظۃ والعلم کی لاینفروا]
6۔ ابو وائل کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعودؓ ہر جمعرات کو لوگوں کو وعظ کرتے۔ ایک شخص نے ان سے کہا۔ ”ابو عبد الرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں ہر روز وعظ سنایا کریں۔“ انہوں نے کہا ”یہ میں اس لیے نہیں کرتا کہ تمہیں اکتا دینا مجھے اچھا معلوم نہیں ہوتا اور میں وقت اور موقع دیکھ کر تمہیں وعظ سناتا ہوں جیسے رسول اللہ ہمارا وقت اور موقع دیکھ کر ہمیں نصیحت فرماتے تھے آپ کو یہی ڈر تھا کہ ہم اکتا نہ جائیں۔“
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب ماکان النبی یتخولھم، بالموعظہ والعلم کی لاینفروا]
مردوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے لئے کبھی کبھی بالخصوص الگ اہتمام فرماتے تھے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
7۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (عیدالفطر کا خطبہ دے کر) مردوں کی صف سے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلالؓ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ شاید عورتوں تک میری آواز نہیں پہنچی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو نصیحت کی اور انہیں خیرات کرنے کا حکم دیا۔ کوئی عورت اپنی بالی پھینکنے لگی، کوئی انگوٹھی اور بلالؓ نے اپنے کپڑے کے کونے میں یہ (صدقہ) لینا شروع کیا۔
[بخاری۔ کتاب العلم۔ باب عظۃ الامام النساء وتعلیمھن]
8۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں ہم پر غالب ہوئے۔ لہٰذا آپ خود ہمارے لیے ایک دن مقرر کر دیجئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وعدہ فرما لیا۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ فرمایا اور انہیں احکام شرع بتائے اور احکام میں سے ایک یہ بھی تھا جس عورت کے تین چھوٹے بچے فوت ہو جائیں (اور وہ صبر کرے) تو وہ ان کے لیے دوزخ سے آڑ بن جائیں گے کسی عورت نے کہا ”اور اگر دو ہوں تو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور دو بھی“
[بخاری۔ کتاب العلم۔ ھل یجعل للنساء یوما علی حدۃ فی العلم]
[113] نبی اور رسول میں فرق:۔
علماء نے ایک نبی اور ایک رسول میں جو فرق بیان کیے ہیں وہ یہ ہیں:
(1) آنے والے رسول کی بشارت پہلے ہی کتاب اللہ میں دے دی جاتی ہے جبکہ نبی کے لیے یہ بات ضروری نہیں ہوتی۔
(2) رسول پر اللہ کی کتاب یا صحیفے نازل ہوتے ہیں اور وہ الگ سے اپنی امت تشکیل دیتا ہے جبکہ نبی اپنے سے پہلی کتاب ہی کی اتباع کرتا اور کرواتا ہے۔
(3) رسول کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ خود لے لیتا ہے جبکہ انبیاء ناحق بھی سرکش کافروں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہے۔ اور رسول اللہ چونکہ تمام دنیا کے لیے اور قیامت تک کے لیے رسول ہیں۔ لہٰذا دوسروں کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری بھی زیادہ تھی۔ اسی لیے بطور خاص اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان دلایا۔ یہ آیت جنگ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے بہت بعد نازل ہوئی۔ اس سے پہلے بعض دفعہ ایسے ہنگامی حالات پیش آجاتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہرہ کے بغیر رات کو سو بھی نہ سکتے تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کبھی پہرہ نہیں بٹھایا۔ تبلیغ رسالت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان کا کس قدر خطرہ تھا؟ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش مکہ، یہود اور منافقوں کی طرف سے تقریباً سترہ بار قاتلانہ حملے ہوئے اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی اور ایسے کافروں کو ذلیل و رسوا کیا۔ ان حملوں کا اجمالی ذکر درج ذیل ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نبوت 23 سال ہے۔ ابتدائی تین سال تو انتہائی خفیہ تبلیغ کے ہیں۔ باقی بیس سال کے عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سترہ بار قاتلانہ حملے یا آپ کو قتل کر دینے کی سازشیں تیار ہوئیں۔ ان میں سے 9 حملے تو قریش مکہ کی طرف سے ہوئے، تین یہود سے، تین بدوی قبائل سے ایک منافقین سے اور ایک شاہ ایران خسرو پرویز سے اور غالباً اس دنیا میں کسی بھی دوسرے شخص پر اتنی بار قاتلانہ حملے نہیں ہوئے اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی مطلع کر کے یا مدد کر کے آپ کو دشمنوں سے بچا کر اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ اب ہم ان قاتلانہ حملوں کے واقعات کو زمانی ترتیب کے ساتھ مختصراً ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔
1۔
(1) آنے والے رسول کی بشارت پہلے ہی کتاب اللہ میں دے دی جاتی ہے جبکہ نبی کے لیے یہ بات ضروری نہیں ہوتی۔
(2) رسول پر اللہ کی کتاب یا صحیفے نازل ہوتے ہیں اور وہ الگ سے اپنی امت تشکیل دیتا ہے جبکہ نبی اپنے سے پہلی کتاب ہی کی اتباع کرتا اور کرواتا ہے۔
(3) رسول کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ خود لے لیتا ہے جبکہ انبیاء ناحق بھی سرکش کافروں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہے۔ اور رسول اللہ چونکہ تمام دنیا کے لیے اور قیامت تک کے لیے رسول ہیں۔ لہٰذا دوسروں کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری بھی زیادہ تھی۔ اسی لیے بطور خاص اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان دلایا۔ یہ آیت جنگ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے بہت بعد نازل ہوئی۔ اس سے پہلے بعض دفعہ ایسے ہنگامی حالات پیش آجاتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہرہ کے بغیر رات کو سو بھی نہ سکتے تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کبھی پہرہ نہیں بٹھایا۔ تبلیغ رسالت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان کا کس قدر خطرہ تھا؟ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش مکہ، یہود اور منافقوں کی طرف سے تقریباً سترہ بار قاتلانہ حملے ہوئے اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی اور ایسے کافروں کو ذلیل و رسوا کیا۔ ان حملوں کا اجمالی ذکر درج ذیل ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نبوت 23 سال ہے۔ ابتدائی تین سال تو انتہائی خفیہ تبلیغ کے ہیں۔ باقی بیس سال کے عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سترہ بار قاتلانہ حملے یا آپ کو قتل کر دینے کی سازشیں تیار ہوئیں۔ ان میں سے 9 حملے تو قریش مکہ کی طرف سے ہوئے، تین یہود سے، تین بدوی قبائل سے ایک منافقین سے اور ایک شاہ ایران خسرو پرویز سے اور غالباً اس دنیا میں کسی بھی دوسرے شخص پر اتنی بار قاتلانہ حملے نہیں ہوئے اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی مطلع کر کے یا مدد کر کے آپ کو دشمنوں سے بچا کر اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ اب ہم ان قاتلانہ حملوں کے واقعات کو زمانی ترتیب کے ساتھ مختصراً ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔
1۔
آپﷺ کی جان بچانے والے کی شہادت:
کوہ صفا پر اپنے اقربین کو دعوت دینے کے بعد جب آیت ﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ﴾ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم کعبہ میں جا کر توحید کا اعلان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعلان مشرکین مکہ کی سب سے بڑی توہین کے مترادف تھا۔ چنانچہ دفعتاً ایک ہنگامہ بپا ہو گیا اور ہر طرف سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پل پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب (سیدہ خدیجہؓ کے پہلے خاوند سے بیٹے) حارث بن ابی ہالہ گھر میں موجود تھے انہیں خبر ہوئی تو دوڑتے ہوئے آئے اور آپ کو بچانا چاہا۔ اب ہر طرف سے ان پر تلواریں پڑنے لگیں اور وہ شہید ہو گئے۔ اسلام کی راہ میں یہ پہلا خون تھا جو بہایا گیا۔
[الاصابہ فی تمییز الصحابہ ذکر حارث بن ابی ہالہ بحوالہ سیرت النبی ج 1 ص 314]
2۔
[الاصابہ فی تمییز الصحابہ ذکر حارث بن ابی ہالہ بحوالہ سیرت النبی ج 1 ص 314]
2۔
ابو جہل کا ارادہ قتل:
