تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس (ابو موسیٰ) کی قوم ہے۔“ (ابن ابی حاتم، ابن جریر) ”ھدایۃ المستنیر“ کے مصنف نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔ الغرض ابو بکر رضی اللہ عنہ، ان کے ساتھی مہاجرین و انصار اور اہل یمن میں یہ خوبیاں موجود تھیں۔
صاحب الکشاف نے لکھا ہے کہ مرتد ہونے والوں کے بارہ (۱۲) فرقے تھے، ان میں سے تین فرقے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مرتد ہو گئے تھے: (1) بنو مدلج جن کا رئیس اسود عنسی تھا، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اسے فیروز دیلمی نے قتل کیا۔ (کشاف کے محشی نے لکھا ہے کہ اسود عنسی بنو مدلج سے نہیں بلکہ بنو عنس سے تھا) (2) مسیلمہ کذاب کی قوم بنو حنیفہ، جس سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ کی اور وہ حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ (3) بنو اسد جن کا رئیس طلیحہ بن خویلد تھا، ان کی سر کوبی کے لیے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ یہ شخص آخر میں مسلمان ہو گیا تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب وفد بنی حنیفۃ و حدیث ثمامۃ بن اثال]
[مسند احمد۔ بحوالہ مشکوٰۃ ج 2 ص 347]
یہی مسیلمہ اور اس کو ماننے والوں کی سب سے پہلی مرتدین کی جماعت تھی۔ چنانچہ ربیع الاول 11ھ کے آغاز میں ان لوگوں پر فوج کشی کی گئی۔ بنو حنیفہ بڑے جنگجو اور دلیر لوگ تھے وہ بڑی بے جگری سے لڑے اور بڑے گھمسان کا رن پڑا۔ اگرچہ اس جنگ میں، جو جنگ یمامہ کے نام سے مشہور ہوئی، مسلمانوں کے بھی بہت سے قاری شہید ہوئے اور کافی جانی نقصان ہوا تاہم میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ مسیلمہ کذاب خود وحشی بن حرب کے ہاتھوں اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ یہ وہی وحشی بن حرب ہے جس نے جنگ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا حمزہ کو حربے سے شہید کیا تھا۔ اس جنگ میں اس نے کفارہ کے طور پر اسی حربہ سے مسیلمہ کو قتل کیا۔
[بخاری کتاب المغازی۔ باب غزوہ احد]
[بخاری۔ کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام]
اسود عنسی قبیلہ بنو مدلج کا سردار تھا اسے ذوالحمار بھی کہتے ہیں۔ جادوگر تھا۔ اس نے اطراف یمن پر قبضہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال کو نکال دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبلؓ اور یمن کے رئیسوں کو اس کی سرکوبی کے لیے لکھا۔ آخر یہ شخص فیروز دیلمی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اس کے قتل کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت دے دی تھی۔ اگرچہ یمن سے یہ خبر دو ماہ بعد آئی تھی۔ تیسرا مرتد قبیلہ بنو اسد تھے جن کے سردار طلیحہ بن خویلد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس پر بھی لشکر کشی کی گئی اور وہ شکست کھا کر ملک شام کی طرف بھاگ گیا۔ بعدہ اس نے پھر سچے دل سے اسلام کو اختیار کر لیا۔ یہ تین قبائل تو وہ تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں ارتداد اختیار کیا تھا اور ان کی بروقت سرکوبی بھی کر دی گئی تھی۔
(1) فزارہ عیینہ ابن حصن کی قوم (2) غطفان قرۃ بن سلمہ قشیری کی قوم (3) بنو سلیم۔ فجارہ بن عبدیالیل کی قوم (4) بنو یربوع مالک بن نویرہ کی قوم (5) بنو تمیم کے بعض لوگ جو سجاح بنت منذر کے مرید ہو گئے اس عورت نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مسیلمہ سے نکاح کر لیا تھا (6) کندہ اشعث بن قیس کی قوم اور (7) بحرین میں بنو بکر بن وائل، حطم بن زید کی قوم۔
[بخاری۔ کتاب استتابۃ المعاندین و المرتدین]
چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ خود جہاد کو روانہ ہونے پر تیار ہو گئے۔ سیدنا علیؓ نے انہیں یہ رائے دی کہ آپ کا مدینہ میں موجود رہنا جہاد پر روانہ ہونے سے زیادہ ضروری ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانعین زکوٰۃ اور مرتدین دونوں کی سرکوبی کے لیے سیدنا خالد بن ولیدؓ کو سپہ سالار بنا کر روانہ کیا اور اس وقت تک جہاد کا کام جاری رکھا جب تک کہ مرتدین اور مانعین زکوٰۃ کو راہ راست پر نہیں لے آئے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس وقت کے مسلمانوں سے تہدید کے طور پر فرماتا ہے کہ اللہ کے دین کی سربلندی کا انحصار تم پر ہی نہیں۔ اگر تم میں سے کوئی مرتد ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو آگے لے آئے گا جن میں یہ اور یہ اوصاف ہوں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں اور آپ کی وفات کے بعد جو بے شمار قبائل مرتد ہو گئے تھے ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کون سے لوگ لایا تھا اور ان کا سردار کون تھا جس کے ہاتھ پر یہ وعدہ پورا ہوا؟ اور جو لوگ تاریخ اسلام سے تھوڑے بہت بھی واقف ہیں وہ بے ساختہ کہہ دیں گے کہ ان مرتدوں کے مقابلہ میں صحابہ کرامؓ انصار و مہاجرین اور اہل یمن کے لوگ اٹھے تھے۔ جنہوں نے ان سب مرتد لوگوں کی سرکوبی کی تھی اور ان کے سردار اور خلیفہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ تھے۔ اب اس آیت سے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کی تصدیق ہوتی ہے اسی طرح سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی خلافت بھی برحق ثابت ہوتی ہے۔