ایک دن ابو جہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا ”میں نے اللہ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ کسی وقت جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جائیں تو بھاری پتھر سے ان کا سر کچل دوں تاکہ یہ روز روز کا جھگڑا ختم ہو۔ اس کے بعد چاہے تو تم لوگ مجھے بالکل بے یار و مددگار چھوڑ دو کہ بنو عبد مناف مجھ سے جیسا چاہے سلوک کریں اور چاہے تو میری حفاظت کرو۔“ اس کے ساتھیوں نے کہا ”واللہ! تمہیں بے یار و مددگار نہ چھوڑیں گے۔ لہٰذا تمہارا جو جی چاہے کر گزرو۔“ اس تجویز کے مطابق ابو جہل ایک بھاری پتھر لے کر کعبہ میں پہنچا اور مناسب موقع کا انتظار کرنے لگا۔ چنانچہ جب آپ سجدہ میں گئے تو ابو جہل پتھر لے کر آپ کے قریب پہنچا مگر یکدم خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنے لگا اس کا رنگ اڑا ہوا تھا اور پتھر کو بھی مشکل سے نیچے رکھ سکا۔ اس کے ساتھی بڑے متعجب تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا ”ابو الحکم! یہ کیا ماجرا ہے؟“ وہ کہنے لگا ”میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ رہا تھا تو ایک مہیب شکل کا اونٹ مجھے نظر آیا۔ بخدا میں نے کسی اونٹ کی ایسی ڈراؤنی کھوپڑی، گردن اور ایسے ڈراؤنے دانت کبھی نہیں دیکھے۔ وہ اونٹ مجھے کھا جانا چاہتا تھا اور میں نے مشکل سے پیچھے ہٹ کر اپنی جان بچائی تھی۔“
[ابن ہشام 1: 298-299 بحوالہ الرحیق المختوم ص 151]
3۔
[ابن ہشام 1: 298-299 بحوالہ الرحیق المختوم ص 151]
3۔
عقبہ بن ابی معیط کا ارادہ قتل:
عقبہ ہر وقت اس تاک میں رہتا تھا کہ آپ کا گلا گھونٹ کر آپ کا کام تمام کر دے۔ اور ایسا موقع مشرکین کو اس وقت میسر آتا تھا جب آپ کعبہ میں نماز ادا کر رہے ہوتے تھے۔ چنانچہ سیدنا عروہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے پوچھا کہ ”مشرکین مکہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے سخت ایذا پہنچائی وہ کیا تھی؟“ تو انہوں نے اپنا چشم دید واقعہ یوں بیان کیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں نماز ادا کر رہے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اپنی چادر آپ کے گلے میں ڈال کر اسے اس قدر بل دیئے کہ آپ کا گلا گھٹنا شروع ہو گیا۔ آنکھیں باہر نکل آئیں اور قریب تھا کہ آپ کا کام تمام ہو جاتا۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ آن پہنچے۔ انہوں نے زور سے عقبہ کو پرے دھکیل کر آپ کو چھڑایا اور فرمایا ”کیا تم اس شخص کو صرف اس لیے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے۔ حالانکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے؟“ [40: 28]
[بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب فضل ابی بکر بعد النبی کتاب التفسیر سورۃ مومن]
اور سیدہ اسماءؓ کی روایت میں مزید تفصیل یہ ہے کہ جب عقبہ نے آپ کی گردن میں چادر ڈال کر زور سے گھونٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چیخ نکل گئی کہ ”اپنے ساتھی کو بچاؤ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چیخ سن کر ہی سیدنا ابو بکر صدیقؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے آئے تھے اور جب سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے عقبہ کو دھکیل کر پرے ہٹا دیا تو مشرکین سیدنا ابو بکر صدیقؓ پر حملہ آور ہوئے اور جب وہ واپس لوٹے تو ان کی اپنی یہ کیفیت تھی کہ ہم ان کی چوٹی کا جو بال بھی چھوتے تھے وہ ہماری چٹکی کے ساتھ چلا آتا تھا۔
[مختصر سیرۃ الرسول ص 13 بحوالہ الرحیق المختوم 8 ص 153]
4۔
[بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب فضل ابی بکر بعد النبی کتاب التفسیر سورۃ مومن]
اور سیدہ اسماءؓ کی روایت میں مزید تفصیل یہ ہے کہ جب عقبہ نے آپ کی گردن میں چادر ڈال کر زور سے گھونٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چیخ نکل گئی کہ ”اپنے ساتھی کو بچاؤ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چیخ سن کر ہی سیدنا ابو بکر صدیقؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے آئے تھے اور جب سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے عقبہ کو دھکیل کر پرے ہٹا دیا تو مشرکین سیدنا ابو بکر صدیقؓ پر حملہ آور ہوئے اور جب وہ واپس لوٹے تو ان کی اپنی یہ کیفیت تھی کہ ہم ان کی چوٹی کا جو بال بھی چھوتے تھے وہ ہماری چٹکی کے ساتھ چلا آتا تھا۔
[مختصر سیرۃ الرسول ص 13 بحوالہ الرحیق المختوم 8 ص 153]
4۔
سیدنا عمر کا اسلام لانے سے قبل آپ کو قتل کرنے کا ارادہ:
ایک دفعہ مشرکین مکہ کعبہ میں بیٹھ کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی افتاد سے نجات حاصل کرنے کے سلسلہ میں غور و فکر کر رہے تھے۔ سیدنا عمر جوش میں آ کر کہنے لگے کہ میں ابھی جا کر یہ جھنجھٹ ختم کیے دیتا ہوں اور ننگی تلوار لے کر اس ارادہ سے نکل کھڑے ہوئے راہ میں ایک مسلمان نعیم بن عبد اللہ ملے اور پوچھا ”عمر! آج کیا ارادے ہیں؟“ کہنے لگے ”تمہارے پیغمبر کا کام تمام کرنے جا رہا ہوں“ نعیمؓ کہنے لگے ”پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔ تمہاری بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہو چکے ہیں۔“ سیدنا عمر نے اسی غصہ کی حالت میں ان کے گھر کا رخ کیا۔ دروازہ بند تھا۔ اندر سے قرآن پڑھنے کی آواز آرہی تھی اور خباب بن الارتؓ انہیں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ سیدنا عمر نے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو سیدنا عمر نے اپنے بہنوئی کو بے تحاشہ پیٹنا شروع کر دیا۔ ان کی بہن فاطمہ آڑے آئیں تو انہیں بھی لہولہان کر دیا۔ فاطمہ کہنے لگیں ”عمر! تم ہمیں مار بھی ڈالو تب بھی ہم اسلام کو چھوڑ نہیں سکتے۔“ بہن کی اس بات پر آپ کا دل پسیج گیا۔ کہنے لگے اچھا مجھے بھی یہ کلام سناؤ۔ قرآن نے مزید دل کو متاثر کیا اور آپ کے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ وہاں سے اٹھے اور سیدھے دار ارقم کی طرف ہو لیے۔ تلوار اسی طرح ہاتھ میں تھی مگر اب ارادہ یکسر بدل چکا تھا۔ دار ارقم پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ مسلمانوں نے دراڑ سے دیکھا کہ عمر ننگی تلوار لیے دروازہ پر کھڑے ہیں۔ مسلمان سہم سے گئے۔ سیدنا حمزہؓ بھی وہاں موجود تھے کہنے لگے، دروازہ کھول دو۔ اگر عمر کسی برے ارادہ سے آیا ہے تو اسی کی تلوار سے اس کا سر قلم کر دوں گا۔ دروازہ کھولا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود آگے بڑھے اور عمر کا دامن کھینچ کر پوچھا ”عمر کس ارادہ سے آئے ہو؟“ سیدنا عمر نے بڑے ادب سے کہا ”اسلام لانے کے لیے حاضر ہوا ہوں“ چنانچہ سب کے سامنے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا جس پر سب مسلمانوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ گویا سیدنا عمر کا ارادہ قتل ہی آپ کے اسلام لانے کا سبب بن گیا۔
[سیرۃ النبی شبلی نعمانی ج 1 ص 228 بحوالہ طبقات ابن سعد و ابن عساکر و کامل لابن الاثیر]
5۔
[سیرۃ النبی شبلی نعمانی ج 1 ص 228 بحوالہ طبقات ابن سعد و ابن عساکر و کامل لابن الاثیر]
5۔
قتل کے ارادہ سے ابو طالب سے سودا بازی:
جب قریشی سرداروں کو یقین ہو گیا کہ ابو طالب اپنے بھتیجے کی حمایت سے کسی صورت بھی دستبردار ہونے کو تیار نہیں تو انہوں نے ایک نہایت گھناؤنی سازش سے ابو طالب کو فریب دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سکیم تیار کی۔ چند قریشی سردار مکہ کے رئیس اعظم ولید بن مغیرہ کے بیٹے عمارہ کو ہمراہ لے کر ابو طالب کے پاس آئے اور کہا ”یہ قریش کا سب سے بانکا اور خوبصورت نوجوان ہے آپ اسے اپنی کفالت میں لے لیں اور اپنا متبنیٰ بنا لیں۔ اس کی دیت اور نصرت کے آپ حقدار ہوں گے اور اس کے عوض آپ اپنے بھتیجے کو ہمارے حوالہ کر دیں جو ہمارے آباء و اجداد کے دین کا مخالف ہے اور انہیں احمق قرار دیتا ہے اور قوم کا شیرازہ منتشر کر رہا ہے ہم اسے قتل کرنا چاہتے ہیں اور یہ ایک آدمی کے بدلے ایک آدمی کا حساب ہے۔“ ابو طالب کہنے لگے۔ ”واللہ! یہ کتنا برا سودا ہے جس کی تم مجھے ترغیب دینے آئے ہو۔ تم چاہتے ہو کہ میں تو تمہارے بیٹے کو کھلاؤں پلاؤں اور پالوں پوسوں اور اس کے عوض تم میرا بیٹا مجھ سے لے کر اسے قتل کر دو۔ واللہ! یہ نا ممکن ہے۔“ اس پر مطعم بن عدی ابو طالب سے کہنے لگا ”بخدا! تم سے تمہاری قوم نے انصاف کی بات کہی ہے۔ مگر تم تو کسی بات کو قبول ہی نہیں کرتے۔“ ابو طالب کہنے لگے ”بخدا! یہ انصاف کی بات نہیں ہے بلکہ مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ تم بھی میرا ساتھ چھوڑ کر مخالفوں سے مل گئے ہو۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو ٹھیک ہے جو چاہو کرو۔“
[ابن ہشام 1: 266، 267 بحوالہ الرحیق المختوم ص 145]
ابو طالب کے اس جواب سے مایوس ہو کر قریش کا یہ مجمع منتشر ہو کر چلا گیا۔
6۔
[ابن ہشام 1: 266، 267 بحوالہ الرحیق المختوم ص 145]
ابو طالب کے اس جواب سے مایوس ہو کر قریش کا یہ مجمع منتشر ہو کر چلا گیا۔
6۔
وہ مشورہ قتل جو آپﷺ کی ہجرت کا سبب بنا:
یہ واقعہ سورۃ انفال کی آیت نمبر 30 میں مذکور ہے اور حاشیہ میں اس کی پوری تفصیل آگئی ہے وہاں سے ملاحظہ کر لیا جائے۔ مختصراً یہ کہ اس مجلس مشاورت میں ابلیس خود بھی شامل ہوا تھا اور بالآخر طے یہ پایا تھا کہ مختلف قبائل کے گیارہ آدمی فلاں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیے رہیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم علی الصبح گھر سے نکلیں تو سب آدمی یکبارگی حملہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکوں کی اس سازش کی اطلاع بھی دے دی۔ اور ہجرت کی اجازت بھی دے دی۔ چنانچہ نہایت خفیہ طور پر ہجرت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مشرکین و کفار کے شر سے بال بال بچ گئے۔ اور کافروں کا یہ منصوبہ بھی بری طرح ناکام ہو گیا۔
7۔
7۔
ہجرت کے بعد آپﷺ کی گرفتاری یا قتل پر سو اونٹ انعام کی پیش کش:
اس بھاری انعام کے لالچ میں لوگ فرداً فرداً بھی اور ٹولیاں بن کر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش اور تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور ایک گروہ تو نقوش پا کا سراغ لگاتے لگاتے غار ثور کے دہانہ تک پہنچ بھی گیا۔ یہ لوگ غار کے منہ کے اس قدر قریب ہو گئے تھے کہ اگر وہ اپنے پاؤں کی طرف دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ پر نظر پڑ سکتی تھی۔ اس موقعہ پر بھی صبر و استقامت کے اس پیکر اعظم میں ذرہ بھر بھی لغزش نہ آئی۔ اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ”غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ [9: 40] یہ واقعہ بھی سورۃ توبہ آیت نمبر 40 میں مذکور ہے وہاں حاشیہ دیکھ لیا جائے۔ انفرادی تعاقب کرنے والوں میں سراقہ بن مالک کا واقعہ خاص طور پر قابل ذکر ہے جو فی الواقع آپ کے سر پر جا پہنچا تھا مگر اس کے گھوڑے نے یک لخت ٹھوکر کھائی تو وہ گر پڑا۔ پھر سوار ہوا تو پھر گھوڑے نے دوسری بار ٹھوکر کھائی۔ پھر گرا۔ پھر سوار ہوا تو گھوڑے نے تیسری بار ٹھوکر کھائی۔ اب وہ سمجھ گیا کہ اس کی خیر اسی میں ہے کہ وہ ان کے قریب تک نہ جائے۔ رسول اللہ نے مڑ کر جو سراقہ کو دیکھا تو دعا کی ’اے اللہ اسے گرا دے‘ چنانچہ اس کا گھوڑا گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔
[بخاری۔ کتاب الانبیاء۔ باب ہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ]
مزید تفصیل سورۃ توبہ کی آیت نمبر 40 کے حاشیہ یعنی واقعہ ہجرت میں آئے گی۔
8۔
[بخاری۔ کتاب الانبیاء۔ باب ہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ]
مزید تفصیل سورۃ توبہ کی آیت نمبر 40 کے حاشیہ یعنی واقعہ ہجرت میں آئے گی۔
8۔
عمیر بن وہب جمحی کا ارادہ قتل 2ھ:
عمیر بھی آپ کے صف اول کے دشمنوں میں سے تھا۔ جنگ بدر میں اس کا بیٹا گرفتار ہو کر مسلمانوں کی قید میں چلا گیا تو یہ شخص غصہ سے بے تاب ہو گیا اور انتقام لینے کا تہیہ کر لیا۔ ایک دن عمیر نے حطیم میں بیٹھ کر صفوان بن امیہ کے سامنے بدر کے کنوئیں میں پھینکے جانے والے مقتولین کا ذکر کیا تو صفوان کہنے لگا ”واللہ! اب تو جینے کا کچھ مزا نہیں“ عمیر کہنے لگا ”اگر میرے سر پر قرض نہ ہوتا اور میرے اہل و عیال نہ ہوتے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اسے قتل کر ڈالتا۔“ صفوان کہنے لگا ”تمہارے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ رہی اور بال بچوں کی نگہداشت بھی۔ اگر میرے پاس کچھ کھانے کو ہو گا تو انہیں بھی ضرور ملے گا۔“ عمیر نے کہا ”ٹھیک ہے مگر اب اس بات کو اپنی ذات تک محدود رکھنا۔“ اور صفوان نے اس بات کا اقرار کر لیا۔ اب عمیر نے اپنی تلوار کو زہر آلود کرایا اور مدینہ جا کر مسجد نبوی میں پہنچ گیا۔ سیدنا عمرؓ نے آپ کو اطلاع دی کہ آپ کا دشمن عمیر بن وہب گلے میں تلوار حمائل کیے آیا ہے اور آپ سے ملاقات کی اجازت چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسے آنے دو“ تاہم سیدنا عمرؓ نے از راہ احتیاط اس کی تلوار کا پر تلا لپیٹ کر پکڑ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرؓ سے کہا ”اس کی تلوار کو چھوڑ دو“ پھر عمیر سے پوچھا ”بتاؤ کیسے آنا ہوا؟“ عمیر کہنے لگا ”میرا بیٹا آپ کی قید میں ہے آپ احسان فرما دیجئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر یہی بات ہے تو پھر تلوار کیوں حمائل کر رکھی ہے۔“ کہنے لگا ”یہ تلواریں بھلا پہلے کس کام آئیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ٹھیک ٹھیک بات بتاؤ۔ ادھر ادھر کی مت ہانکو۔“ اور جب عمیر نے پھر وہی پہلی بات دہرا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بات یوں نہیں۔ بلکہ تم مجھے قتل کرنے کے ارادہ سے آئے ہو۔ تم نے اور صفوان بن امیہ نے حطیم میں بیٹھ کر یہ مشورہ کیا۔ صفوان نے تمہارے قرض اور بال بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری قبول کی اور تم مجھے قتل کرنے یہاں آگئے۔ لیکن یاد رکھو اللہ میرے اور تمہارے درمیان حائل ہے۔“ عمیر نے خیال کیا کہ یہ معاملہ ایسا تھا جس کا صفوان کے علاوہ کسی کو بھی علم نہ تھا اسے کس نے بتایا؟ یقیناً یہ نبی ہی ہو سکتا ہے اور ہم ہی غلطی پر ہیں۔ اس خیال کے آتے ہی اس نے آپ کے سامنے کلمہ شہادت کا اقرار کیا اور مسلمان ہو گیا۔ آپ نے صحابہ سے فرمایا: اپنے بھائی کو دین سمجھاؤ، قرآن پڑھاؤ اور اس کے بیٹے کو آزاد کر دو۔“ ادھر صفوان نے مکہ میں مشہور کر رکھا تھا کہ میں عنقریب تم لوگوں کو ایک خوشخبری سناؤں گا مگر اس کے بجائے جب اسے عمیر کے مسلمان ہو جانے کی اطلاع ملی تو غصہ سے جل بھن گیا اور اس نے قسم کھا لی کہ آئندہ عمیر سے بات تک نہ کروں گا اور نہ ہی اسے کسی قسم کا نفع پہنچاؤں گا۔ عمیر اسلام سیکھ کر چند دن بعد مکہ آیا۔ اور یہاں آکر دعوت کا کام شروع کر دیا اور اس کے ذریعہ بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔
[ابن ہشام 1: 661 تا 663 بحوالہ الرحیق المختوم ص 372]
(9)
[ابن ہشام 1: 661 تا 663 بحوالہ الرحیق المختوم ص 372]
(9)
یہود کا منصوبہ قتل 4ھ:
بئر معونہ کے واقعہ نے ایک دفعہ پھر غزوہ احد کے چرکہ کی یاد تازہ کر دی۔ ستر قاریوں میں سے صرف عمرو بن امیہ ضمری بچے جنہیں کافروں نے گرفتار کر لیا۔
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ غزوۃ الرجیع و بئر معونہ]
مگر آپ ان کی قید سے نکل بھاگے اور مدینہ پہنچ کر اس دردناک واقعہ کی آپ کو اطلاع دی۔ راستہ میں عمرو بن امیہ نے غلطی سے دو آدمیوں کو دشمن سمجھ کر ان کا صفایا کر دیا حالانکہ وہ معاہد تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ کو بہت دکھ ہوا اور فرمایا کہ ”اب ہمیں ان دو آدمیوں کی دیت ادا کرنا ہو گی۔“ چنانچہ اس رقم کی فراہمی میں مشغول ہو گئے۔ میثاق مدینہ کی رو سے یہود بھی اس طرح کی دیت میں برابر کے شریک قرار دیئے گئے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کو ساتھ لے کر بنو نضیر کے ہاں تشریف لے گئے۔ ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مکان کے صحن میں بٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور یہود وہاں سے اس بہانہ سے اٹھ کر چلے آئے کہ ہم جا کر رقم اکٹھی کرتے ہیں۔ وہاں سے باہر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کے مشورے ہونے لگے۔ ایک یہودی کہنے لگا ”کون ہے جو مکان کی چھت پر جا کر اوپر سے چکی کا پاٹ گرا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر گرا کر اسے کچل ڈالے؟“ ایک دوسرا بدبخت فوراً اس کام کے لیے تیار ہو گیا۔ ان لوگوں کے اس ارادہ کی آپ کو بذریعہ وحی خبر ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً وہاں سے اٹھے اور مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔ صحابہ کو بھی آپ نے راہ ہی میں یہود کے اس مذموم ارادہ سے مطلع فرمایا۔ یہود کی یہی غداری غزوہ بنو نضیر کا فوری سبب بن گئی اور بالآخر انہیں جلا وطن ہونا پڑا۔
[الرحیق المختوم ص 462]
(10)
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ غزوۃ الرجیع و بئر معونہ]