﴿وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىٕمٍ﴾
کے خلاف ہے۔ دوسرے اگر سیدنا علیؓ خود بھی ارتداد کا یہی مطلب سمجھتے تھے تو کم از کم یہ تو کر سکتے تھے کہ خود ان کا ساتھ نہ دیتے اور ان کی مدد نہ کرتے۔ تیسرے یہ کہ ان کا آپس میں باہمی رشتوں کا لین دین بھی تاریخ سے ثابت ہے۔ یہ سب باتیں اس بات پر قوی دلیل ہیں کہ ارتداد سے مراد وہ نہیں جو شیعہ حضرات کہتے ہیں اور نہ ہی سیدنا علی نے اسے ارتداد قرار دیا ہے۔
[97] مومنوں کے حق میں نرم دل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قوت مسلمانوں کو دبانے، ستانے یا نقصان پہچانے میں صرف نہیں ہوتی بلکہ وہ آپس میں نرم خو، رحم دل اور ایک دوسرے کے ہمدرد ہوتے ہیں اور کافر پر سخت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان کی پختگی، دیانتداری میں خلوص اور اصول کی مضبوطی سیرت و کردار اور ایمانی فراست مخالفین اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان ثابت ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کافروں سے بدمزاجی اور درشتی سے پیش آتے ہیں یا انہیں گالیاں دیتے ہیں یا جب انہیں دیکھتے ہیں تو ان کے چہرہ پر غصہ اور نفرت کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ مومنوں کا دامن ایسے اخلاق رذیلہ سے پاک ہوتا ہے اور ایسے مومنوں کی چوتھی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ مخالفین کے طعن و تشنیع، ان کے اعتراضات اور ان کی پھبتیوں کی مطلق پروا نہیں کرتے اور جادہ حق پر پورے عزم و استقلال کے ساتھ گامزن رہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ۱؎ [47-محمد:38] اور آیت میں ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ» ۱؎ [4-النساء:133] اور جگہ فرمایا «إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19]، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔
ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھر جانے کو۔ محمد بن کعب رحمة الله فرماتے ہیں ”یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔“ حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”خلافت صدیق رضی اللہ عنہ میں جو لوگ اسلام سے پھر گئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدہ دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں۔“
ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا { وہ اس کی قوم ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3368:صحیح]
جیسے فرمایا آیت «اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:29] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو۔
سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت «لاَحَولَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ» پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2166:صحیح]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { لوگوں کی ہیبت میں آ کر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کر سکتا ہے، نہ رزق کو دور کر سکتا ہے } }۔ ملاحظہ ہو امام احمد رحمة الله کی مسند۔ ۱؎ [مسند احمد:87/3:ضعیف]
فرماتے ہیں { خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہو جانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی بازپرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہو گیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، ’ میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا ‘ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4008،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ ’ تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں؟ ‘ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہے گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا } [ابن ماجہ] ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک اور صحیح حدیث میں ہے { { مومن کو نہ چاہیئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا، یہ کس طرح؟ فرمایا: { ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4016،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ’ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے ‘۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے؟