مگر آپ ان کی قید سے نکل بھاگے اور مدینہ پہنچ کر اس دردناک واقعہ کی آپ کو اطلاع دی۔ راستہ میں عمرو بن امیہ نے غلطی سے دو آدمیوں کو دشمن سمجھ کر ان کا صفایا کر دیا حالانکہ وہ معاہد تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ کو بہت دکھ ہوا اور فرمایا کہ ”اب ہمیں ان دو آدمیوں کی دیت ادا کرنا ہو گی۔“ چنانچہ اس رقم کی فراہمی میں مشغول ہو گئے۔ میثاق مدینہ کی رو سے یہود بھی اس طرح کی دیت میں برابر کے شریک قرار دیئے گئے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کو ساتھ لے کر بنو نضیر کے ہاں تشریف لے گئے۔ ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مکان کے صحن میں بٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور یہود وہاں سے اس بہانہ سے اٹھ کر چلے آئے کہ ہم جا کر رقم اکٹھی کرتے ہیں۔ وہاں سے باہر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کے مشورے ہونے لگے۔ ایک یہودی کہنے لگا ”کون ہے جو مکان کی چھت پر جا کر اوپر سے چکی کا پاٹ گرا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر گرا کر اسے کچل ڈالے؟“ ایک دوسرا بدبخت فوراً اس کام کے لیے تیار ہو گیا۔ ان لوگوں کے اس ارادہ کی آپ کو بذریعہ وحی خبر ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً وہاں سے اٹھے اور مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔ صحابہ کو بھی آپ نے راہ ہی میں یہود کے اس مذموم ارادہ سے مطلع فرمایا۔ یہود کی یہی غداری غزوہ بنو نضیر کا فوری سبب بن گئی اور بالآخر انہیں جلا وطن ہونا پڑا۔
[الرحیق المختوم ص 462]
(10)
ثمامہ بن اثال کا ارادہ قتل 6ھ:
سنہ 6 ہجری میں مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا لشکر محمد بن مسلمہؓ کی سر کردگی میں یمنی قبیلوں کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا۔ یہ لشکر قبیلہ بنو حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال حنفی کو گرفتار کر کے مدینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ ثمامہ مسیلمہ کذاب کے حکم سے بھیس بدل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادہ سے نکلا تھا کہ مسلمانوں کے اس لشکر کے ہتھے چڑھ گیا اور مسلمانوں نے اسے گرفتار کر لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دینے کا حکم دیا اور پوچھا ”ثمامہ! کیا صورت حال ہے؟“ ثمامہ کہنے لگا ”اگر مجھے قتل کر دو گے تو میرا قصاص لیا جائے گا اور اگر معاف کر دو گے تو ایک قدردان کو معاف کرو گے اور مال چاہتے ہو تو جتنا چاہو مل جائے گا۔“ آپ ثمامہ کا یہ جواب سن کر واپس چلے گئے اور کوئی جواب نہ دیا۔ دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لائے اور وہی پہلا سا سوال کیا۔ جواب میں ثمامہ نے بھی وہی پہلی باتیں دہرا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آئے اور کوئی جواب نہ دیا۔ تیسرے دن پھر ایسا ہی سوال و جواب ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کا وہی پہلا جواب سن کر صحابہ سے فرمایا کہ ”اسے رہا کر دو۔“ رہائی کے بعد ثمامہ نے ایک باغ میں جا کر غسل کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آکر اسلام قبول کر لیا۔ اور کہنے لگا ”واللہ! آج سے پہلے مجھے آپ کا چہرہ سب سے زیادہ ناپسند تھا مگر آج سب سے زیادہ محبوب ہے اور آپ کا دین سب ادیان سے زیادہ ناپسند تھا مگر آج یہی دین سب سے زیادہ محبوب ہے میں عمرہ کا ارادہ کر رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے مجھے پکڑ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بشارت دی اور عمرہ کرنے کی ہدایت فرمائی۔ چنانچہ جب ثمامہ عمرہ کرنے کی غرض سے مکہ آئے تو مشرکین مکہ کہنے لگے ”ثمامہ بے دین ہو گیا ہے“ ثمامہ نے کہا ”نہیں بلکہ میں تو مسلمان ہوا ہوں اور دیکھو! آئندہ تمہیں یمن سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ پہنچے گا تا آنکہ رسول اللہ مجھے اس بات کا حکم نہ دیں۔“ چنانچہ بعد میں واقعتاً بھی یہی کچھ ہوا۔ ثمامہ بن اثال کا واقعہ صحیحین میں کئی مقامات پر مذکور ہے مگر ان میں یہ صراحت نہیں کہ ثمامہ جب گرفتار ہوئے تو اس وقت مسیلمہ کذاب کے حکم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کے ارادہ سے نکلے تھے اس بات کی وضاحت سیرۃ طیبہ میں موجود ہے۔
[سیرۃ طیبہ 2: 297 بحوالہ الرحیق المختوم ص 506]
11۔
[سیرۃ طیبہ 2: 297 بحوالہ الرحیق المختوم ص 506]
11۔
زہر آلود بکری کے گوشت سے آپ کے قتل کی یہودی سازش 7ھ:
خیبر کے فتح ہونے اور یہود سے مزارعت کا معاملہ طے ہو جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دن خیبر میں قیام فرمایا۔ غدار اور مکار شکست خوردہ یہود نے ان ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کی ایک سازش تیار کی۔ سلام بن مشکم کی بیوی کو، جو یہودی سردار مرحب کی بیٹی تھی، اس کام کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ زینب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کا پیغام بھیجا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از راہ کرم قبول کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا گیا کہ آپ کون سا گوشت کھانا پسند فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ’دستی کا‘۔ اس دعوت میں آپ چند صحابہ سمیت وقت معینہ پر پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا شروع کیا تو پہلا نوالہ منہ میں ڈالتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر کا اثر محسوس ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ لیکن سیدنا بشرؓ بن براء نے چند ایک لقمے کھا لیے تھے لہٰذا وہ اس زہر کے اثر سے ایک دو دن بعد شہید ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب کو بلا کر پوچھا تو اس نے اعتراف جرم کر لیا اور یہ بھی بتا دیا کہ اس سازش میں پوری یہودی قوم شریک تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے پوچھا کہ ”تم نے یہ کام کیوں کیا؟“ وہ کہنے لگے کہ ”ہمارا خیال تھا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو آپ پر زہر اثر نہیں کرے گا اور اگر جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی۔“ [بخاري كتاب الطب۔ باب مايذكر فى سم النبي] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے تو زینب اور یہود کو معاف فرما دیا لیکن سیدنا بشرؓ کے قصاص میں زینب کے قتل کا حکم دے دیا۔
[ابن ہشام 2: 235 تا 237 بحوالہ الرحیق المختوم ص 598]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں سیدہ عائشہؓ سے فرمایا عائشہؓ! اب مجھے معلوم ہوا کہ جو لقمہ میں نے خیبر میں کھایا تھا اس کے زہر کے اثر سے میری رگ جان کٹ گئی۔
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرض النبی]
12۔
[ابن ہشام 2: 235 تا 237 بحوالہ الرحیق المختوم ص 598]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں سیدہ عائشہؓ سے فرمایا عائشہؓ! اب مجھے معلوم ہوا کہ جو لقمہ میں نے خیبر میں کھایا تھا اس کے زہر کے اثر سے میری رگ جان کٹ گئی۔
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرض النبی]
12۔
خسرو پرویز شاہ ایران کا ارادہ قتل 7ھ:
صلح حدیبیہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہان عجم کے نام دعوت نامے بھیجے۔ شاہ ایران کو جب یہ دعوت نامہ پہنچا تو غصہ سے خط پھاڑ دیا اور کہنے لگا: ”میرا غلام ہو کر ایسا خط لکھتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ ”اے اللہ ان لوگوں کو بھی ہلاک کر دے۔“
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب کتاب النبی الی کسریٰ و قیصر]
پھر اس نے حاکم یمن باذان کو حکم بھیجا کہ وہ کسی آدمی کو بھیج کر اس مدعی نبوت کو گرفتار کر کے ہمارے حضور پیش کرے۔ باذان نے دو آدمی اس غرض سے مدینہ بھیجے۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر عرض کی کہ ”شہنشاہ عالم کسریٰ نے تم کو بلایا ہے اگر اس کے حکم کی تعمیل نہ کرو گے تو وہ تمہیں اور تمہارے ملک کو تباہ و برباد کر دے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا ”اچھا تم کل آنا۔“ دوسرے دن جب وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارے شہنشاہ عالم کو آج رات اس کے بیٹے نے قتل کر ڈالا ہے۔ تم واپس چلے جاؤ اور اسے کہہ دینا کہ اسلام کی حکومت ایران کے پایہ تخت تک پہنچے گی۔“ وہ آدمی جب یمن واپس آئے تو خسرو کے قتل کی خبر وہاں پہنچ چکی تھی۔ یہ ماجرا دیکھ کر وہ لوگ مسلمان ہو گئے۔
[سیرۃ النبی۔ شبلی نعمانی ج 1 ص 482]
13۔
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب کتاب النبی الی کسریٰ و قیصر]
پھر اس نے حاکم یمن باذان کو حکم بھیجا کہ وہ کسی آدمی کو بھیج کر اس مدعی نبوت کو گرفتار کر کے ہمارے حضور پیش کرے۔ باذان نے دو آدمی اس غرض سے مدینہ بھیجے۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر عرض کی کہ ”شہنشاہ عالم کسریٰ نے تم کو بلایا ہے اگر اس کے حکم کی تعمیل نہ کرو گے تو وہ تمہیں اور تمہارے ملک کو تباہ و برباد کر دے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا ”اچھا تم کل آنا۔“ دوسرے دن جب وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارے شہنشاہ عالم کو آج رات اس کے بیٹے نے قتل کر ڈالا ہے۔ تم واپس چلے جاؤ اور اسے کہہ دینا کہ اسلام کی حکومت ایران کے پایہ تخت تک پہنچے گی۔“ وہ آدمی جب یمن واپس آئے تو خسرو کے قتل کی خبر وہاں پہنچ چکی تھی۔ یہ ماجرا دیکھ کر وہ لوگ مسلمان ہو گئے۔
[سیرۃ النبی۔ شبلی نعمانی ج 1 ص 482]
13۔
جادو کے ذریعہ آپ کو ہلاک کرنے کی یہودی سازش :
زہر آلود بکری کے گوشت کے واقعہ کے بعد یہود نے آپ کو ہلاک کرنے کا ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اپنے حلیف لبید بن اعصم سے جو بڑا ماہر جادوگر تھا۔ آپ پر ایسا خطرناک جادو کرنے کی درخواست کی جو آپ کو جلد از جلد ہلاک کر ڈالے۔ لبید نے اس سلسلہ میں اپنی دو لڑکیوں کو ذریعہ بنایا جنہوں نے کسی نہ کسی طرح آپ کے سر کے کچھ بال حاصل کرلیے۔ ان بالوں پر منتر پڑھے گئے پھر ان میں گانٹھیں دے کر پھونکیں ماری گئیں۔ پھر انہیں کھجوروں کے خوشوں کے غلاف میں چھپا کر ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا گیا۔ یہ جادو اتنا تیز اور سخت تھا کہ اس کے اثر سے اس کنوئیں کے پانی کا رنگ اتنا سرخ اور خونیں ہوگیا جیسے اس میں مہندی ڈال دی گئی ہو اور اس کنوئیں پر واقع درختوں کے خوشے یوں لگتے تھے جیسے سانپوں کے پھن ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں فرشتے بھیج کر اس کی حقیقت بتلا دی اور اس طرح اللہ نے آپ کو اس شر سے بھی محفوظ کرلیا۔ [تفصيل كے ليے ديكهئے بخاري۔ كتاب بدء الخلق باب صفة ابليس و جنوده۔ نيز كتاب الادب۔ باب ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ﴾ [النحل:90] اور سورة فلق كا حاشيه نمبر 5]
14۔
14۔
دشمن قبیلہ کے ایک بدوی کا ارادہ قتل :
غزوہ ذات الرقاع سے واپسی پر اسلامی لشکر نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا۔ صحابہ کرام ؓ الگ الگ درختوں کے نیچے آرام کرنے لگے۔ آپ بھی ایک درخت کے نیچے جا بیٹھے تلوار درخت سے لٹکائی اور لیٹتے ہی نیند غالب آگئی۔ اتنے میں دشمن قبیلہ کا ایک بدو وہاں پہنچ گیا۔ اس نے آپ کو قتل کرنے کے لیے اس موقعہ کو نہایت غنیمت سمجھا اور بڑھ کر تلوار درخت سے اتارنے لگا۔ وہ تلوار کو اتار ہی رہا تھا کہ آپ کو جاگ آگئی۔ بدو تلوار ہاتھ میں پکڑ کر کہنے لگا۔ اب بتلاؤ! تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے نہایت اطمینان سے جواب دیا میرا اللہ یہ الفاظ آپ نے اس قدر بےباکی سے کہے کہ بدو سخت مرعوب ہوگیا اور کانپنے لگا۔ تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔ آپ نے اپنی تلوار سنبھال لی۔ پھر جب آپ نے اس پر قابو پا لیا تو صحابہ کو بلا کر اس ماجرا سے آگاہ کیا۔ بعد میں آپ نے اس بدو کو معاف کردیا [بخاري۔ كتاب الجهاد، باب من علق سيفه بالشجرة فى السفر عند القائلة] واضح رہے کہ یہ بدوی اسی قبیلہ سے تھا جس کی سرکوبی کے لیے آپ نکلے ہوئے تھے۔
15۔
15۔
فضالہ بن عمیر کا ارادہ قتل 8 ھ :
یہ فضالہ اسی عمیر بن وہب کا بیٹا تھا جو صفوان بن امیہ سے مشورہ کے بعد آپ کو قتل کرنے کے لیے مدینہ پہنچا تھا اور نتیجتاً اسلام لا کر واپس مکہ جا کر مقیم ہوگیا تھا۔ اس کا بیٹا فضالہ ابھی تک مشرک ہی تھا۔ فتح مکہ کے بعد آپ کعبہ کا طواف فرما رہے تھے کہ فضالہ کو بھی آپ کے قتل کی سوجھی۔ جب وہ اس ارادہ سے آپ کے قریب آیا تو آپ نے خود اسے اس کے ارادہ سے مطلع کردیا۔ جس پر وہ اپنے باپ کی طرح مسلمان ہوگیا۔ [الرحيق المختوم ص 648]
16۔
16۔
منافقوں کی آپ کو قتل کرنے کی سازش 9 ھ :
غزوہ تبوک سے واپسی پر تقریباً چودہ یا پندرہ منافقوں نے یہ سازش تیار کی کہ آپ کی کھلے راستہ کے بجائے گھاٹی والے راستہ کی طرف رہنمائی کی جائے اور جب آپ وہاں پہنچ جائیں تو آپ کو سواری سے اٹھا کر نیچے گھاٹی میں پھینک کر ہلاک کردیا جائے اسی سازش کے تحت آپ کی سواری کو اس راہ پر ڈال دیا گیا۔ حذیفہ بن یمان آپ کے ہمراہ تھے۔ جب گھاٹی قریب آنے کو تھی تو چند منافق منہ پر ڈھاٹے باندھے رات کی تاریکی میں آپ کی طرف بڑھنے لگے۔ دریں اثنا آپ کو وحی کے ذریعہ منافقوں کے اس مذموم ارادہ کی اطلاع مل گئی تھی۔ آپ نے حذیفہ بن یمان کو حکم دیا کہ ان منافقوں کی سواریوں کے چہروں پر مار مار کر انہیں تتر بتر کردیں۔ اس کام سے منافقوں کو بھی شبہ ہوگیا کہ رسول اللہ ان کے مذموم ارادہ سے مطلع ہوچکے ہیں۔ لہذا اب انہیں اپنی جانیں بچانے کی فکر دامن گیر ہوئی اور انہوں نے راہ فرار اختیار کی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا یہ منصوبہ قتل بھی ناکام بنادیا۔ [الرحيق المختوم ص 686]
آپ نے سیدنا حذیفہ بن یمان کو ان منافقوں کے نام معہ ولدیت بتلا دیئے تھے اور سیدنا حذیفہ ان کو پہنچانتے بھی تھے۔ تاہم رسول اللہ نے انہیں یہ ہدایت کردی تھی کہ عام مسلمانوں میں انہیں مشہور نہ کیا جائے۔ یہ سازشی منافق بعد میں اہل عقبہ کے نام سے مشہور ہوئے اور ان کا ذکر مسلم، کتاب صفۃ المنافقین میں بھی مجملاً مذکور ہے۔ نیز دیکھئے [سورة حجرات كا حاشيه نمبر 34]
17۔
آپ نے سیدنا حذیفہ بن یمان کو ان منافقوں کے نام معہ ولدیت بتلا دیئے تھے اور سیدنا حذیفہ ان کو پہنچانتے بھی تھے۔ تاہم رسول اللہ نے انہیں یہ ہدایت کردی تھی کہ عام مسلمانوں میں انہیں مشہور نہ کیا جائے۔ یہ سازشی منافق بعد میں اہل عقبہ کے نام سے مشہور ہوئے اور ان کا ذکر مسلم، کتاب صفۃ المنافقین میں بھی مجملاً مذکور ہے۔ نیز دیکھئے [سورة حجرات كا حاشيه نمبر 34]
17۔
عامر بن طفیل اور اربد کی سازش قتل 10 ھ :
10 ھ میں مدینہ میں جو وفود آئے ان میں سے ایک وفد عامر بن صعصعہ کا بھی تھا۔ یہ وفد رشد و ہدایت کی غرض سے نہیں بلکہ آپ کے قتل کے ناپاک ارادہ سے آیا تھا۔ ایک وفد میں ایک تو عامر بن طفیل تھا اور یہ وہی شخص ہے جس نے فریب کاری سے بئرمعونہ کے ستر قاریوں کو شہید کردیا تھا۔ دوسرا اربد بن قیس۔ تیسرا خالد بن جعفر اور چوتھا جبار بن اسلم تھا۔ یہ سب کے سب قوم کے سردار اور شیطان صفت انسان تھے۔
عامر اور اربد نے راستہ ہی میں یہ سازش تیار کی کہ دھوکہ دے کر محمد کو قتل کردیں گے چناچہ جب یہ وفد مدینہ پہنچا تو عامر نے گفتگو کا آغاز کیا تاکہ آپ کو دھیان لگائے رکھے۔ اتنے میں اربد گھوم کر آپ کے پیچھے پہنچ گیا۔ وہ میان سے تلوار نکال ہی رہا تھا کہ اللہ نے اس کے ہاتھ کی حرکت بند کردی اور وہ اسے بےنیام بھی نہ کرسکا اور ان کی یہ سازش دھری کی دھری رہ گئی اور ان کے عزائم طشت ازبام ہوگئے۔ آپ نے ان دونوں پر بددعا کی۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ چناچہ واپسی پر اربد اور اس کے اونٹ پر بجلی گری جس سے وہ جل کر مرگیا۔ رہا عامر تو واپسی کے سفر کے دوران اس کی گردن پر ایک ایسی گلٹی نکلی جس نے اسے موت سے دوچار کردیا۔ مرتے وقت اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے آہ: اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور ایک فلاں خاندان کی عورت کے گھر میں موت۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عامر نے اپنی گفتگو کا جو آغاز کیا وہ یوں تھا میں آپ کو تین باتوں کا اختیار دیتا ہوں۔
(1) دیہاتی آبادی کے حاکم آپ ہوں اور شہری آبادی کا حاکم میں ہوں گا۔
(2) یا آپ کے بعد آپ کا خلیفہ میں بنوں گا۔
(3) اگر یہ دونوں باتیں نامنظور ہوں تو میں غطفان کے ایک ہزار گھوڑوں اور ایک ہزار گھوڑیوں کو آپ پر چڑھا لاؤں گا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب غزوة الرجيع و رعل و ذكوان]
اس واقعہ کے بعد وہ ایک عورت کے گھر میں طاعون کا شکار ہوگیا اور مرتے وقت اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور وہ بھی بنی فلاں کی ایک عورت کے گھر میں۔ میرے پاس میرا گھوڑا لاؤ۔ چناچہ وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور اسی حالت میں اسے موت نے آلیا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب غزوة الرجيع و رعل و ذكوان]