یہ بالکل غلط ہے، اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہو جائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آ گیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، ۱؎ [ضعیف]
«وَالَّذِينَ آمَنُوا» سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔
ٹھیک وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ سب آیتیں عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان دار لوگوں کی دوستی پر راضی ہوگئے، اسی لئے ان تمام آیتوں کے آخر میں فرمان ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور با ایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔
جیسے فرمان باری ہے آیت «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ [58-المجادلة:21-22] یعنی ’ اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے ‘۔
پس جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہو جائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لیے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه الغني عن العالمين، وأنه من يرتدَّ عن دِينِه؛ فلن يضرَّ الله شيئاً، وإنما يضرُّ نفسه، وأنَّ لله عباداً مخلصين ورجالاً صادقين قد تكفَّل الرحمن الرحيم بهدايتهم ووعد بالإتيان بهم، وأنهم أكمل الخلق أوصافاً وأقواهم نفوساً وأحسنُهم أخلاقاً:
أجلُّ صفاتهم أنَّ الله {يحبُّهم ويحبُّونه}؛ فإنَّ محبَّة الله للعبد هي أجلُّ نعمة أنعم بها عليه وأفضل فضيلة تفضَّل الله بها عليه، وإذا أحبَّ الله عبداً؛ يسَّرَ له الأسباب، وهوَّن عليه كلَّ عسيرٍ، ووفَّقه لفعل الخيرات وترك المنكرات، وأقبل بقلوب عبادِهِ إليه بالمحبَّة والوداد. ومن لوازم محبَّة العبد لربه أنَّه لا بدَّ أن يتَّصف بمتابعة الرسول - صلى الله عليه وسلم - ظاهراً وباطناً في أقواله وأعماله وجميع أحواله؛ كما قال تعالى: {قُلْ إن كُنتم تحبُّونَ الله فاتَّبعوني يُحْبِبْكُمُ الله}، كما أنَّ من لوازم محبَّة الله للعبد أن يكثر العبد من التقرُّب إلى الله بالفرائض والنوافل؛ كما قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - في الحديث الصحيح عن الله: «وما تقرَّبَ إليَّ عبدي بشيءٍ أحبَّ إليَّ مما افترضت عليه، ولا يزال عبدي يتقرَّب إليَّ بالنوافل حتى أحبَّه؛ فإذا أحببتُهُ؛ كنتُ سمعه الذي يسمعُ به، وبصرَه الذي يبصِرُ به، ويَدَهُ التي يبطِش بها. ورجلَه التي يمشي بها، ولئن سألني؛ لأعطينَّه، ولئن استعاذني؛ لأعيذنَّه».
ومن لوازم محبة الله معرفتُه تعالى والإكثار من ذكره؛ فإن المحبة بدون معرفة بالله ناقصة جدًّا، بل غير موجودة، وإن وجدت دعواها، ومن أحبَّ اللهَ؛ أكثر من ذكرِهِ، وإذا أحبَّ اللهُ عبداً؛ قبل منه اليسير من العمل، وغفر له الكثير من الزلل.
ومن صفاتهم أنهم: {أذلَّةٍ على المؤمنين أعزَّةٍ على الكافرين}؛ فهم للمؤمنين أذلَّة من محبتهم لهم ونُصحهم لهم ولينهم ورِفْقهم ورأفَتِهم ورحْمَتِهم بهم وسهولة جانبهم وقرب الشيء الذي يُطلب منهم، وعلى الكافرين بالله المعاندين لآياته المكذِّبين لرسُلِهِ أعزَّة، قد اجتمعت هممهم وعزائمهم على معاداتهم، وبذلوا جهدهم في كل سبب يحصل به الانتصار عليهم: قال تعالى: {وأعِدُّوا لهم ما استطعتُم من قُوَّةٍ ومن رِباط الخيل تُرهبونَ به عدَّو الله وعدوَّكم}. وقال تعالى: {أشدَّاء على الكفار رحماءُ بينَهم}؛ فالغِلْظة الشديدة على أعداء الله مما يقرِّب العبد إلى الله ويوافِقُ العبد ربّه في سخطه عليهم، ولا تمنع الغِلْظة عليهم والشدة دعوتَهم إلى الدين الإسلامي بالتي هي أحسن، فتجتمع الغلظة عليهم واللين في دعوتهم، وكلا الأمرين من مصلحتهم، ونفعه عائدٌ إليهم.
{يجاهدون في سبيل الله}: بأموالهم وأنفسهم بأقوالهم، وأفعالهم. {ولا يخافونَ لومة لائم}: بل يقدِّمون رضا ربِّهم والخوف من لومه على لوم المخلوقين، وهذا يدل على قوة هممهم وعزائمهم؛ فإن ضعيف القلب، ضعيف الهمة، تنتقض عزيمته عند لوم اللائمين، وتفْتُر قوتُه عند عذل العاذلين، وفي قلوبهم تعبُّدٌ لغير الله، بحسب ما فيها من مراعاة الخلق، وتقديم رضاهم ولومهم على أمر الله؛ فلا يسلم القلبُ من التعبُّد لغير الله، حتى لا يخاف في الله لومة لائم.
ولما مدحهم تعالى بما منَّ به عليهم من الصفات الجميلة والمناقب العالية المستلزمة لما لم يذكر من أفعال الخير؛ أخبر أنَّ هذا من فضله عليهم وإحسانه؛ لئلا يُعجَبوا بأنفسهم، وليشكروا الذي منَّ عليهم بذلك؛ ليزيدهم من فضله، وليعلم غيرهم أنَّ فضل الله تعالى ليس عليه حجاب، فقال: {ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله واسع عليم}؛ أي: واسع الفضل والإحسان، جزيل المنن، قد عمَّت رحمته كلَّ شيء، ويوسِّع على أوليائه من فضله ما لا يكون لغيرهم، ولكنه عليمٌ بمن يستحقُّ الفضل فيعطيه؛ فالله أعلم حيث يجعل رسالته أصلاً وفرعاً.