سو یہ ہے ان قاتلانہ حملوں اور سازشوں کی مختصر داستان جن میں بالخصوص اس محسن اعظم کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے منصوبے تیار کیے گئے تھے اس محسن انسانیت کے لیے جو دنیا بھر کے لوگوں کی اصلاح و فلاح کا یکساں درد رکھتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام سازشوں اور حملوں کو ناکام بنا کر ﴿وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ [المآئده:67] کا وعدہ پورا کردیا۔
عامر اور اربد نے راستہ ہی میں یہ سازش تیار کی کہ دھوکہ دے کر محمد کو قتل کردیں گے چناچہ جب یہ وفد مدینہ پہنچا تو عامر نے گفتگو کا آغاز کیا تاکہ آپ کو دھیان لگائے رکھے۔ اتنے میں اربد گھوم کر آپ کے پیچھے پہنچ گیا۔ وہ میان سے تلوار نکال ہی رہا تھا کہ اللہ نے اس کے ہاتھ کی حرکت بند کردی اور وہ اسے بےنیام بھی نہ کرسکا اور ان کی یہ سازش دھری کی دھری رہ گئی اور ان کے عزائم طشت ازبام ہوگئے۔ آپ نے ان دونوں پر بددعا کی۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ چناچہ واپسی پر اربد اور اس کے اونٹ پر بجلی گری جس سے وہ جل کر مرگیا۔ رہا عامر تو واپسی کے سفر کے دوران اس کی گردن پر ایک ایسی گلٹی نکلی جس نے اسے موت سے دوچار کردیا۔ مرتے وقت اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے آہ: اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور ایک فلاں خاندان کی عورت کے گھر میں موت۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عامر نے اپنی گفتگو کا جو آغاز کیا وہ یوں تھا میں آپ کو تین باتوں کا اختیار دیتا ہوں۔
(1) دیہاتی آبادی کے حاکم آپ ہوں اور شہری آبادی کا حاکم میں ہوں گا۔
(2) یا آپ کے بعد آپ کا خلیفہ میں بنوں گا۔
(3) اگر یہ دونوں باتیں نامنظور ہوں تو میں غطفان کے ایک ہزار گھوڑوں اور ایک ہزار گھوڑیوں کو آپ پر چڑھا لاؤں گا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب غزوة الرجيع و رعل و ذكوان]
اس واقعہ کے بعد وہ ایک عورت کے گھر میں طاعون کا شکار ہوگیا اور مرتے وقت اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور وہ بھی بنی فلاں کی ایک عورت کے گھر میں۔ میرے پاس میرا گھوڑا لاؤ۔ چناچہ وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور اسی حالت میں اسے موت نے آلیا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب غزوة الرجيع و رعل و ذكوان]
سو یہ ہے ان قاتلانہ حملوں اور سازشوں کی مختصر داستان جن میں بالخصوص اس محسن اعظم کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے منصوبے تیار کیے گئے تھے اس محسن انسانیت کے لیے جو دنیا بھر کے لوگوں کی اصلاح و فلاح کا یکساں درد رکھتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام سازشوں اور حملوں کو ناکام بنا کر ﴿وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ [المآئده:67] کا وعدہ پورا کردیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے کسی حکم کو چھپایا نہیں ٭٭
اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کے پیارے خطاب سے آواز دے کر اللہ تعالیٰ حکم نے دیا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ کے کل احکام لوگوں کو پہنچا دو ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا۔
صحیح بخاری میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپا لیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے، اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ رضی اللہ عنہا نے کی }۔ یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور جگہ پر مطول بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4612]
بخاری و مسلم میں ہے { اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے کسی فرمان کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپا لیتے۔ آیت «وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـىهُ» ۱؎ [33-الأحزاب:37]۔ یعنی ’ تو اپنے دل میں وہ چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور لوگوں سے جھینپ رہا تھا حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:177]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو رہا ہے کہ تمہیں کچھ باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بتائی ہیں جو اور لوگوں سے چھپائی جاتی تھیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی اور فرمایا ”قسم اللہ کی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی مخصوص چیز کا وارث نہیں بنایا۔“ [ابن ابی حاتم]
صحیح بخاری میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپا لیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے، اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ رضی اللہ عنہا نے کی }۔ یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور جگہ پر مطول بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4612]
بخاری و مسلم میں ہے { اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے کسی فرمان کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپا لیتے۔ آیت «وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـىهُ» ۱؎ [33-الأحزاب:37]۔ یعنی ’ تو اپنے دل میں وہ چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور لوگوں سے جھینپ رہا تھا حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:177]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو رہا ہے کہ تمہیں کچھ باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بتائی ہیں جو اور لوگوں سے چھپائی جاتی تھیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی اور فرمایا ”قسم اللہ کی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی مخصوص چیز کا وارث نہیں بنایا۔“ [ابن ابی حاتم]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا کیا تمہارے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے دانے کو اگایا ہے اور جانوروں کو پیدا کیا ہے کہ کچھ نہیں بجز اس فہم و روایت کے جو اللہ کسی شخص کو دے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے، اس نے پوچھا صحیفے میں کیا ہے؟ فرمایا دیت کے مسائل ہیں، قیدیوں کو چھوڑ دینے کے احکام ہیں اور یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہ کیا جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3047]
صحیح بخاری شریف میں زہری رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”اللہ کی طرف سے رسالت ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے تبلیغ ہے اور ہمارے ذمہ قبول کرنا اور تابع فرمان ہونا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:753]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی سب باتیں پہنچا دیں، اس کی گواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت ہے کہ فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کی پوری ادائیگی کی اور سب سے بڑی مجلس جو تھی، اس میں سب نے اس کا اقرار کیا یعنی حجتہ الوداع خطبے میں، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چالیس ہزار صحابہ کا گروہ عظیم تھا۔
صحیح بخاری شریف میں زہری رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”اللہ کی طرف سے رسالت ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے تبلیغ ہے اور ہمارے ذمہ قبول کرنا اور تابع فرمان ہونا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:753]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی سب باتیں پہنچا دیں، اس کی گواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت ہے کہ فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کی پوری ادائیگی کی اور سب سے بڑی مجلس جو تھی، اس میں سب نے اس کا اقرار کیا یعنی حجتہ الوداع خطبے میں، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چالیس ہزار صحابہ کا گروہ عظیم تھا۔
صحیح مسلم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطبے میں لوگوں سے فرمایا: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَسْؤُولُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» تم میرے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ } سب نے کہا ہماری گواہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کر دی اور حق رسالت ادا کر دیا اور ہماری پوری خیر خواہی کی، { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» اے اللہ! کیا میں نے تیرے تمام احکامات کو پہنچا دیا، اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1218]
مسند احمد میں یہ بھی ہے کہ { { آپ نے اس خطبے میں پوچھا کہ لوگو یہ کون سا دن ہے؟ } سب نے کہا حرمت والا، پوچھا { یہ کون سا شہر ہے }، جواب دیا، حرمت والا۔ فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ جواب ملا، حرمت والا، فرمایا: { پس تمہارے مال اور خون و آبرو آپس میں ایک دوسرے پر ایسی ہی حرمت والے ہیں جیسے اس دن کی اس شہر میں اور اس مہینے میں حرمت ہے }۔ پھر باربار اسی کو دوہرایا۔ پھر اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: { اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ } }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت تھی۔ { پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دیکھو ہر حاضر شخص غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ دیکھو میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1739] امام بخاری رحمة الله نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر تو نے میرے فرمان میرے بندوں تک نہ پہنچائے تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا، پھر اس کی جو سزا ہے وہ ظاہر ہے، اگر ایک آیت بھی چھپا لی تو حق رسالت ادا نہ ہو ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:468/10]
حضرت مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”جب یہ حکم نازل ہوا کہ جو کچھ اترا ہے سب پہنچا دو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ میں اکیلا ہوں اور یہ سب مل کر مجھ پر چڑھ دوڑتے ہیں، میں کس طرح کروں }۔ تو دوسرا جملہ اترا کہ ’ اگر تو نے نہ کیا تو تو نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا ‘۔ پھر فرمایا ’ تجھے لوگوں سے بچا لینا میرے ذمہ ہے۔ تیرا حافظ و ناصر میں ہوں، بے خطر رہئیے وہ کوئی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ‘۔ اس آیت سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چوکنے رہتے تھے، لوگ نگہبانی پر مقرر رہتے تھے۔
چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ { ایک رات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیدار تھے انہیں نیند نہیں آ رہی تھی میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج کیا بات ہے؟ فرمایا { کاش کہ میرا کوئی نیک بخت صحابی رضی اللہ عنہ آج پہرہ دیتا }، یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میرے کانوں میں ہتھیار کی آواز آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے؟ جواب ملا کہ میں سعد بن مالک ہوں، فرمایا: { کیسے آئے؟ } جواب دیا اس لیے کہ رات بھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکیداری کروں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باآرام سوگئے، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2885]
پھر فرماتا ہے ’ اگر تو نے میرے فرمان میرے بندوں تک نہ پہنچائے تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا، پھر اس کی جو سزا ہے وہ ظاہر ہے، اگر ایک آیت بھی چھپا لی تو حق رسالت ادا نہ ہو ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:468/10]
حضرت مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”جب یہ حکم نازل ہوا کہ جو کچھ اترا ہے سب پہنچا دو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ میں اکیلا ہوں اور یہ سب مل کر مجھ پر چڑھ دوڑتے ہیں، میں کس طرح کروں }۔ تو دوسرا جملہ اترا کہ ’ اگر تو نے نہ کیا تو تو نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا ‘۔ پھر فرمایا ’ تجھے لوگوں سے بچا لینا میرے ذمہ ہے۔ تیرا حافظ و ناصر میں ہوں، بے خطر رہئیے وہ کوئی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ‘۔ اس آیت سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چوکنے رہتے تھے، لوگ نگہبانی پر مقرر رہتے تھے۔
چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ { ایک رات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیدار تھے انہیں نیند نہیں آ رہی تھی میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج کیا بات ہے؟ فرمایا { کاش کہ میرا کوئی نیک بخت صحابی رضی اللہ عنہ آج پہرہ دیتا }، یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میرے کانوں میں ہتھیار کی آواز آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے؟ جواب ملا کہ میں سعد بن مالک ہوں، فرمایا: { کیسے آئے؟ } جواب دیا اس لیے کہ رات بھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکیداری کروں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باآرام سوگئے، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2885]
ایک روایت میں ہے کہ { یہ واقعہ سنہ٢ھ کا ہے۔ اس آیت کے نازل ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمے سے سر نکال کر چوکیداروں سے فرمایا: { جاؤ اب میں اللہ کی پناہ میں آگیا، تمہاری چوکیداری کی ضرورت نہیں رہی } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3046، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں ہے کہ { ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی آدمی کو رکھتے، جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس چچا! اب میرے ساتھ کسی کے بھیجنے کی ضرورت نہیں، میں اللہ کے بچاؤ میں آ گیا ہوں } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11663:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب اور منکر ہے یہ واقعہ ہو تو مکہ کا ہو اور یہ آیت تو مدنی ہے، مدینہ کی بھی آخری مدت کی آیت ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مکے میں بھی اللہ کی حفاظت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہی باوجود دشمن جاں ہونے کے اور ہر ہر اسباب اور سامان سے لیس ہونے کے سردار ان مکہ اور اہل مکہ آپ کا بال تک بیکا نہ کرسکے، ابتدائے رسالت کے زمانہ میں اپنے چچا ابوطالب کی وجہ سے جو کہ قریشیوں کے سردار اور بارسوخ شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہوتی رہی، ان کے دل میں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت طبعی تھی شرعی نہ تھی۔ اگر شرعی ہوتی تو قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ان کی بھی جان کے خواہاں ہو جاتے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انصار کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی محبت پیدا کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کے ہاں چلے گئے۔
اب تو مشرکین بھی اور یہود بھی مل ملا کر نکل کھڑے ہوئے، بڑے بڑے سازو سامان لشکر لے کر چڑھ دوڑے، لیکن باربار کی ناکامیوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح خفیہ سازشیں بھی جتنی کیں، قدرت نے وہ بھی انہی پر الٹ دیں۔ ادھر وہ جادو کرتے ہیں، ادھر سورۃ معوذتین نازل ہوتی ہے اور ان کا جادو اتر جاتا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ { ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی آدمی کو رکھتے، جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس چچا! اب میرے ساتھ کسی کے بھیجنے کی ضرورت نہیں، میں اللہ کے بچاؤ میں آ گیا ہوں } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11663:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب اور منکر ہے یہ واقعہ ہو تو مکہ کا ہو اور یہ آیت تو مدنی ہے، مدینہ کی بھی آخری مدت کی آیت ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مکے میں بھی اللہ کی حفاظت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہی باوجود دشمن جاں ہونے کے اور ہر ہر اسباب اور سامان سے لیس ہونے کے سردار ان مکہ اور اہل مکہ آپ کا بال تک بیکا نہ کرسکے، ابتدائے رسالت کے زمانہ میں اپنے چچا ابوطالب کی وجہ سے جو کہ قریشیوں کے سردار اور بارسوخ شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہوتی رہی، ان کے دل میں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت طبعی تھی شرعی نہ تھی۔ اگر شرعی ہوتی تو قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ان کی بھی جان کے خواہاں ہو جاتے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انصار کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی محبت پیدا کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کے ہاں چلے گئے۔
اب تو مشرکین بھی اور یہود بھی مل ملا کر نکل کھڑے ہوئے، بڑے بڑے سازو سامان لشکر لے کر چڑھ دوڑے، لیکن باربار کی ناکامیوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح خفیہ سازشیں بھی جتنی کیں، قدرت نے وہ بھی انہی پر الٹ دیں۔ ادھر وہ جادو کرتے ہیں، ادھر سورۃ معوذتین نازل ہوتی ہے اور ان کا جادو اتر جاتا ہے۔
ادھر ہزاروں جتن کرکے بکری کے شانے میں زہر ملا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتے ہیں، ادھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی دھوکہ دہی سے آگاہ فرما دیتا ہے اور یہ ہاتھ کاٹتے رہ جاتے ہیں اور بھی ایسے واقعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت سارے نظر آتے ہیں۔
ابن جریر میں ہے کہ { ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے، جو صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی عادت کے مطابق ہر منزل میں تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے چھوڑ دیتے تھے، دوپہر کے وقت قیولہ کر رہے تھے تو ایک اعرابی اچانک آنکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار جو اسی درخت میں لٹک رہی تھی، اتار لی اور میان سے باہر نکال لی اور ڈانٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، اب بتا کون ہے جو تجھے بچا لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ مجھے بچائے گا }، اسی وقت اس اعرابی کا ہاتھ کانپنے لگتا ہے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے اور وہ درخت سے ٹکراتا ہے، جس سے اس کا دماغ پاش پاش ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ آیت اتارتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12281:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے غزوہ کیا ذات الرقاع کھجور کے باغ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کنوئیں میں پیر لٹکائے بیٹھے تھے، جو بنو نجار کے ایک شخص وارث نامی نے کہا دیکھو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کیسے؟ کہا میں کسی حیلے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے لوں گا اور پھر ایک ہی وار کر کے پار کردوں گا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ادھر ادھر کی باتیں بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلوار دیکھنے کو مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دی لیکن تلوار کے ہاتھ میں آتے ہی اس پر اس بلا کا لرزہ چڑھا کہ آخر تلوار سنبھل نہ سکی اور ہاتھ سے گر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے اور تیرے بد ارادے کے درمیان اللہ حائل ہوگیا اور یہ آیت اتری } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2913 (نزول آیت کے ذکر کے بغیر یہ روایت صحیح ہے)]
حویرث بن حارث کا بھی ایسا قصہ مشہور ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ سفر میں جس جگہ ٹھہرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے گھنا سایہ دار بڑا درخت چھوڑ دیتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے تلے آرام فرمائیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ایسے درخت تلے سوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اس درخت میں لٹک رہی تھی، ایک شخص آگیا اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا، اب بتا کہ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ بچائے گا، تلوار رکھ دے } اور وہ اس قدر ہیبت میں آگیا کہ تعمیل حکم کرنا ہی پڑی اور تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دی، اور اللہ نے یہ آیت اتاری کہ «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67]}۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:1739:حسن]
ابن جریر میں ہے کہ { ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے، جو صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی عادت کے مطابق ہر منزل میں تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے چھوڑ دیتے تھے، دوپہر کے وقت قیولہ کر رہے تھے تو ایک اعرابی اچانک آنکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار جو اسی درخت میں لٹک رہی تھی، اتار لی اور میان سے باہر نکال لی اور ڈانٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، اب بتا کون ہے جو تجھے بچا لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ مجھے بچائے گا }، اسی وقت اس اعرابی کا ہاتھ کانپنے لگتا ہے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے اور وہ درخت سے ٹکراتا ہے، جس سے اس کا دماغ پاش پاش ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ آیت اتارتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12281:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے غزوہ کیا ذات الرقاع کھجور کے باغ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کنوئیں میں پیر لٹکائے بیٹھے تھے، جو بنو نجار کے ایک شخص وارث نامی نے کہا دیکھو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کیسے؟ کہا میں کسی حیلے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے لوں گا اور پھر ایک ہی وار کر کے پار کردوں گا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ادھر ادھر کی باتیں بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلوار دیکھنے کو مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دی لیکن تلوار کے ہاتھ میں آتے ہی اس پر اس بلا کا لرزہ چڑھا کہ آخر تلوار سنبھل نہ سکی اور ہاتھ سے گر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے اور تیرے بد ارادے کے درمیان اللہ حائل ہوگیا اور یہ آیت اتری } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2913 (نزول آیت کے ذکر کے بغیر یہ روایت صحیح ہے)]
حویرث بن حارث کا بھی ایسا قصہ مشہور ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ سفر میں جس جگہ ٹھہرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے گھنا سایہ دار بڑا درخت چھوڑ دیتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے تلے آرام فرمائیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ایسے درخت تلے سوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اس درخت میں لٹک رہی تھی، ایک شخص آگیا اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا، اب بتا کہ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ بچائے گا، تلوار رکھ دے } اور وہ اس قدر ہیبت میں آگیا کہ تعمیل حکم کرنا ہی پڑی اور تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دی، اور اللہ نے یہ آیت اتاری کہ «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67]}۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:1739:حسن]
مسند میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: { اگر یہ اس کے سوا میں ہوتا تو تیرے لیے بہتر تھا }۔ ایک شخص کو صحابہ رضی اللہ عنہم پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر رہا تھا، وہ کانپنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گھبرا نہیں چاہے تو ارادہ کرے لیکن اللہ اسے پورا نہیں ہونے دے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:471/3:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ تیرے ذمہ صرف تبلیغ ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ تو پہنچا دے، حساب کا لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ تیرے ذمہ صرف تبلیغ ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ تو پہنچا دے، حساب کا لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘۔